تحریر : شبیر درانی
کہتے ہیں کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود حوصلوں اور اعتماد سے جیتی جاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عزم مضبوط ہو تو ایک عام سی رائفل بھی فولاد بن جاتی ہے، لیکن اگر ذہن انتشار کا شکار ہو تو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی کسی کام نہیں آتی۔ آج یہ فلسفہ ہمیں ایک ایسے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جس میں ہمارے صوبے کے محافظوں یعنی خیبر پختونخوا پولیس کا عکس نمایاں ہے۔ یہ ایک ایسی غیور فورس ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اپنے جوانوں کے گرم خون سے امن کی شمع جلائے رکھی ہے۔ لیکن بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ جب معاشی تحفظ، تنخواہوں اور مراعات کی بات آتی ہے، تو یہی فورس ملک بھر میں سب سے پیچھے کھڑی نظر آتی ہے، جو کہ ایک گہرا لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ہم خیبر پختونخوا کے حالیہ صوبائی بجٹ کا جائزہ لیں، تو محکمہ پولیس کے لیے ہمیشہ اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ ان پیسوں سے جدید ترین آلات، تھرمل اسکوپس، جدید اسلحہ اور اے آئی ٹیکنالوجی خریدی جاتی ہے جو کہ موجودہ دور کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بلاشبہ وقت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ ہمارے جوانوں کو دشمن کے سامنے کسی بھی صورت نہتا نہیں چھوڑا جا سکتا، لیکن اس چمکتے ہوئے اسلحے اور فولادی بکتر بند گاڑیوں کے پیچھے چھپے اس انسان کو کیوں فراموش کر دیا جاتا ہے جو ان چیزوں کو چلاتا ہےں؟ تصور کیجیے کہ ایک پولیس اہلکار اندھیری رات میں، شدید سردی یا جھلساتی گرمی میں، جدید ترین رائفل تھامے مورچے میں تعینات ہے اور چوک چوراہوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہے۔ بظاہر وہ ایک مضبوط اور الرٹ محافظ نظر آتا ہے، لیکن اس کے ذہن کے اندر ایک خاموش جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ اس کے دماغ میں خوف کا پہلا محاذ یہ ہوتا ہے کہ اگلے مہینے مکان کا کرایہ کیسے ادا ہوگا، دوسرا محاذ بچوں کے سکول کی فیس کی فکر لاتا ہے، تیسرا محاذ بجلی، گیس اور پانی کے بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ بنتا ہے، اور چوتھا سب سے تکلیف دہ محاذ بوڑھے ماں باپ کی دوائیوں کے ختم ہوتے ہوئے پیسوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ شخص جس کا ذہن اپنے گھر کے بنیادی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہو، وہ پورے سکونِ قلب اور دلجوئی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے سکتا ہے ؟
کیا ایک پریشان حال باپ, فکرمند بیٹا اور مفلس شوہر ایک الرٹ سپاہی کا کردار پوری یکسوئی سے نبھا سکتا ہے ؟
یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے۔ سبق آموز اور رحم دلانہ حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں اکثر یہ بھول جاتی ہیں کہ پولیس فورس کا اصل سرمایہ جدید ترین اسلحہ یا چمکتی گاڑیاں نہیں، بلکہ وہ انسان ہے جو اس وردی کے اندر دھڑکتا ہوا دل رکھتا ہے۔ جب تک اس انسان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کو معاشی تحفظ حاصل نہیں ہوگا، اس کا مورال کبھی بلند نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک پولیس اہلکار کی تنخواہ مارکیٹ کی جان لیوا مہنگائی کے تناسب سے انتہائی کم ہوگی، تو وہ فرض شناسی اور ذہنی یکسوئی کہاں سے لائے گاں؟
ہم جدید ٹیکنالوجی پر تو اربوں روپے خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن جس سپاہی نے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے، اس کی مالی معاونت اور مراعات میں اضافے کے وقت بجٹ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے، جو کہ سراسر ایک دردناک رویہ ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے ترجیحی ڈھانچے کو تبدیل کرے اور سیکیورٹی بجٹ کا ایک متبادل اور بھاری حصہ براہِ راست جوانوں کی مالی حالت کو سدھارنے کے لیے مخصوص کرے۔ سب سے پہلے خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں اور مراعات کو دیگر صوبوں کی فورسز کے برابر، بلکہ ان کے شدید خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے بھی زیادہ کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے مفت یا انتہائی سستی تعلیم، خاندان کے لیے بہترین علاج اور یوٹیلیٹی بلز میں خصوصی ریلیف کے فلاحی پیکیجز متعارف کروائے جانے چاہئیں کیونکہ صرف مرنے کے بعد اعزازات دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ جو زندہ رہ کر روز موت کے منہ میں جاتے ہیں ان کی زندگیوں کو آسان بنانا ریاست کا اولین فرض ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا یہ غیور محافظ چوکوں پر کھڑا ہو کر یا مورچے میں بیٹھ کر صرف اور صرف اپنے فرض اور ملک دشمن عناصر پر نظر رکھے، تو حکومت کو اس کے گھر کی فکر اپنے ذمے لینی ہوگی۔ جب ایک پولیس اہلکار کو معلوم ہوگا کہ اس کے پیچھے اس کا خاندان بھوکا نہیں مرے گا اور اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے، تو اس کی دلیری اور فرض شناسی کی طاقت دس گنا بڑھ جائے گی۔ ہتھیار صرف جسم کا دفاع کرتے ہیں، لیکن معاشی تحفظ روح کو مضبوط کرتا ہے۔ ہمیں اپنے بہادر پولیس فورس کی قربانیوں کو سچے دل سے سلام پیش کرتے ہوئے اربابِ اختیار سے یہ پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ اب ان کے ہاتھوں میں جدید رائفلیں دینے کے ساتھ ساتھ، ان کے دلوں کو بھی معاشی فکروں سے آزاد کر کے حقیقی اطمینان دیا جائے۔










