ایران محض ایک موجودہ ریاست نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیبی اور سیاسی تسلسل ہے، اس لیے یہ سوال کہ ایران نے کتنی جنگیں لڑی ہیں، ایک سادہ عدد میں جواب نہیں دیا جاسکتا۔ اگر قدیم فارسی سلطنتوں، ساسانی دور، صفوی سلطنت، قاجار دور، پہلوی ریاست اور 1979 کے بعد اسلامی جمہوریہ کو ایک تاریخی سلسلے میں شمار کیا جائے تو جنگوں اور تنازعات کی تعداد بہت زیادہ بنتی ہے۔ موجودہ ایران کی ریاستی تاریخ تک محدود رکھا جائے تو بھی ایران نے روس، برطانیہ، عثمانی قوتوں، افغانستان، عراق، امریکہ اور علاقائی مخالفین کے ساتھ متعدد بڑی جنگیں اور مسلح تنازعات دیکھے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ ایک جیسا نہیں تھا۔ ایران نے بعض معرکوں میں کامیابی حاصل کی، بعض میں شکست کھائی، بعض جنگوں میں کوئی فیصلہ کن فاتح سامنے نہیں آیا اور بعض مواقع پر عسکری شکست کے باوجود سیاسی یا تہذیبی بقا کو اپنی کامیابی سمجھا۔
اسلامی دور کے بعد صفوی ریاست نے ایران کو دوبارہ ایک مضبوط سیاسی مرکز بنایا اور عثمانی سلطنت کے ساتھ طویل جنگیں ہوئیں۔ دونوں طاقتیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی اثر و رسوخ کے لیے لڑتی رہیں۔ صفوی ایران نے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور بعض علاقوں سے محروم ہوا، جبکہ چالدران کی جنگ میں 1514 میں عثمانیوں نے شاہ اسماعیل صفوی کو شکست دی۔ اس شکست کے باوجود صفوی ریاست ختم نہیں ہوئی بلکہ کئی دہائیوں تک ایک بڑی علاقائی طاقت رہی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک جنگ کا نتیجہ پوری ریاست کی طاقت کا حتمی پیمانہ نہیں ہوتا۔
قاجار دور میں ایران کو روسی سلطنت کے مقابلے میں شدید نقصانات اٹھانا پڑے۔ 1804 سے 1813 اور پھر 1826 سے 1828 کی روس فارسی جنگوں میں ایران کو شکست ہوئی اور گلستان اور ترکمانچائے کے معاہدوں کے ذریعے قفقاز کے وسیع علاقے روس کے پاس چلے گئے۔ یہ ایران کی جدید تاریخ کی اہم ترین علاقائی شکستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس دور نے ایرانی سیاسی شعور پر گہرا اثر ڈالا اور یہ احساس پیدا کیا کہ جدید فوجی تنظیم، صنعتی طاقت اور ریاستی اصلاح کے بغیر بڑی طاقتوں کا مقابلہ مشکل ہے۔
1941 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر حملہ کرکے اس کے بڑے حصوں پر قبضہ کرلیا۔ یہ بھی ایران کی عسکری شکست تھی، اگرچہ بعد میں اتحادیوں کے انخلا اور ایرانی خودمختاری کی بحالی نے ریاستی تسلسل برقرار رکھا۔ اس واقعے نے ایرانی قومی حافظے میں بیرونی طاقتوں کے بارے میں شک پیدا کیا، جو بعد کی سیاست اور امریکہ مخالف جذبات کو سمجھنے میں اہم ہے۔
1979 کے انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات بنیادی طور پر بدل گئے۔ امریکی سفارت خانے کا بحران، پابندیاں اور باہمی عدم اعتماد ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوئے، مگر دونوں ریاستوں کے درمیان طویل عرصے تک براہ راست مکمل جنگ نہیں ہوئی۔ اصل بڑی جنگ ایران عراق جنگ تھی، جو 1980 سے 1988 تک جاری رہی۔ صدام حسین کی حکومت نے ایران کے خلاف حملہ کیا، مگر ابتدائی عراقی پیش قدمی رک گئی اور ایران نے اپنے علاقے کا بڑا حصہ واپس حاصل کرلیا۔ بعد میں جنگ سرحدوں سے آگے بڑھی، خلیج میں بحری تصادم ہوئے اور دونوں طرف شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔ 1988 میں جنگ بندی ہوئی اور کوئی فریق ایسا فیصلہ کن فاتح نہیں تھا جو دوسرے پر اپنی سیاسی شرائط مسلط کرسکتا۔ ایران کے لیے یہ جنگ بیک وقت دفاعی مزاحمت، انسانی تباہی اور معاشی نقصان کی تاریخ ہے۔
موجودہ امریکی ایرانی کشمکش اسی تاریخی پس منظر میں نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کے ساتھ براہ راست جنگ ہوئی، جس میں ایرانی قیادت اور جوہری و فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ جون میں پاکستان کی ثالثی سے معاہدہ ہوا، مگر اس کے نفاذ پر اختلافات برقرار رہے۔ آج 2 ستمبر 2026 کو دوبارہ شدید حملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی حملوں میں ایرانی فضائی دفاع، ریڈار، بحری اثاثوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے اردن، عراق اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں؟ اس کا جواب ہاں یا نہیں میں دینا حقیقت کو سادہ بنادینا ہوگا۔ ایران کے اندر قوم پرستی موجود ہے، مگر حکومت کی سیاسی مقبولیت اور قومی وطن دوستی الگ الگ پیمانے ہیں۔ گمان کے جون2026 کے سروے میں ایران کے اندر 31 ہزار سے زیادہ جواب دہندگان شامل تھے۔ اس میں تقریباً 60 فیصد نے جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ کے کمزور ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ صرف تقریباً 24 فیصد نے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا۔ اسی سروے میں تقریباً 66 فیصد نے امریکہ کے خلاف عدم مفاہمت اور جنگ جاری رکھنے والے سرکاری نعرے کو مسترد کیا۔
لیکن اسی سروے میں ایک دوسرا رخ بھی سامنے آتا ہے۔ ایران میں قومی شناخت ریاستی نظام سے کہیں وسیع ہے۔ جنوری 2026 کے احتجاجی نعروں میں ایران زندہ باد کو تقریباً 94 فیصد قبولیت ملی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی حملے کی صورت میں ایرانی شہری اپنی حکومت سے اختلاف کے باوجود اپنے ملک کے دفاع اور قومی وقار کے احساس کو ترک نہیں کرتے۔ یہی وہ فرق ہے جسے بیرونی طاقتیں اکثر غلط سمجھتی ہیں۔ کسی حکومت کی مخالفت کا مطلب لازماً اپنے ملک کے خلاف ہونا نہیں، اور کسی بیرونی حملے کی مخالفت کا مطلب لازماً موجودہ حکومت کی مکمل حمایت بھی نہیں۔
گمان کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایرانی معاشرہ سیاسی طور پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ 2026 کے سروے میں تقریباً 47 فیصد افراد نے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی یا نظام کی تبدیلی کو تبدیلی کی شرط قرار دیا، جبکہ اسلامی انقلاب کے اصولوں اور رہبر کی حمایت کرنے والوں کا حصہ تقریباً 9 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح صرف تقریباً 13 فیصد نے اسلامی جمہوریہ کو اپنی ترجیحی سیاسی شکل قرار دیا۔ یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ریاستی اداروں اور قومی شناخت کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔
ایران کی جنگی تاریخ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں صرف ہتھیار کافی نہیں ہوتے۔ ریاستی اداروں کی مضبوطی، معاشی برداشت، قومی اتحاد، سفارت کاری اور عوامی اعتماد بھی دفاع کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایران نے روس کے ہاتھوں قفقاز کھویا، برطانیہ کے سامنے پسپائی اختیار کی، 1941 میں قبضہ برداشت کیا، مگر اپنی قومی شناخت کو محفوظ رکھا۔ ایران عراق جنگ میں اس نے حملہ برداشت کرکے اپنی سرزمین کا دفاع کیا، مگر آٹھ سال کی جنگ کے بعد اسے معلوم ہوا کہ مکمل عسکری فتح ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔
آج امریکہ اور ایران کے درمیان اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ میزائل، طیارے یا بحری طاقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ دیر تک سیاسی، معاشی اور قومی دباؤ برداشت کرسکتا ہے اور کون سفارتی راستہ نکال سکتا ہے۔ امریکہ کی عسکری برتری واضح ہے، مگر ایران کی جغرافیائی حیثیت، میزائل صلاحیت، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز پر اثراندازی اسے نظر انداز کرنا مشکل بناتی ہے۔ موجودہ جنگ میں ایران کو بڑے فوجی نقصانات پہنچے ہیں، لیکن وہ مکمل طور پر میدان سے باہر نہیں ہوا۔
ایران کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قوم کو شکست دینا اور اسے جھکانا دو مختلف باتیں ہیں۔ اس کی کئی ریاستیں جنگیں ہاری ہیں، علاقے کھوئے ہیں، بیرونی طاقتوں نے اس کی سیاست میں مداخلت کی ہے، مگر ایرانی تہذیب نے ہر دور میں نئی صورت اختیار کرکے خود کو زندہ رکھا۔ آج بھی یہی قوت ایران کی بڑی دفاعی حقیقت ہے۔ امریکہ کے لیے چیلنج صرف ایرانی فوج نہیں بلکہ ایک ایسی قومی شناخت ہے جو حکومت سے اختلاف کے باوجود بیرونی تسلط کو آسانی سے قبول نہیں کرتی۔ ایران کے لیے چیلنج بھی صرف امریکہ نہیں بلکہ اپنے عوام کا اعتماد، معاشی استحکام اور سیاسی مستقبل ہے۔ اگر تہران قومی وحدت کو عوامی رضامندی، بہتر حکمرانی اور سفارت کاری کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ موجودہ بحران سے مضبوط ہوکر نکل سکتا ہے، لیکن اگر جنگ داخلی ناراضی، معاشی بحران اور سیاسی جبر میں اضافہ کرتی گئی تو بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک مسئلہ اندرونی اعتماد کا بحران بن سکتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا؛ کبھی قومیں اپنی بقا، شناخت اور عوامی اعتماد کے ذریعے بھی فتح یا شکست کا تعین کرتی ہیں۔










