تحریر : خالد چوہدری
ستر کی دہائی میں اسلام آباد میں سستی تفریح گاہ قائم کی گئی۔ ہر قسم کے جانور رکھے گئے۔ عام آدمی کی پہنچ میں تھا ۔ بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھاتے اور چڑیا گھر جاتے۔ چڑیا گھر بچوں کے تفریح گاہ کے ساتھ ساتھ درسگاہ بھی ہے۔ پاکستان میں اس وقت اٹھائیس بڑے چڑیا گھر آج بھی موجود ہیں جبکہ اسلام آباد / راولپنڈی میں تین چڑیا گھر ہیں ۔ ضیاء الحق مرحوم سابق صدر پاکستان جب سری لنکا دورے پر گئے تو ان کو ہاتھی کا بچہ گفٹ میں دیا گیا جو انہوں نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کو تحفے میں دے دیا ۔ ہاتھی چڑیا گھر کی شان تھا ۔ اچانک ایک این جی او جس میں پاکستان کی موثر ترین خواتین شامل تھیں ۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی کہ اسلام آباد چڑیا گھر میں جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے لہذا اسے بند کر دیا جائے اور زمین وائلڈ لائف والوں کے حوالے کی جائے جو یہاں پر جدید ترین چڑیا گھر قائم کرے گی ۔ لہذا ہائی کورٹ نے چڑیا گھر ختم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔ پانچ سو سے زائد جانور چوری کرلئے گئے ۔ شہر لاہور شفٹ کرتے ہوئے آگ لگا کر مار دیئے گئے جبکہ ہاتھی کو بھی پنجرے میں قید کر کے کمبوڈیا ایکسپورٹ کر دیا گیا ۔ جو وہاں جاکر موسم کی تبدیلی کی وجہ سے مر گیا۔ ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ این جی او اسی جگہ پر جدید چڑیا گھر قائم کرے گی ۔ لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود اسلام آباد کے بچے چڑیا گھر بننے کے منتظر ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت میں مونال کے نام سے پیر سوہاوہ میں ریسٹورنٹ قائم تھا ۔ وائلڈ لائف پروٹیکشن کے نام پر اسی این جی او نے ہائی کورٹ رجوع کیا کہ جانوروں کی زندگی کو خطرہ ہے ریسٹورنٹ بند کر دیا گیا بلکہ اسے منہدم کر دیا گیا ۔ جو دارالحکومت کے رہائشیوں کے لئے المیہ سے کم نہ تھا۔ جس کسی کا بھی دوسرے شہروں سے مہمان آتا تھا اسے کھانا کھلانے کے لئے پیر سوہاوہ لے جایا جاتا ۔ لیکن انٹیاں اتنی طاقتور تھیں کہ انہوں نے ریسٹورنٹ نہ صرف بند کرا دیا بلکہ مسمار کرا دیا گیا۔ ہو اگر تو دوبارہ قائم ۔ چڑیا گھر کی زمین کا قبضہ بھی این جی او کو دے دیا گیا۔ چڑیا گھر تو جدید نہ بن سکا۔ دو سال قبل سی ڈی اے نے چڑیا گھر کا قبضہ واپس لے لیا گیا لیکن خواتین سپریم کورٹ چلی گئیں ۔ وہاں چیرمین سی ڈی اے کے دوسرے عہدے پر سوال اٹھا دیا گیا ۔ چیرمین صاحب نے زمین وائلڈ لائف والوں کو نہ صرف واپس کر دی بلکہ معانی بھی مانگی ۔ سابقہ چڑیا گھر کورٹ کے احکامات کے باوجود جدید تو نہ بنایا جاسکا بلکہ وہاں پر ہفتہ وار بازار لگا دیا ۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بازار ڈی ایم اے کی ذمہ داری ہے لیکن وائلڈ لائف این جی او اتنی طاقت ور ہے کہ انہوں نے ہفتہ وار بازار لگوا دیا اور وہاں پر مختلف فنکشن بھی کرائے جاتے ہیں ۔ جو سی ڈی اے کے لئے کھلا چیلنج بنے گذشتہ دنوں سی ڈی اے بورڈ نے اسلام آباد میں جدید سفاری پارک بتانے کے لئے سٹڈی کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ سٹڈی چار سال میں ممکن ہو سکے گی۔ کیا اسلام آباد کے بچوں اور رہائشیوں کو تفریح کا کوئی مقام نہیں مل سکے گا؟ وزیر اعظم میاں شہباز شریف چڑیا گھر کی قیمتی زمین واگزار کرانے کے احکامات جاری کریں اور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق جدید چڑیا گھر تعمیر کیا جائے ۔ کیا پاکستان میں صرف اسلام آباد کے چڑیا گھر میں جانوروں کی توہین ہو رہی تھی ؟ صرف قیمتی زمین پر نظر تھی جس پر اب قبضہ ہو چکا ہے۔










