بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

بھارت کا 5 اگست 2019 کا یک طرفہ فیصلہ: جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس پر اثرات

بھارت کا 5 اگست 2019 کا یک طرفہ فیصلہ: جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس پر اثرات

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کا فیصلہ محض ایک اندرونی آئینی ترمیمی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی سیاسی و دفاعی تاریخ کا ایک ایسا دُور رس موڑ تھا جس نے اس خطے کی جیو پولیٹکس، دفاعی توازن اور سفارتی تعلقات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس یک طرفہ قدم نے نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کی دہائیوں پر محیط قانونی و سیاسی حیثیت کو بدل دیا بلکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو ایک ایسے نقطہ انجماد پر پہنچا دیا جہاں سے کسی مثبت پیش رفت کی گنجائش تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔ جنوبی ایشیا، جو پہلے ہی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دیرینہ تنازعات کی وجہ سے دنیا کا حساس ترین خطہ شمار ہوتا تھا، اس فیصلے کے بعد مزید عدم استحکام اور غیر یقینی کی لپیٹ میں آ گیا۔اس فیصلے کے سائے میں سب سے پہلا اور شدید اثر پاک بھارت سفارتی تعلقات پر پڑا۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ترین سفارتی ردِعمل کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے مابین تاریخی طور پر کشیدہ تعلقات اس حد آ گئے کہ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاں سے اپنے ہائی کمشنرز کو واپس بلا لیا اور سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد کو نمایاں طور پر کم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی دوطرفہ تجارت جو اگرچہ پہلے بھی محدود تھی، مکمل طور پر معطل کر دی گئی۔ بس اور ریل سروسز سمیت دونوں ممالک کے درمیان تمام تر عوامی اور ثقافتی رابطے منقطع ہو گئے، جس نے دونوں ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان بات چیت کے تمام رواں ذرائع کو مسدود کر دیا۔ پاکستان نے واضح اور قطعی موقف اپنایا کہ جب تک بھارت 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو واپس نہیں لیتا اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال نہیں کرتا، اس وقت تک کسی قسم کا دوطرفہ مذاکراتی عمل ممکن نہیں ۔ یوں گزشتہ سات دہائیوں میں تمام تر جنگوں اور کشیدگیوں کے باوجود رابطے کے جو ذرائع موجود تھے وہ اس ایک فیصلے سے بیک جنبشِ قلم ختم ہو گئے۔بین الاقوامی اور قانونی تناظر میں 5 اگست کے اقدام نے اقوامِ متحدہ اور اس کی سیکیورٹی کونسل کی پیش کردہ حل کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقہ تسلیم کرتی ہیں جس کا حتمی فیصلہ وہاں کے عوام کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے۔ بھارتی اقدام نے ان بین الاقوامی وعدوں اور قراردادوں کی سرِعام نفی کرتے ہوئے کشمیر کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ اس خطرے کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان نے فوری طور پر اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا، جس کے نتیجے میں دہائیوں بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس منعقد ہوئے جن میں مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی۔ اگرچہ اس موضوع پر سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کوئی پابندی یا باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا لیکن اس نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے۔ عالمی حقوق کے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی بھارتی اقدام کے نتیجے میں وادی میں نافذ شدید ترین ملٹری محاصرے، انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے عالمی سطح پر بھارت کے نام نہاد جمہوری تشخص کو گہرا دھچکا پہنچا۔5 اگست کے فیصلے کا ایک سب سے اہم اور عسکری لحاظ سے نازک پہلو جنوبی ایشیا میں چین، بھارت اور پاکستان کے سہ فریقی علاقائی تناظر پر اس کے اثرات ہیں۔ بھارت نے نہ صرف آرٹیکل 370 ختم کیا بلکہ ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں یعنی 'جموں و کشمیر' اور 'لداخ' میں تقسیم کر کے انہیں براہِ راست مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں بدل دیا۔ بھارت کا لداخ کو جداگانہ مرکزی علاقہ بنانا چین کے لیے ایک براہِ راست چیلنج تھا، کیونکہ بھارت کے اس اقدام اور اس کے بعد بھارتی رہنماؤں کے بیانات جن میں اقصائے چن اور گلگت بلتستان پر بھی دعوے کیے گئے، نے بیجنگ کو چوکنا کر دیا۔ چین، جو اقصائے چن کے علاقے پر اپنا اختیار رکھتا ہے اور سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے تحت گلگت بلتستان کے خطے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، نے بھارتی قدم کو اپنی sovereignty اور مفادات پر حملہ تصور کیا۔نتیجتاً اس جغرافیائی و سیاسی چیلنج کا ردِعمل مئی 2020 میں وادیِ گالوان میں چین اور بھارت کے عسکری ٹکراؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ گالوان کی خونریز جھڑپ نے دہائیوں پر محیط بھارت چین سرحدی امن کے دور کا خاتمہ کر دیا اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر زبردست تناؤ پیدا کر دیا۔ چین نے لداخ کی سرحد پر اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا اور دفاعی تنصیبات کو جدید ترین بنا دیا۔ اس صورتحال نے بھارتی فوج کو ایک خطرناک Two-Front War کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ جہاں پہلے بھارت کی تمام تر عسکری توجہ پاکستان سے متصل لائن آف کنٹرول (LoC) پر مرکوز تھی، وہیں اب اسے اپنی بہترین افواج اور جنگی وسائل کا ایک بڑا حصہ شمالی سرحد پر چین کے سامنے تعینات کرنا پڑا۔دوسری جانب گلگت بلتستان اور لائن آف کنٹرول کے قریب دفاعی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان عسکری اور معاشی تعاون نئی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ سی پیک کے منصوبوں کی سیکیورٹی اور شمالی علاقوں میں استحکام پاکستان کی اولین ترجیح بن گئی، جس کے تحت گلگت بلتستان کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں کی نیٹ ورکنگ اور دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزیوں اور فائرنگ کے واقعات میں اگرچہ 2021 کی فائر بندی کی بحالی سے عارضی ٹھہراؤ آیا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتمادی کی فضا اتنی گہری ہو چکی ہے کہ معمولی سی لغزش بھی کسی بڑے عسکری تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔بھارت کے اس ایک طرفہ فیصلے نے ہندوستانی قیادت کے اس وژن کو بھی شدید نقصان پہنچایا جس کے تحت وہ خطے میں ایک بلا شرکتِ غیرے طاقت بننا چاہتی تھی۔ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) پہلے ہی پاک بھارت تناؤ کی وجہ سے غیر فعال تھی، لیکن 5 اگست کے اقدام نے علاقائی تعاون اور یکجہتی کے تمام امکانات کو مکمل طور پر دفن کر دیا۔مجموعی طور پر 5 اگست 2019 کا فیصلہ بھارت کی طرف سے ایک ایسا جوا تھا جس کا مقصد کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو طاقت کے زور پر دبانا اور پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں دھکیلنا تھا۔ تاہم سات سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کے نتائج بھارت کی توقعات کے بالکل برعکس نکلے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر عوامی مزاحمت اور بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہوا ہے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت برقرار ہے، پاک بھارت سفارتی تعلقات ایک طویل سرد جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس فیصلے نے چین کو اس تنازع کا ایک متحرک فریق بنا کر بھارت کے لیے دو محاذوں پر سخت عسکری چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ 5 اگست کے اس اقدام نے جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس پر جو نقوش ثبت کیے ہیں، ان کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک اس خطے کے امن اور سلامتی کو متاثر کرتے رہیں گے۔

محمد قاسم فاروق 33
Advertisement
Advertisement

مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا: فضل الرحمان

نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے نامزد کردیا

جیکب آباد میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

ڈیرہ غازی خان میں اینٹی کرپشن کا چھاپہ، ٹیوٹا افسر مبینہ رشوت لیتے گرفتار

مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش ناقابل قبول ہے: شیری رحمان

وزیراعظم شہباز شریف سے فرانس کے سبکدوش سفیر کی الوداعی ملاقات

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×