ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو جنگ اور امن کے روایتی تصورات کے ذریعے سمجھنا اب زیادہ کارآمد نہیں رہا۔ آج خلیج فارس، بحیرۂ عمان، جزیرۂ عرب کے جنوبی ساحلی علاقوں اور خطے میں موجود اتحادی قوتوں کے نیٹ ورک کے درمیان جو صورتحال جاری ہے، وہ کسی کھلی جنگ یا پائیدار امن سے زیادہ ایک مسلسل، کثیرالجہتی اور معلق نوعیت کی کشمکش ہے؛ ایسی صورتحال جس میں فریقین بیک وقت ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے، اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لینے، تزویراتی پیغامات ارسال کرنے اور اس سطح تک جانے سے گریز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں اس کے اخراجات ان کی برداشت کی صلاحیت سے تجاوز کر جائیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس تصادم کے دونوں میں سے کوئی بھی فریق دوسرے پر ایسی فیصلہ کن اور ناقابلِ واپسی شکست مسلط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایسی صورتحال میں فوجی ذرائع کو حتمی حل کے طور پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو منظم کرنے، فریقِ مخالف کے ادراک کو متاثر کرنے اور اپنی مذاکراتی پوزیشن برقرار رکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، طاقت بحران کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک تھکا دینے والی کشمکش کی صورت میں دوبارہ پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے موجودہ صورتحال کی مرکزی حقیقت سمجھنا چاہیے؛ یعنی تنازع کو ختم کرنے میں ناکامی خود کشیدگی کے تسلسل کا محرک بن گئی ہے۔تزویراتی نقطۂ نظر سے یہ صورتحال محض ایک سادہ تعطل نہیں بلکہ ایک نامکمل باہمی روک تھام کی کیفیت ہے۔ امریکہ کو تکنیکی برتری، فوجی اڈوں کے نیٹ ورک، دور مار حملہ کرنے کی صلاحیت اور اپنے اتحادیوں کو متحرک کرنے کی طاقت حاصل ہے، لیکن یہ برتری لازماً اس بات کا مطلب نہیں کہ وہ اپنے حتمی سیاسی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اگرچہ بڑے پیمانے پر خلل پیدا کرنے، مخالف کو تھکانے، توانائی کے راستوں کو غیر محفوظ بنانے اور اطرافی محاذوں کو فعال کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن یہ صلاحیت بھی بذاتِ خود کسی فیصلہ کن ضرب لگانے کی ضمانت نہیں ہے۔لہٰذا دونوں فریق ایک دوسرے کے لیے اخراجات اور مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی آسانی سے اس صورتحال کا حتمی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں ہے؛ یہ گزرگاہ اب طاقت کی ایک نئی شکل کو جانچنے کے لیے ایک پیمانے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جو بھی فریق اس اہم گزرگاہ کے امن یا عدمِ تحفظ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ عملی طور پر توانائی کی منڈی، خلیجی عرب ممالک کے طرزِ عمل اور حتیٰ کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کے حساب کتاب کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اسی لیے آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری راستہ نہیں رہی؛ بلکہ یہ ایک ایسا میدان بن چکی ہے جہاں فوجی طاقت، اقتصادی کمزوریاں اور سیاسی ساکھ ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں، اور یہی خصوصیت اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اس خطے میں کوئی بھی محدود کشیدگی اپنے اردگرد کے ماحول سے کہیں زیادہ وسیع اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں ایک اہم نکتہ علاقائی اتحادیوں کے کردار کی کمزوری ہے۔ بظاہر صف بندیاں واضح ہیں، لیکن عملی طور پر خلیج فارس کے بہت سے عرب ممالک امریکہ کی سکیورٹی حمایت کی ضرورت اور ایران کی جوابی کارروائی کا میدان بننے کے خوف کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہیں، ساحلی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورک اور پانی کے اہم وسائل ایسے اہداف ہیں جو تنازع کے پھیلنے کی صورت میں تیزی سے نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے واشنگٹن کے حتیٰ کہ سب سے زیادہ ہم خیال شراکت دار بھی لازماً ایسی سطح کی محاذ آرائی کی حمایت کرنے کے خواہاں نہیں ہیں جو ایک وسیع جنگ کا باعث بن جائے۔ یہ تذبذب سیاسی دباؤ کو ایک وسیع اور طویل المدت کارروائی میں تبدیل کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ ایسی صورتحال میں عارضی معاہدے، محدود مفاہمتیں اور مہلت کے طریقۂ کار اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ انتظامات نہ حقیقی مفاہمت کی علامت ہیں اور نہ ہی بنیادی اختلافات کے حل کا نتیجہ؛ بلکہ زیادہ تر وقت حاصل کرنے، دباؤ کم کرنے اور صورتحال کو دوبارہ ترتیب دینے کے ذرائع ہیں۔ جب بھی مرکزی فریقوں یا علاقائی شراکت داروں کے لیے کشیدگی جاری رکھنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو ایک مختصر وقفہ یا تنازع کے دوبارہ انتظام کی کیفیت سامنے آتی ہے۔ ان وقفوں کو امن نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ زیادہ تر ایک طویل المدت کشمکش کے دوران آنے والے وقفوں کی مانند ہوتے ہیں تاکہ فریقین کچھ وقت کے لیے خود کو سنبھال سکیں، اپنے وسائل کو بحال کر سکیں اور اپنی آئندہ حکمتِ عملی کو ازسرنو متعین کر سکیں۔ جنگی مطالعات کے نقطۂ نظر سے، یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فیصلہ کن فتح پر مبنی جنگوں سے ایسی کشمکشوں کی طرف منتقلی ہو رہی ہے جن میں ’’حتمی غلب‘‘ کی جگہ’’برداشت اور استقامت‘‘ اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ اس طرزِ جنگ میں وہ فریق جو زیادہ دیر تک قائم رہ سکے، اپنا بیانیہ برقرار رکھ سکے، اخراجات کو تقسیم کر سکے اور اپنی کمزوریوں کو بہتر انداز میں سنبھال سکے، ضروری نہیں کہ وہ مکمل فتح حاصل کرے، لیکن اسے برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ کامیابی کا معیار اب صرف علاقے پر قبضہ یا دشمن کی افواج کو تباہ کرنا نہیں رہا، بلکہ سیاسی اتحاد کو برقرار رکھنے، بنیادی نظاموں کے تحفظ اور بحران کی سطح کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
اس تصادم کا ایک اور تزویراتی پہلو میدانِ جنگ میں سیکھنے کا عمل ہے۔ ہر دور کی کشیدگی صرف وسائل کے استعمال کا عمل نہیں ہوتی بلکہ یہ باہمی سیکھنے کا ایک مرحلہ بھی ہوتی ہے۔ جو ذرائع ایک مرحلے میں مؤثر دکھائی دیتے ہیں، ممکن ہے اگلے مرحلے میں کم خرچ یا زیادہ درست جوابی اقدامات کے ذریعے غیر مؤثر بنا دیے جائیں۔ اسی وجہ سے ماضی کی کامیابیوں پر انحصار گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی فریق یہ تصور کرے کہ صرف اپنی حملہ آور صلاحیت میں مقداری اضافہ کر کے وہ ماضی کے نتائج کو بڑے پیمانے پر دوبارہ حاصل کر لے گا، تو ممکن ہے وہ مخالف فریق کی دفاعی صلاحیت، خلل ڈالنے کے طریقوں، روک تھام اور عملیاتی مطابقت پیدا کرنے کے شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے غافل ہو جائے۔ تنازعات کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف ہتھیاروں کا ذخیرہ، فکر اور تنظیمی ارتقا کے بغیر، برتری کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس تنازع کا ایک اور پہلو ناقابلِ تصور سمجھے جانے والے واقعات کے دائرے کا وسیع ہونا ہے۔ جدید تنازعات عموماً ’’ناممکن‘‘ سمجھی جانے والی سابقہ سرحدوں کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ وہ واقعات جنہیں کبھی مکمل سرخ لکیر سمجھا جاتا تھا، مخصوص حالات میں حقیقت بن جاتے ہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد فریقین کے پورے حساب کتاب کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان حدود کی تبدیلی کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ خوف، بازدارندگی اور احتیاط اب ماضی کی بنیادوں پر کام نہیں کریں گے۔ جب فریقین یہ محسوس کریں کہ اہم شخصیات کا خاتمہ، حساس تنصیبات کو نقصان پہنچانا یا اہم گزرگاہوں میں خلل ڈالنا محض ایک مفروضہ نہیں رہا، تو خطے کا سکیورٹی ڈھانچہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں دائمی عدمِ استحکام مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کے داخلے نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مستقبل کا میدانِ جنگ غالباً بھاری ہتھیاروں کے روایتی ارتکاز کے بجائے حجم، رفتار، معلومات، نگرانی، خودکار نظاموں اور لمحہ بہ لمحہ فیصلہ سازی کے امتزاج پر زیادہ انحصار کرے گا۔ یہ تبدیلی بڑی طاقتوں کے حق میں بھی جا سکتی ہے اور ان قوتوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جو زیادہ لچک، پھیلاؤ اور کم اخراجات کی حامل ہوں۔ لہٰذا مستقبل کے تنازعات کا انحصار صرف اسلحے کے ذخیرے پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت، قیادت کے معیار، میدانِ جنگ اور سیاست کے درمیان ہم آہنگی، اور ٹیکنالوجی کو عملی برتری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پر بھی ہوگا۔ تحلیلی نقطۂ نظر سے شاید سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ خطہ اب ’’ لامتناہی بحران ‘‘ کے دور میں داخل ہو چکا ہے؛ ایسا بحران جس میں نہ مکمل تباہ کن تصادم ناگزیر ہے اور نہ ہی پائیدار امن آسانی سے دستیاب ہے۔ یہ صورتحال فیصلہ سازوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ حتمی حل تلاش کرنے کے بجائے خطرات کو مختلف سطحوں پر منظم کرنے کے بارے میں سوچیں۔ خطے کے ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ یہ نہیں کہ وہ جلد بازی میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی حفاظتی صلاحیتوں کو مضبوط کریں، بنیادی ڈھانچے کے خطرات کو کم کریں، اقتصادی راستوں میں تنوع پیدا کریں اور بحران کے وقت رابطے کے ذرائع کو فروغ دیں۔ جتنا زیادہ یہ ممالک دوسروں کے تصادم کا میدان بننے سے بچیں گے، اتنا ہی ان کے محفوظ اور خودمختار وجود کے امکانات بڑھیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بھی بنیادی سوال یہ نہیں کہ وہ محض اپنے ردعمل کی شدت میں کیسے اضافہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس طرح دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرے، بغیر اس کے کہ وہ ایک نہ ختم ہونے والی تھکا دینے والی کشمکش میں پھنس جائے۔ اسی طرح امریکہ کے لیے بھی بنیادی چیلنج یہ ہے کہ کیا وہ طاقت کے اظہار اور سیاسی نتائج کے حصول کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے یا پھر وہ اسی چکر میں گرفتار رہے گا جس میں فوجی حملے تو کیے جاتے ہیں لیکن بنیادی تزویراتی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں اگر دونوں فریق فوجی اقدامات اور ان کے سیاسی نتائج کے درمیان موجود فاصلے کو نظر انداز کرتے ہیں تو وہ عملی طور پر اسی صورتحال کو برقرار رکھنے میں مدد دیں گے جسے بظاہر وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔الغرض ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازع نہ کسی مکمل جنگ کا سادہ پیش خیمہ ہے اور نہ ہی استحکام کی جانب پیش رفت کی علامت۔ یہ کشمکش کی ایک نئی شکل کی نمائندگی کرتا ہے جس میں طاقت بحران کے خاتمے کے لیے کافی نہیں، لیکن اسے برقرار رکھنے کے لیے ضرور کافی ہے۔ اسی وجہ سے خطے کا مستقبل غالباً کسی ایک فیصلہ کن جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ کشیدگی میں اضافے، عارضی وقفوں، نئی صف بندیوں اور باہمی آزمائشوں کے ایک سلسلے کے ذریعے تشکیل پائے گا۔ جو بھی اس صورتحال کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے فوری فتح کی منطق سے آگے بڑھ کر تھکن پر مبنی کشمکش، نامکمل روک تھام اور ساختی عدمِ تحفظ کی منطق کو سمجھنا ہوگا؛ کیونکہ اگلی جنگ میدان میں شروع ہونے سے پہلے اسی نامکمل بحران کے ڈھانچے میں تشکیل پا رہی ہے۔مگر یہ بھی ممکن ہے کہ فریقین میں سے کوئی ایک ایسا غیر متوقع قدم اٹھائے جو موجودہ کشمکش کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔










