Advertisement

رشتوں کی قیمت یا دولت کی چمک؟

رشتوں کی قیمت یا دولت کی چمک؟


تحریر: چوہدری سہیل مہدی گوجر 

 اگر معاشرے کا بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ایک فقرے میں ہماری اجتماعی سوچ کا پورا نوحہ پوشیدہ ہے۔ کہ آج انسان کی پہچان اس کے کردار، خاندانی اقدار یا اخلاق سے کم اور اس کی جیب، عہدے اور شہرت سے زیادہ کی جاتی ہے۔ ہم نے رشتوں کو بھی دولت کی ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ مجھے ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ ایک بزرگ، جن کے کپڑوں سے سادگی اور چہرے سے خودداری جھلک رہی تھی، خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ میزبان کے سگے ماموں تھے، مگر چونکہ مالی طور پر کمزور تھے، اس لیے ان سے رسمی سلام کے علاوہ کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ کچھ دیر بعد ایک معروف صنعت کار تقریب میں داخل ہوئے۔ اچانک ماحول بدل گیا۔ لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ کوئی کہہ رہا تھا، "یہ ہمارے بڑے قریبی عزیز ہیں"، کوئی کہہ رہا تھا، "ہمارا تو خاندانی تعلق ہے۔" حقیقت یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کی ملاقاتیں بھی گنتی کی تھیں۔ اس منظر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا واقعی ہمارے رشتوں کی بنیاد محبت ہے یا مفاد؟

بدقسمتی سے یہ رویہ صرف تقریبات تک محدود نہیں۔ ملازمت، کاروبار، سیاست، حتیٰ کہ خاندانی نشستوں میں بھی یہی معیار نظر آتا ہے۔ اگر کسی غریب رشتہ دار کا ذکر ہو تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، لیکن اگر کسی بااثر شخصیت سے معمولی سا تعلق بھی نکل آئے تو اسے بڑے فخر سے بیان کیا جاتا ہے۔ گویا انسان کی اصل قیمت اس کے اخلاق نہیں بلکہ اس کی مالی حیثیت ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ غربت کوئی جرم نہیں۔ حالات کسی پر بھی آ سکتے ہیں۔ جو آج خوشحال ہے، کل آزمائش میں ہو سکتا ہے، اور جو آج مشکلات کا شکار ہے، ممکن ہے کل کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ جائے۔ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں تخت نشین خاک نشین ہوئے اور خاک نشین تخت پر بیٹھ گئے۔ اس لیے کسی انسان کی عزت یا بے عزتی اس کی دولت کی بنیاد پر کرنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ انتہائی کم ظرفی کی علامت ہے۔ ہمارا دین بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسان کی عزت اس کے تقویٰ، کردار اور اخلاق میں ہے، نہ کہ اس کے مال و دولت میں۔ رسول اکرم ﷺ نے کبھی کسی غریب کو کمتر نہیں سمجھا بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو عزت، محبت اور احترام دیا۔ افسوس کہ ہم نے ان تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر دنیاوی معیار اپنا لیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایک اور منظر بھی دیکھا۔ ایک صاحب جب مالی طور پر کمزور تھے تو عزیز و اقارب ان سے دور رہتے تھے۔ کسی تقریب میں ان کا تعارف بھی مشکل سے کروایا جاتا تھا۔ چند برس بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں کاروبار میں کامیابی عطا کی۔ وہی لوگ جو پہلے پہچاننے سے بھی گریز کرتے تھے، اب ہر محفل میں ان سے اپنے رشتے جوڑنے لگے۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ بعض لوگ انسان سے نہیں، اس کی حیثیت سے محبت کرتے ہیں۔ اصل رشتہ وہ ہوتا ہے جو حالات بدلنے سے نہ بدلے۔ جو خوشحالی میں بھی ساتھ ہو اور تنگ دستی میں بھی ہاتھ نہ چھوڑے۔ اگر ہمارا رویہ کسی کے امیر یا غریب ہونے سے بدل جائے تو ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کرنی چاہیے، دوسروں پر نہیں۔ افسوس یہ بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی سبق دے رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ والدین دولت مند رشتہ داروں کے آگے بڑھ کر استقبال کرتے ہیں، جبکہ غریب عزیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں نئی نسل کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ عزت صرف دولت مند کی ہوتی ہے۔ یہ سوچ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کا حسن خلوص میں ہے، نہ کہ مفاد میں۔ وہ غریب رشتہ دار جو مشکل وقت میں خاموشی سے آپ کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے، اس کی حیثیت ان درجنوں امیر جاننے والوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو صرف خوشیوں میں نظر آتے ہیں۔ آزمائش کے دن انسان کو رشتوں کی حقیقت بتا دیتے ہیں۔ آج ہمیں اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر ہمارے پاس دولت نہ رہے تو کتنے لوگ ہمیں اسی محبت اور عزت سے یاد رکھیں گے؟ اگر اس سوال کا جواب ہمیں پریشان کر دے تو سمجھ لیجیے کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آئیے فیصلہ کریں کہ آئندہ کسی انسان کی قدر اس کے لباس، گاڑی، گھر یا بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کے کردار، محبت اور خلوص سے کریں گے۔ کیونکہ دولت وقتی ہے، عہدہ عارضی ہے، شہرت بدلتی رہتی ہے، مگر اچھا کردار اور سچے رشتے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے امیر رشتہ دار نہیں، بلکہ وہ غریب رشتہ دار ہوتے ہیں جنہیں وہ عزت کے ساتھ اپنا کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔ یہی کردار کی دولت ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا بھی سنوارتا ہے اور آخرت بھی۔

چوہدری سہیل مہدی گوجر 11
Advertisement
Advertisement

نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید

کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری

اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا

نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات

دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا

جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

Advertisement
×