تحریر : پروفیسر امجد علی
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کا بحران خاموشی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ وہ نوجوان جن کے کندھوں پر ملک کے مستقبل کی ذمہ داری ہے، بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ، خاندانی مسائل، سماجی توقعات اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی کے باعث شدید نفسیاتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات یہی مشکلات انہیں اپنی زندگی ختم کرنے جیسے انتہائی قدم تک لے جاتی ہیں۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس پر فوری اور مربوط توجہ کی ضرورت ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 703,000 افراد خودکشی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں یہ موت کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ ان اموات میں سے 77 فیصد سے زیادہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں خودکشی کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم مختلف تحقیقی مطالعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان اور طلبہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں۔تحقیقات کے مطابق پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ ایک مطالعے میں تقریباً 35.6 فیصد طلبہ نے خودکشی کے خیالات کا اظہار کیا، 13.9 فیصد نے اس کی منصوبہ بندی کی، جبکہ 4.8 فیصد طلبہ نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔حالیہ برسوں میں پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ کی خودکشیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر میڈیکل اور نرسنگ کے طلبہ میں شدید تعلیمی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، امتحانات کا خوف اور مستقبل کی بے یقینی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ میڈیکل طلبہ کی خودکشیوں کی بڑی تعداد ان کے کلینیکل سالوں کے دوران پیش آتی ہے، جب ذمہ داریاں اور ذہنی دباؤ اپنی انتہا پر ہوتے ہیں۔یہ بحران صرف تعلیمی کارکردگی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت بھی ہے۔ خاندانی تنازعات، والدین کی غیر ضروری توقعات، امتحانات میں ناکامی، معاشی مشکلات، سماجی تنہائی اور غیر تشخیص شدہ ذہنی بیماریاں ایسے عوامل ہیں جو نوجوانوں کو شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی کمزوری یا شرمندگی سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان بروقت مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔اس مسئلے کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں خودکشی اور خود اذیتی کے واقعات کی نگرانی کے لیے کوئی جامع قومی رجسٹری موجود نہیں۔ بہت سے واقعات سماجی اور مذہبی بدنامی کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے، جس کے باعث مسئلے کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب درست اعداد و شمار موجود نہ ہوں تو مؤثر پالیسیاں بھی تشکیل نہیں دی جا سکتیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، والدین، اساتذہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد مشترکہ طور پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہر اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پیشہ ورانہ نفسیاتی مشاورت (Counseling) کی سہولت فراہم کی جائے، طلبہ کے لیے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں، اساتذہ اور والدین کو ابتدائی علامات پہچاننے کی تربیت دی جائے، جبکہ تعلیمی نظام میں غیر ضروری دباؤ اور صرف نمبروں کی دوڑ کو کم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر خودکشی اور خود اذیتی کے واقعات کی رجسٹری قائم کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ شواہد کی بنیاد پر مؤثر پالیسیاں بنائی جا سکیں۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے۔ ہر طالب علم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے، اور مشکل وقت میں مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ حوصلے کی علامت ہے۔اگر ہم آج اپنے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو قومی ترجیح نہ بنائیں تو کل ہمیں مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک محفوظ، ہمدرد اور معاون تعلیمی ماحول ہی وہ راستہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو مایوسی سے امید، اور خاموشی سے زندگی کی طرف واپس لا سکتا ہے۔










