جرمنی میں پہلی بار بائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی ( الٹرنیٹیو فار جرمنی ) کی کامیابی سے جرمنی بھر میں تشوش
جرمن قوم ابتک کی حکومتی پارٹیوں سی ڈی یو اور ایس پی ڈی سے بہت مایوس ہیں؟
آخر وہی ہوا جس کا شدید خطرہ لاحق تھا۔ جرمنی کے صوبے کے صوبائی الیکشن کے نتیجے سے کوئی حیرت نہیں ہوئی لیکن پھر بھی جرمن عوام کو جھٹکا ضرور لگ گیا۔ بائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کی یہ ابتک کی سب سے بڑی اور ایک اہم جیت ہے ۔ 43.8 فیصد ووٹ لے کر اے ایف ڈی نے اس وقت کی وہاں کی حکومتی پارٹی سی ڈی یو کو پچھاڑ کر رکھا دیا۔ جرمنی کے چانسلر میرس جو خود بھی سی ڈی یو پارٹی ہی کے ہیں نے دعوہ کیا تھا کہ وہ اے ایف ڈی کے ووٹ کو آدھا کردیں گے لیکن جب نتیجہ آیا تو اُن کی پارٹی کے ووٹ آدھے ہوگئے ۔اے ایف ڈی کے امیدوار جو اپنے آپ کو غالبا ہٹلر کا جانشین سمجھتے ہیں نے انتخاب سے پہلے ہی یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ مکمل اکثریت چاہتے ہیں تاکہ اُن کی پارٹی اکثریتی پاڑی بن کر اکیلے حکومت کرسکے۔ لیکن صوبائی اسمبلی کے اس انتخاب میں مزید دوسری پانچ پارٹیاں بھی کامیاب ہوکر اسمبلی کی سیٹ حاصل کر چکی ہیں ۔ اس لیے اے ایف ڈی کا یہ خواب تو پورا نہ ہوسکا اور وہ ایک اکثریتی پارٹی بن نہ سکی اس لیے اب اس پارٹی کو ایک دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر ہی حکومت بنانی پڑے گی ۔ جو پارٹیاں صوبائی اسمبلی میں سیٹ حاصل کرسکی ہیں ان کے انفرادی نتائیج کچھ یوں ہیں:
اے ایف ڈی 43.8فیصد ووٹ( صوبائی اسمبلی کی سیٹ 39)
حکومتی پارٹی سی ڈی یو 17.2 فیصد ( صوبائی اسمبلی کی سیٹ صرف 15)
ایس پی ڈی 9,3 فیصد( صوبائی اسمبلی کی سیٹ 8)
گرین پارٹی 8,9 فیصد (صوبائی اسمبلی کی سیٹ 8)
دائین بازو پارٹی لنکے 9,5 فیصد ( صوبائی اسمبلی کی سیٹ 8)
دائیں بازو پارٹی سے الگ ہوکر اپنی نئی پارٹی بنانے والی خاتون سارا واگےکینیشٹ کی پارٹی بی ایس ڈیبلو پارٹی 5.3 فیصد ( صوبائی اسمبلی کی سیٹ 5)۔
انفردای حکومت بنانے کے لیے اے ایف ڈی پارٹی صرف اسمبلی کی تین سیٹ پیچھے ہے ۔ چونکہ یہ ایک فاشسٹ اور انتہا پسند پارٹی ہے اور اس پارٹی کا اُمیدوار انتہا پسند سیاسی رہنما ہے دوسری تمام بڑی پارٹیوں نے بشمول گرین پارٹی اور دائیں بازو کی پارٹی نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اس انتہا پسند پارٹی کے ساتھ مل کر مشترکہ حکومت نہیں بنائیں گے ۔ لیکن صوبائی اسمبلی میں نئی داخل ہونے والی چھوٹی پارٹی بی ایس ڈبیلو نے یہ خبر دی ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے اس پارٹی سے بھی بات چیت کرنے کے لیے تیارہے۔ یوں جرمنی بھر میں اس پارٹی کی اصل شکل واضح ہوگئی ہے ۔اب اگر حکومت سازی کے مراحل میں یہ دونوں پارٹیاں اپنا اتحاد بنا لیتی ہیں تو پھر بائیں بازو کی اس انتہا پارٹی کی حکومت قائم ہوجائے گی اور یوں جرمنی میں پہلی بار انتہا پسند پارٹی کےامیدوار یولرش سگمنڈ، ذاکسن انہالٹ کے پہلے وزیر اعلی بننے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ یولرش سگمنڈ ہیں کون؟ 25 اکتوبر 1990 کو ہاول بیرگ جرمنی میں پیدا ہونے والے اس انتہا پسند کی عمر صرف 36 سال ہے اور اس لیے بہت ناتجربہ کار ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جرمن کے آئین کے تحفظ کے سرکاری ادارے ( فر فاسنگ شسٹ) نے انہیں انتہا پسند قرار دیا تو ہے لیکن اس پارٹی پر پابندی نہ لگائی جانے کے باعث وہ اس پارٹی کے رہنما بھی بن گئے اور اب انتخاب میں اپنی پارٹی کو ابتک کی سب بڑی کامیابی دلانے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔ جبکہ 2023 میں انہیں جرمنی کے شہر پوسٹ ڈام میں انتہا پسند کے ایک خفیہ میٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔
اب سوال در سوال ہیں :
کیا انتہا پسند جماعت اے ایف ف ڈی ، بی ایس ڈیبلو کے ساتھ مل کر حکومت بنا پائے گی؟
اگر حکومت بن بھی گئی تو کےا ان کے پاس تجربہ کار لوگ ہیں جو حکومت کی الف ب سے اچھی طرح واقف بھی ہیں؟
کیا انتہا پسند جماعت کی حکومت آنے کے بعد وہ وہ سارے پروگرام جس کا ذکر وہ اپنے انتخابی جلسوں میں کرتی رہی ہے اُس پر عمل بھی کرسکے گی؟
اور اگر وہ اس پر عمل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر جرمنی کی صورت حال کیا بنے گی؟
اس انتہا پسند پارٹی کے رہنماؤں نے بارہا اپنے انتخابی جلسوں میں جرمنی میں ایک مکمل نئے نظام لاگو کرنے کی بابت بتاتے رہے ہیں جس میں شامل ایک نہیں کئی خطرناک عمل بھی ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ متنازہ عمل ہے اسکول کو لازمی کرنے کے قانون کا خاتمہ ، جرمن سیاسی پناہ کے قانوں کو ختم کرنا، کیونکہ اس پارٹی کا خیال ہے کہ جرمن کی اپنی آبادی بہت تیزی سے کم ہورہی ہے اور چونکہ جرمنی میں 1,5 فیملی میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جو کہ بہت کم ہے اور اسی وجہ سے غیر ملکی بہت زیادہ لیے جارہے ہیں۔ اسی طرح سیاسی پناہ گزین کی مستقل آمد سے اُن کا خیال ہے کہ معاشرے میں بہت سارے دوسرے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب کے نتیجے کے بعد جرمنی کے غیر ملکی شہریوں میں بہت تشویش پائی جارہی ہے ۔ ذاکس انہالٹ کے اسپتالوں میں عملے کے بہت سارے افراد غیر ملکی ہیں اور وہ سب شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور ذاکس انہالٹ کو چھوڑ کر جاننے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ذاکس انہالٹ سے باہر سب کچھ ٹھیک رہے گا؟ عنقریب برلن میں بھی صوبائی انتخاب ہونے والے ہیں اس کے علاوہ اس سال مزید ایک دوسرے صوبے ٹورننگن میں بھی انتخاب ہونا ہے جس میں انتہا پسند جماعت کا پلہ بھاری ہی لگتا ہے ۔
تو کیا ذاکسن انہالٹ سے جرمنی کی تقدیر کے بدلنے کا حکم نامہ جاری ہوگیا ہے؟ اور کیا جرمن پھر خداںنخواستہ کہیں وہیں تو نہیں جارہا جہاں اسے ہٹلر نے پہنچایا تھا ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت یہودی نشانے پر تھے اب غیر ملکی ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی جرمنوں کی ایک بڑی تعداد اس انتہا پسند پارٹی کی مخالفت میں نکل کھڑی ہوئی ہے اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ جیت کس کی ہوتی ہے ۔۔۔











