بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

ایران پر جارحیت؛ سیرتِ نبوی سے مزاحمت اور امن کا درس

ایران پر جارحیت؛ سیرتِ نبوی سے مزاحمت اور امن کا درس

ڈاکٹر مہدی طاہری



موجودہ حالات میں، خصوصاً ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ اور جارحیت کے تناظر میں، یہ سوال کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ردِعمل کیا ہوتا، ایک بنیادی اور نہایت اہم سوال ہے۔ اگر حقیقتاً آج پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ایک اسلامی ملک کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے مقابلے میں آپ(ص) کا طرزِ عمل کیا ہوتا؟

اس سوال کے جواب کے حصول کے لیے ہمیں قرآن کریم اور پیغمبر اعظم (ص) کی عملی سیرت کی طرف رجوع کرنا ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (سورۂ احزاب، آیت ۲۱)ترجمہ  ’’: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ  (ص) کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے ‘‘

۱۔ دفاعِ مشروع؛ قرآن و سیرتِ نبوی (ص) کا بنیادی اصول

دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں سیرتِ نبوی (ص) سے جو پہلا اصول سامنے آتا ہے، وہ ظلم کے خلاف دفاعِ مشروع اور فیصلہ کن مزاحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ»(سورۂ حج: ۳۹) یعنی: ’’جن لوگوں کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، انہیں اس لیے دفاع کی اجازت دی گئی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔‘‘ پیغمبر اکرم(ص) نے مکہ مکرمہ میں کئی سال تک مشرکین کی جانب سے دی جانے والی اذیت اور ظلم و ستم کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ لیکن جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ قائم ہوگیا اور دشمنوں نے اسے ختم کرنے کے لیے لشکر کشی کی تو آپ (ص)  نے پوری قوت کے ساتھ دفاع کا عزم کیا۔ لہٰذا موجودہ حالات میں، جب اسلامی ایران کو فوجی خطرات، ظالمانہ پابندیوں اور مختلف نوعیت کی جنگ کا سامنا ہے، پیغمبرِ رحمت (ص)  کسی مسلمان قوم کو جارحیت کے مقابلے میں بے عملی اختیار کرنے کی اجازت نہ دیتے، بلکہ ملکی سالمیت، آزادی، خودمختاری اور اسلامی عزت و وقار کے دفاع کو ضروری سمجھتے۔

۲۔ دشمنوں کے اتحاد کے مقابلے میں مزاحمت؛ جنگِ احزاب سے سبق

اسلامی تاریخ میں جنگِ احزاب (خندق) دشمنوں کے ایک ایسے اتحاد کے مقابلے میں مزاحمت کی نمایاں مثال ہے، جو اسلام کو ختم کرنے کے مقصد سے اکٹھا ہوا تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) نے تدبر، مشاورت اور مسلمانوں کی دفاعی و روحانی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس اتحاد کا مقابلہ کیا اور ہرگز پیچھے نہیں ہٹے۔ آج بھی اسلامی ایران کو ایسی طاقتوں کے اتحاد کا سامنا ہے جو زیادہ سے زیادہ دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم و ارادے کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت ہمیں دانشمندانہ مزاحمت، ہمہ گیر دفاعی تیاری، جذبۂ جہاد و ایثار کو مضبوط بنانے اور خوف و تسلیم کے بجائے استقامت کا درس دیتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے«:وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ» (سورۂ انفال: ۶۰) یعنی:’’اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے، قوت تیار رکھو۔‘‘ پیغمبر اکرم (ص)  ہمیشہ مذاکرے اور امن کے حامی رہے، لیکن ایسا امن جو عزت، انصاف اور باہمی احترام پر قائم ہو، نہ کہ ایسا سمجھوتا جس کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا اپنے جائز حق سے دستبردار ہونا ہو۔ صلحِ حدیبیہ پیغمبر اکرم (ص)  کی دانشمندانہ سفارت کاری کی ایک روشن مثال ہے۔ اس معاہدے میں بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے غیر مساوی تھیں، لیکن آپ (ص)  نے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے اور بنیادی مقاصد کو محفوظ رکھا۔ لہٰذا موجودہ حالات میں اگر امریکہ اور اسرائیل طاقت کے بل پر مذاکرات کرنا اور اپنی ظالمانہ شرائط مسلط کرنا چاہتے ہوں تو پیغمبر اسلام (ص)  کبھی ایسی ذلت آمیز شرائط قبول نہ کرتے۔ تاہم اگر دوسرا فریق حقیقی طور پر امن اور کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہو تو قرآن کریم واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے: «وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ» (سورۂ انفال: ۶۱) یعنی’’: اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسا رکھو۔‘‘

۴۔ جنگ کے اخلاقی اصول؛ اسلام اور جرائم پیشہ رویّے میں فرق

جنگ کے دوران پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت کا ایک نہایت اہم پہلو اخلاقی اصولوں کی پابندی اور جنگی جرائم سے اجتناب ہے۔ آپ (ص)  نے متعدد مواقع پر اپنے سپاہیوں کو ہدایت فرمائی کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں اور عام شہریوں کو قتل نہ کیا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، کھیتوں کو نہ جلایا جائے اور قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ آج غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے ہسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی مکانات پر بمباری اور ہزاروں عام شہریوں کا قتل پیغمبر اکرم (ص)  کی ان تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ ایسے جرائم کے مقابلے میں پیغمبر اکرم(ص) کا طرزِ عمل واضح اور دوٹوک مذمت، ظالموں کے کردار کو بے نقاب کرنا اور مظلوموں کی بھرپور حمایت ہوتا۔ پیغمبر اکرم (ص)  کبھی بے گناہ انسانوں کے قتل پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔ آج بھی امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ اور بے گناہوں کے قتل کی مذمت کے لیے متحد اور مؤثر آواز بلند کرے۔

۵۔ اسلامی وحدت؛ مشترکہ دشمن کے مقابلے میں اصل قوت

پیغمبر اکرم (ص)  دشمنوں کے خطرات اور چیلنجز کے مقابلے میں ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد، اخوت اور باہمی یکجہتی پر زور دیتے تھے۔ آپ (ص)  نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا اور قبائلی اختلافات کو اسلامی بھائی چارے اور باہمی اتحاد میں بدل دیا۔ قرآن کریم بھی ارشاد فرماتا ہے: « وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» (سورۂ آلِ عمران: ۱۰۳) یعنی: ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ موجودہ حالات میں ایران اور بہت سی اسلامی اقوام کے سامنے مشترکہ چیلنج امریکی استکباری طاقت اور اسرائیلی حکومت کی صورت میں موجود ہے۔ ایسے حالات میں پیغمبر اکرم (ص)  کا طرزِ عمل تمام مسلمانوں کو ایک صف میں متحد ہونے کی دعوت دینا ہوتا، جہاں مذہبی، مسلکی اور قومی اختلافات پسِ پشت ڈال کر اسلامی اخوت اور یکجہتی کو ترجیح دی جاتی۔ اسلامی ایران، جو مزاحمت کا علمبردار ہے، اس اتحاد کا ایک محور بن سکتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان، پاکستان سے لے کر لبنان، یمن، عراق اور شام تک، ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔

۶۔ فلسطین کے مظلوموں کی حمایت؛ رسالتِ نبوی (ص)  اور مزاحمت کا رشتہ

فلسطین کا مسئلہ عالمِ اسلام کا ایک دیرینہ زخم ہے۔ پیغمبر اکرم (ص)  ہمیشہ مظلوموں اور کمزوروں کے حامی اور ظالموں کے مخالف رہے۔ فلسطینی عوام کی اسرائیلی قبضے اور غاصبانہ تسلط کے خلاف جدوجہد اسی اصول سے ہم آہنگ ہے جسے پیغمبر اکرم (ص)  نے مظلوموں کے حقوق کے دفاع اور ظلم کے مقابلے میں قیام کی صورت میں پیش کیا۔ لہٰذا اگر پیغمبر اکرم (ص)   آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو فلسطین اور لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت کرنے والوں میں سب سے آگے ہوتے اور قابض قوتوں کے ساتھ ایسا سمجھوتا جو مظلوموں کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرے، اسلامی اصولوں اور مظلوموں کے حقوق سے خیانت تصور کرتے۔

۷۔ اللہ کی نصرت پر امید؛ استقامت کا راز

غزوۂ احزاب کے انتہائی سخت اور نازک حالات میں بھی پیغمبر اکرم (ص)   مسلمانوں کو امید دلاتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت پر یقین رکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:«وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا»(سورۂ احزاب: ۲۲)

یعنی’’: اور جب اہلِ ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو کہا: یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ اور اس سے ان کے ایمان اور اللہ کے سامنے ان کے تسلیم و رضا میں مزید اضافہ ہی ہوا۔‘‘ آج بھی اگرچہ دباؤ اور خطرات شدید ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ برقرار ہے:«إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ»(سورۂ محمد: ۷)یعنی ’’ :اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘ ایرانی قوم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، دفاعِ مقدس کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق اور اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس مشکل آزمائش سے سرخرو ہو کر نکل سکتی ہے۔

اختتامی کلمات

موجودہ حالات میں پیغمبر اکرم(ص) کا طرزِ عمل نہ تو بے عملی اور تسلیم ہوتا اور نہ ہی بے مقصد اور غیر منطقی مہم جوئی؛ بلکہ آپ(ص) کی حکمتِ عملی پُرعزم مزاحمت، اخلاق پسندی، باوقار سفارت کاری، اتحاد و یکجہتی اور اللہ کی نصرت پر امید کا حسین امتزاج ہوتی۔ اسلامی ایران قرآن کریم کی تعلیمات اور سیرتِ نبوی (ص) سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے آج عالمی استکبار اور صہیونیت کے مقابلے میں مزاحمت کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔اس حساس مرحلے میں تمام مسلمانوں، بالخصوص ایران اور پاکستان کی اقوام پر لازم ہے کہ وہ اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور مشترکہ دشمن کو اپنے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص)  نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ» یعنی: ’’مومن آپس کی محبت اور رحمت میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس کی تکلیف سے بے چین اور بیدار ہو جاتا ہے۔‘‘ صرف اتحاد، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے سائے میں ہی امتِ مسلمہ اس مشکل مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزر سکتی ہے اور فتح کی صبح طلوع ہوتی دیکھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر مہدی طاہری 24
Advertisement
Advertisement

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر، 100 روپے کا ریلیف کچھ سہولت دے گا: مصدق ملک

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کمی

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حتمی فیصلہ آج متوقع

سعودی عرب کے متعدد شہروں میں حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ، ہنگامی الرٹ جاری

نیکی کا پھل

پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت متعدد نامزد

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
ڈاکٹر مہدی طاہری کے دیگر کالمز
پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک

پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک

63
×