تحریر: محمد شہزاد بھٹی
پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں مگر ان کا سب سے زیادہ اور تباہ کن نشانہ پاکستان بن رہا ہے، اب ہر پاکستانی کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور اپنا قومی فریضہ نبھانا ہو گا، ہیٹ ویو سے بچاؤ اور شدید طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں زمین پر ہراول دستے کے طور پر درخت اگانا ہوں گے کیونکہ درخت لگانا جہاں ایک طرف ہماری اشد ضرورت ہے وہیں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے، اگر آج ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو اگلے چند سالوں میں پاکستان، بالخصوص پنجاب کا درجہ حرارت اس قدر بڑھ جائے گا کہ یہاں زندگی گزارنا محال اور اجیرن ہو جائے گا، درجہ حرارت میں اس خطرناک اضافے کی سب سے بڑی وجہ پرانے اور توصیف یافتہ درختوں کی بے دریغ کٹائی اور ان کی جگہ نئے پودے نہ لگانا ہے، عالمی ماحولیاتی اداروں اور محکمہ موسمیات پاکستان کی رپورٹس کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ہمارے جنوبی پنجاب کے اضلاع کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھ سکتا ہے جو انسانی برداشت سے باہر ہو گا، جس کی ہولناک جھلک آپ نے اس سال محسوس بھی کی ہو گی، یہ سب موسمیاتی غفلت اور درختوں سے دوری کا ہی بھیانک پیش خیمہ ہے کہ کبھی گرمیوں میں تپتی ہوئی شدید گرمی اور کبھی سردیوں میں ہڈیوں کو چیرتی سردی، کبھی خشک سالی کی صورت میں پانی کی بوند بوند کو ترسنا تو کبھی اچانک طوفانی بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کاریاں ہمارا مقدر بن رہی ہیں، ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باوجود حکومتی سطح پر طویل المدتی منصوبہ بندی کا شدید فقدان نظر آتا ہے اور ہم ہر آنے والے سال میں خود کو کسی نہ کسی موسمی عذاب کی طرف دھکیلتے چلے جا رہے ہیں، اس سنگین موسمی چیلنج سے نمٹنے کا واحد، سستا اور دیرپا حل صرف اور صرف درخت ہیں، جس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے "ستھرا پنجاب پروجیکٹ" کی شاندار کامیابی سے پورے صوبے کے شہروں اور دیہات کو صاف ستھرا بنا دیا ہے، بالکل اسی طرز پر اب وقت آ چکا ہے کہ وہ "اے گرین پروجیکٹ فار پنجاب" کا باقاعدہ آغاز کریں تاکہ پنجاب کو نہ صرف صاف ستھرا بلکہ سرسبز و شاداب بھی بنایا جا سکے، اس پروجیکٹ کے تحت تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں اور سڑکوں کے دونوں اطراف ہنگامی بنیادوں پر گھنے درخت لگائے جائیں کیونکہ درخت ہمارے اس سیارے کے حقیقی پھیپھڑے ہیں جو ہمیں آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ ٹھنڈی چھاؤں بھی عطا کرتے ہیں، فضا میں موجود زہریلی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سموگ کے زہریلے ذرات کو جذب کرتے ہیں، فضا کو صاف ستھرا رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام میں سب سے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، بارش برسانے کا بنیادی سبب بنتے ہیں اور زمینی کٹاؤ یا لینڈ سلائیڈنگ کے آگے ڈھال بن کر زمین کو بنجر ہونے سے بچاتے ہیں، درخت صرف انسانوں کی ہی نہیں بلکہ جانوروں، چرند پرند اور اس کائنات کی ہر ذی روح کی بنیادی ضرورت ہیں اور یہ بقائے حیات کی ضمانت ہیں، آج حکومتِ وقت کی جانب سے فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانے کے لیے کروڑوں روپے مالیت کی جدید اینٹی سموگ گنز خریدی جا رہی ہیں، اگر ہم بات کریں بہاولنگر سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فراہم کی جانے والی ان بڑی اور ہیوی ڈیوٹی اینٹی سموگ گنز کی تو ان کی مالیت چھ کروڑ روپے سے بھی زائد ہے، بلاشبہ یہ اینٹی سموگ گنز مشینیں وقتی اور ہنگامی طور پر فضا کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں مگر ان کے فوائد انتہائی محدود، عارضی اور مہنگے ہیں کیونکہ مشین بند ہوتے ہی آلودگی فوراً اپنی جگہ پر واپس آ جاتی ہے، اس کے برعکس شجرکاری ایک ایسا دائمی، سستا اور دیرپا حل ہے جو نہ صرف کروڑوں روپے کے ان مشینری اخراجات سے بچاتا ہے بلکہ قدرتی طریقے سے فضا کو ہمیشہ کے لیے صاف ستھرا رکھتا ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ پنجاب مريم نواز شریف صاحبہ سے پرزور اپیل ہے کہ اس گرین پروجیکٹ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا جائے، اس کے نفاذ کے لیے صوبائی سطح پر ایک خصوصی "مانیٹرنگ سیل" قائم کیا جائے جو اس پراجیکٹ پر عقابی نگاہ رکھے اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اعزازی شیلڈز اور انعامات سے نوازا جائے، اس کے علاوہ تمام سرکاری محکمے اپنی حدود میں بالخصوص دفاتر کی باؤنڈری وال کے اندر اور باہر لازمی پودے لگائیں، محکمہ جنگلات، ہائی وے اتھارٹی اور میونسپل کمیٹیاں اپنی نگرانی میں شجرکاری کو یقینی بنائیں، سی ای او ہیلتھ شہر اور گاؤں کی سطح پر تمام ہسپتالوں، بنیادی صحت مراکز، دیہی صحت مراکز اور ڈسپنسریوں کے عملے کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں جو عوام کو درختوں کے طبی و ماحولیاتی فوائد سے آگاہ کر کے شجرکاری پر آمادہ کریں، سی ای او ایجوکیشن پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کے طلباء کو جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اپنے طلباء کو ایک ایک پودا لانے کا پابند کریں تاکہ بغیر کسی اضافی لاگت کے لاکھوں مفت پودے اکٹھے ہو جائیں جنہیں طلباء اپنی نگرانی میں تعلیمی اداروں اور شہر کے دیگر حصوں میں پروان چڑھائیں، تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ ہر سڑک کے دونوں اطراف شجرکاری کریں بصورت دیگر ان کی رجسٹریشن فوری طور پر کینسل کر دی جائے، تمام زمینداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے رقبوں کے ساتھ گزرنے والے سرکاری پانی کے نالوں کے کنارے لازمی درخت لگائیں اور جو زمیندار اس حکم عدولی کا مرتکب ہو پٹواری کے ذریعے اس کا سرکاری پانی بند کر دیا جائے، محکمہ اوقاف کے توسط سے تمام مساجد کے آئمہ کرام اور علمائے دین کو خصوصی خطوط ارسال کیے جائیں تاکہ وہ جمعۃ المبارک کے خطبات اور مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے دینِ اسلام کی روشنی میں درخت لگانے کی فضیلت اور اہمیت کو اجاگر کریں اور کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز اس پورے پروجیکٹ کی خود فیلڈ میں جا کر نگرانی کریں اور پیش رفت کا جائزہ لیں، یاد رکھیے کہ شدید گرمی فیشن کے لیے ٹنڈ کروانے، سوئمنگ پول یا نہر میں ڈبکی لگانے سے ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کا واحد علاج صرف اور صرف درخت لگانا ہے کیونکہ ماحولیاتی اور سائنسی تحقیق کے مطابق نیم، پیپل اور بوھڑ کے گھنے درخت سب سے زیادہ آکسیجن خارج کرنے اور ماحول میں گہرا قدرتی ٹھہراؤ اور ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جہاں ایک صحت مند اور گھنا درخت لگ بھگ 10 ایئر کنڈیشنرز (ACs) کے برابر قدرتی ٹھنڈک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اوسطاً ایک بڑا سایہ دار درخت مقامی درجہ حرارت کو 7 سے 15 سینٹی گریڈ تک کم کر دیتا ہے جبکہ فائبر پلاسٹک یا ٹین کی چادر کے شیڈ کا سایہ صرف 1 سے 3 سینٹی گریڈ ہی درجہ حرارت کم کر پاتا ہے، وہیں ہم وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے مخلصانہ پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اس "اے گرین پروجیکٹ فار پنجاب" کی لانچنگ کا باقاعدہ اعلان کریں تاکہ اس اہم فلاحی مشن کا باضابطہ آغاز ہو سکے، کیونکہ ہمارا یہ فعال قدم نہ صرف پنجاب کو ماحولیاتی تباہی سے بچائے گا بلکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھی ہمیں بھرپور پذیرائی ملے گی کیونکہ پوری دنیا ایسے فلاحی و ماحولیاتی اقدامات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، لہٰذا آئیے ہم سب مل کر اپنے حصے کا دیا جلائیں اور اس عظیم قومی پروجیکٹ کا حصہ بنتے ہوئے اپنے شہر، صوبے اور پیارے وطن پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اگر ہو سکے تو اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی کچھ پودے خرید کر صدقہ جاریہ کے طور پر تقسیم کریں تاکہ یہ نیکی کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے، اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین











