گولڈ میڈل کا زکر ہو اور عظیم سماجی شخصیت راجہ مجاہد افسر خان ڈنڈوٹ کو یاد نہ کیا جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے راجہ مجاہد افسر خان ڈنڈوٹ نے جب بھی کسی کو گولڈ میڈل سے نوازا ساتھ یہ بھی لکھا کہ اصل سونے کا میڈل دیا گیا ہے اور وہ واقعی اصل سونے کا ہوتا ہے مگر آج کل جو سونے کے میڈل کی بے توقیری ہو رہی ہے اللہ کی پناہ کہتے ہیں کہ کسی بھی تنظیم یا ادارے کی طرف سے سونے کا میڈل دیا جانا کسی صحافی یا کسی شخصیت کے لیے باعث مسرت اور اعزاز ہوتا ہے اس بات سے بندہ خاکسار بھی متفق ہے
مگر آج کل ایک نیا کلچر سامنے آ رہا ہے مختلف تنظیموں اور اداروں کی طرف سے بات بات پر نقلی گولڈ میڈل دیے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے پہلے پہل اگر کسی صحافی یا اپنے شعبے میں کوئی گراں قدر خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کو گولڈ میڈل سے نوازا جاتا تھا تو وہ بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ لکھا کرتا تھا مگر جب سے سونے کے ساتھ ایک کھلواڑ شروع ہوا ہے گویا گولڈ میڈل بھی ایک کچ سی بن کر رہ گیا ہے انتہائی معذرت کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ جیسا کچ گولڈ میڈل دیا جاتا ہے ایسے ہی ہم لینے والے بھی ایک کچ بنتے جا رہے ہیں
صحافتی تنظیموں یا دیگر اداروں کو چاہیے کہ صحافیوں کو تو ویسے ہی ہر طرف سے چونا لگایا جاتا ہے کم از کم ہمارے ادارے اور ہمارے اپنے تو چونا لگانے سے گریز کیا کریں اگر کسی صحافی نے واقعی اپنے شعبے میں جہدوجہد اور قربانیاں دی ہوئی ہیں تو اس کی خدمات کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے آپ کے پاس اگر گنجائش نہیں ہے تو اسے کوئی سرٹیفکیٹ عطا کر دیا جائے یا کسی شیلڈ سے نواز دیا جائے کم از کم ہو تو اصل یوں سونے کے ساتھ ساتھ صحافی کی بے توقیری تو نہ کی جائے
چند سال قبل میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کے ایم ایس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا ایم ایس صاحب نے مجھ سے درخواست کی راجہ صاحب لاہور کی کوئی تنظیم ہے وہ ہر سال مختلف شعبوں کی شخصیات کو لاہور میں ایک تقریب کے دوران گولڈ میڈل (نقلی) عطا کرتی ہے اس کے عوض وہ ان شخصیات سے 20 ہزار روپے پہلے ہی اکھٹا کر لیتی ہے
وہ میرا مسلسل پیچھا کر رہے ہیں میری ان سے جان چھڑائیں اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کچھ ہمارے دوست جیب سے 20 ہزار روپے دیکر چکوال سے کرایہ لگایا کر لاہور جا کر وہ میڈل لیکر آئے ہوئے ہیں فقط اپنے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ لکھنے کے لیے
وہ سیانے کہا کرتے تھے کہ عزت و تکریم کے ساتھ اگر کوئی دال بھی کھلا دے تو وہ سوا لاکھ تصور کی جاتی ہے مگر خدا رہا ہوں سونے کی بے توقیری نہ کی جائے
راقم الحروف کو دو دفعہ گولڈ میڈل سے نوازا گیا بہرحال زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہوئی کہ ہم کام بھی تو لوہے کے گولڈ میڈل کے برابر کر رہے ہیں ہم نے کونسا صحافت میں تیر مار دیا ہے یا ہم نے کونسا جہدوجہد میں کوڑے کھائے ہوئے ہیں اس لیے اگر تنظمیں ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیتی ہے تو اس میں مگر آج کل ایک نیا کلچر سامنے آ رہا ہے مختلف تنظیموں اور اداروں کی طرف سے بات بات پر نقلی گولڈ میڈل دیے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے پہلے پہل اگر کسی صحافی یا اپنے شعبے میں کوئی گراں قدر خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کو گولڈ میڈل سے نوازا جاتا تھا تو وہ بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ لکھا کرتا تھا مگر جب سے سونے کے ساتھ ایک کھلواڑ شروع ہوا ہے گویا گولڈ میڈل بھی ایک کچ سی بن کر رہ گیا ہے انتہائی معذرت کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ جیسا کچ گولڈ میڈل دیا جاتا ہے ایسے ہی ہم لینے والے بھی ایک کچ بنتے جا رہے ہیں صحافتی تنظیموں یا دیگر اداروں کو چاہیے کہ صحافیوں کو تو ویسے ہی ہر طرف سے چونا لگایا جاتا ہے کم از کم ہمارے ادارے اور ہمارے اپنے تو چونا لگانے سے گریز کیا کریں اگر کسی صحافی نے واقعی اپنے شعبے میں جہدوجہد اور قربانیاں دی ہوئی ہیں تو اس کی خدمات کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے آپ کے پاس اگر گنجائش نہیں ہے تو اسے کوئی سرٹیفکیٹ عطا کر دیا جائے یا کسی شیلڈ سے نواز دیا جائے کم از کم ہو تو اصل یوں سونے کے ساتھ ساتھ صحافی کی بے توقیری تو نہ کی جائے چند سال قبل میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کے ایم ایس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا ایم ایس صاحب نے مجھ سے درخواست کی راجہ صاحب لاہور کی کوئی تنظیم ہے وہ ہر سال مختلف شعبوں کی شخصیات کو لاہور میں ایک تقریب کے دوران گولڈ میڈل (نقلی) عطا کرتی ہے اس کے عوض وہ ان شخصیات سے 20 ہزار روپے پہلے ہی اکھٹا کر لیتی ہے وہ میرا مسلسل پیچھا کر رہے ہیں میری ان سے جان چھڑائیں اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کچھ ہمارے دوست جیب سے 20 ہزار روپے دیکر چکوال سے کرایہ لگایا کر لاہور جا کر وہ میڈل لیکر آئے ہوئے ہیں فقط اپنے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ لکھنے کے لیے وہ سیانے کہا کرتے تھے کہ عزت و تکریم کے ساتھ اگر کوئی دال بھی کھلا دے تو وہ سوا لاکھ تصور کی جاتی ہے مگر خدا رہا ہوں سونے کی بے توقیری نہ کی جائے راقم الحروف کو دو دفعہ گولڈ میڈل سے نوازا گیا بہرحال زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہوئی کہ ہم کام بھی تو لوہے کے گولڈ میڈل کے برابر کر رہے ہیں ہم نے کونسا صحافت میں تیر مار دیا ہے یا ہم نے کونسا جہدوجہد میں کوڑے کھائے ہوئے ہیں اس لیے اگر تنظمیں ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیتی ہے تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں مگر جس صحافی یا شخصیت نے حقیقی معنوں میں اپنے اپنے شعبے میں اصلی جہدوجہد کی ہوئی ہے تو خدا رہا اس کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے اور اسے میڈل بھی اصل سونے کا دیا جائے
راجہ افتخار احمد20
نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید
کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری
اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا
جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے
خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین
تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔
کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی
بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا