ممتاز شاعرہ رفعت وحید دنیاۓ ادب میں صاحبِ مقام شاعرہ اور ادبی دانشور ہیں۔ آپ کی شاعری کے سات مجموعے شائع ہو کر صاحبانِ علم و ادب سے داد پا چُکے ہیں۔ “ دستکِ فکر” آپ کی پہلی نثری کاوش ہے جو معاصرین شاعروں، ادیبوں، کالم نگاروں اور دانشوروں کی تصنیفات پر تحقیقی اور تنقیدی تبصرے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
دستکِ در اور دستکِ دل کے علاوہ ایک دستکِ فکر بھی ہوتی ہے۔ یہ دستک انسانوں کے شعور کو بیدار کرتی ہے۔ دستکِ در کا تعلّق دربان یا عُشّاق سے ہے۔ مرزا غالب کی تمنّا تو یہ تھی
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں مَیں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھّر نہیں ہوں مَیں
دستکِ دل شاعروں اور دستکِ فکر دانشورں کا وطیرہ و وظیفہ ہے۔ اس کتاب میں آپ نے ایک ادبی دانشور کی حیثیّت سے نمودار ہوئی ہیں۔
رفعت وحید کتاب کے پیش گفتار میں لکھتی ہیں۔” میں نے اِس پہلی کاوش میں امانت داری اور صداقتِ فکر کو اپنا شعار بنایا ہے”۔ انگریزی ادبی نقّادوں میں جان ڈرائڈن، سیمول ٹیلر، کولرج، میتھیو آرنلڈ، ڈاکٹر جانسن ، فلپ سڈنی ، ٹی ایس ایلیٹ اور ھیرلڈ بلوم قابلِ ذکر ہیں۔ یہ لوگ توصیفی نقّاد نہیں بلکہ حقیقی نقّاد گردانے جاتے ہیں۔ نقّاد کو ذاتی مراسم سے بالا تر ہونے چاہئیے ۔ من ترا مُلّا بگویم تو مرا حاجی بگو والا معاملہ ادبی بددیانتی ہے۔ معاصرین کی تصانیف پر تبصرہ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ جُوۓ شِیر لانے کے مترادف ہے۔ بقولِ میر انیس
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جاۓ آبگینوں کو
رفعت وحید شاعرہ ہیں وہ کسی کے دل کو ٹھیس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ وہ تو شیخ سعدی کے اس شعر کی آئینہ دار ہیں
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است
دل بدست آور کہ حجِّ اکبر است
میں نے چیدہ چیدہ مضامین کا مطالعہ کیا ہے ۔ جہاں جس کی تعریف و توصیف و تمجید و تحسین بنتی تھی اُسے دل کھول کر داد دی ہے جبکہ اکثر مقالہ جات کا دیانتِ فکر کو دامن گیر رکھتے ہوۓ جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کو “ دستکِ فکر” کا عنوان دینا فکر نوازی ہے۔










