Advertisement

سارڈین رَن: سمندر کی سب سے بڑی ہجرت کا حیرت انگیز منظر

سارڈین رَن: سمندر کی سب سے بڑی ہجرت کا حیرت انگیز منظر

 تحریر:  انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی

جنوبی افریقہ کے ساحلوں پر ہر سال موسمِ سرما میں ایک ایسا قدرتی عجوبہ رونما ہوتا ہے جسے دیکھ کر انسان قدرت کی طاقت اور نظم و ضبط پر حیران رہ جاتا ہے۔ اربوں کی تعداد میں سارڈین مچھلیاں، جو جسامت میں چھوٹی لیکن تعداد میں بے شمار ہوتی ہیں، ٹھنڈے پانی کے ایک راستے پر سفر شروع کرتی ہیں۔ یہ عظیم الشان ہجرت نہ صرف سمندری زندگی کے لیے اہم ہے بلکہ دنیا بھر کے شکاری جانوروں کے لیے خوراک کی ایک بڑی وجہ بھی بن جاتی ہے۔ سارڈین مچھلیوں کی ہجرت زمین پر حیاتیاتی کمیت (Biomass) کی سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔ ہر سال جون اور جولائی میں  جب جنوبی افریقہ میں موسمِ سرما  ہوتا ہے،  اربوں سارڈین مچھلیاں مشرقی ساحل کے ساتھ شمال کی طرف سفر کرتی ہیں۔ ان کا یہ عظیم غول بعض اوقات سات کلومیٹر لمبا، ڈیڑھ کلومیٹر چوڑا اور تقریباً تیس میٹر گہرا ہوتا ہے۔ آئیے قدرت کے اس عظیم نظارے کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ افریقہ کے جنوبی ترین حصے پر دو طاقتور سمندری لہریں  آپس میں ملتی ہیں، جو پورے ساحلی علاقے کی آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔مشرق سے بحرِ ہند گرم، استوائی پانی لے کر آتا ہے۔جبکہ مغرب سے  جنوبی قطب (انٹارکٹیکا) نہایت ٹھنڈا اور غذائی اجزاء سے بھرپور پانی لے کر آتا ہے۔ان دونوں گرم اور ٹھنڈے پانیوں کے ملاپ سے آخر ہوتا کیا ہے ؟ 

جنوبی حصے پر  جب گرم اور ٹھنڈے پانی آپس میں ملتے ہیں  تو اس  سے  لہروں میں شدید ہلچل پیدا ہوتی ہے اور آبی خوردبینی جاندار کی بے شمار تعداد جمع ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وہاں رات کے وقت سمندر اکثر نیلی روشنی سے جگمگاتا دکھائی دیتا ہے۔

اس ٹھنڈے گرم پانی کے ملاپ سے جو سب سے خوبصورت نظارہ جنم لیتا ہے اُسے سائنسی زبان  میں سارڈین رن  یعنی سارڈین مچھلیوں کے غول کی دوڑ کہا جاتا ہے ۔ لاکھوں  کی تعداد میں سارڈین مچھلیاں اس ٹھنڈے پانی کی پٹی کا پیچھا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں ڈولفن، شارک، وہیل اور سمندری پرندے وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا میں شکاری جانوروں کی سب سے بڑی قدرتی خوراک کی  تقریب سمجھی جاتی ہے۔ جہاں یہ دونوں ٹھنڈی گرم لہریں  آپس میں ٹکراتی ہیں (خاص طور پر کیپ آف گڈ ہوپ کے قریب)، وہاں اکثر انتہائی بڑی اور خطرناک لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں سرفنگ کھیل کے شوقین افراد میں بہت مشہور ہیں، لیکن بحری جہازوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سارڈین مچھلیاں 19 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت والے ٹھنڈے پانی کو پسند کرتی ہیں۔ موسمِ سرما میں انٹارکٹیکا سے آنے والی نہایت ٹھنڈی سمندری دھاریں  ساحل کے ساتھ ساتھ ایک تنگ پٹی کی صورت میں شمال کی طرف بڑھتی ہیں ۔سارڈین مچھلیاں اس عارضی “ٹھنڈے پانی کی شاہراہ” کو استعمال کرتے ہوئے جنوب  سے سفر شروع کرتی ہیں اور موزمبیق کے ساحلوں تک جا پہنچتی ہیں، جہاں وہ انڈے دیتی ہیں۔ اصل تماشا اس وقت شروع ہوتا ہے جب شکاری جانور سارڈین مچھلی کے غول کو دیکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد جانوروں کی دنیا کی سب سے منظم اجتماعی شکار مہم شروع ہوتی ہے۔ ہزاروں ڈولفن سارڈین کے غول کے ایک حصے کو گھیر لیتی ہیں اور ہوا کے بلبلوں کی دیواریں بنا کر انہیں پانی کی سطح کی طرف دھکیلتی ہیں۔شدید خوف اور اپنی حفاظت کی کوشش میں سارڈین مچھلیاں ایک نہایت گھنی، گھومتی ہوئی گیند کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، جسے بیٹ بال کہا جاتا ہے۔ ( دیکھیے تصاویر)اس گیند کا قطر 10 سے 20 میٹر تک ہوتاہے۔جیسے ہی بیٹ بال پانی کی سطح کے قریب آتا ہے، سمندری پرندے زندہ ٹارپیڈو کی طرح 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے فضا سے سیدھے پانی میں غوطہ لگاتے ہیں اور سارڈین  مچھلیوں کو  پکڑ لیتے ہیں۔اس کے بعد سیکڑوں شارک، مثلاً برونز وہیلر شارک، بل شارک اور بلیک ٹِپ شارک، نیچے سے تیزی سے حملہ کرتی ہیں اور بیٹ بال کے عین درمیان سے گزر نا شروع کردیتی ہیں۔آخر میں اکثر برائیڈ وہیل یا ہمپ بیک وہیل مچھلیاں  نمودار ہوتی ہیں۔ وہ اپنا بہت بڑا منہ پوری طرح کھولتی ہیں اور ایک ہی لقمے میں باقی بچا ہوا پورا بیٹ بال نگل جاتی ہیں۔ غوطہ خوروں اور جنگلی حیات کی فلم بنانے والوں کے لیے سارڈین رَن زندگی کے سب سے یادگار تجربات میں سے ایک ہے۔کشتیوں کے ذریعے اس منظر کو دیکھنے کے لیے بہترین علاقے جنوبی افریقہ کی وائلڈ کوسٹ ہیں، خصوصاً پورٹ سینٹ جانز (Port St. Johns)، مدومبی (Mdumbi)اور واٹر فال بلف (Waterfall Bluff) جیسے علاقے بہترین نظارہ پیش کرتے ہیں ۔کشتیاں اکثر انتہائی ہلکے طیاروں (Ultralight Aircraft) کی مدد لیتی ہیں یا افق پر ہزاروں سمندری پرندوں کے غول  کو تلاش کرتی ہیں۔ جہاں پرندے بڑی تعداد میں سمندر میں غوطے لگا رہے ہوتے ہیں یہ وہی جگہ ہوتی ہے جہاں سارڈین مچھلیوں کا غول موجود ہوتا ہے ۔  قدرت کے اس عظیم نظارے کو اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غوطہ خوروں کے لباس میں سمندر کے اندر چھلانگ لگانی ہوگی تاکہ آپ قدرت کے اس عظیم نظارے سے لطف اندوزہوسکیں۔۔۔۔

نور ظہیر رہبر 12
Advertisement
Advertisement

نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید

کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری

اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا

نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات

دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا

جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

Advertisement
×