شازیہ عالم شازی۔ کراچی
14 اگست 2026ء، پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے نامور فلسفی، دانش ور، شاعر اور محقق پروفیسر ڈاکٹر مقصود حسین جعفری کو ادب اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے تیسرے بڑے سول اعزاز ستارۂ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں 23 مارچ 2027ء کو یومِ پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں باقاعدہ عطا کیا جائے گا۔
ڈاکٹر مقصود حسین جعفری کی شخصیت محض ایک شاعر یا دانش ور کی شخصیت نہیں، بلکہ وہ علم، ادب، فلسفے، سیاست اور انسانی حقوق کے میدان میں ایک ہمہ جہت علمی و فکری حوالہ ہیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ علم و تحقیق، ادبی تخلیق، انسانی آزادی اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کرنے سے عبارت ہے۔ڈاکٹر مقصود حسین جعفری کو بجا طور پر ’’شاعرِ ہفت زبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ اردو، انگریزی، فارسی، عربی، پنجابی، پونچھی اور کشمیری زبانوں میں فصیح شاعری اور نثر پر ان کی دسترس ان کے غیر معمولی علمی و ادبی مقام کی غماز ہے۔ ان کی شاعری روایتی حسن و عشق کے مضامین تک محدود نہیں بلکہ اس میں جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی، مظلوم انسانوں سے یکجہتی اور استبداد کے خلاف مزاحمت کی توانا آواز سنائی دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اردو کے عظیم انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی بھی ڈاکٹر مقصود جعفری کی علمی و شعری صلاحیتوں کے معترف تھے۔ ڈاکٹر جعفری کے فارسی و اردو شعری مجموعے ’’گوشۂ قفس‘‘ کا دیباچہ جوش ملیح آبادی نے تحریر کیا، جو ان کے ادبی مقام اور فکری پختگی کا اہم اعتراف سمجھا جاتا ہے۔
کشمیر کے مقدمے کے قلمی سفیر
ڈاکٹر مقصود حسین جعفری کی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ ان کی طویل وابستگی تحریکِ آزادیِ کشمیر سے ہے۔ کشمیر کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس صاحبِ قلم نے کشمیر کے مسئلے کو صرف جذباتی وابستگی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے علمی، انسانی اور عالمی تناظر میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
انہوں نے اپنی تحریروں، کتب، خطابات اور عالمی روابط کے ذریعے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور کشمیری عوام کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انگریزی میں لکھی گئی ان کی کتب The Plight of Kashmir اور Kashmir Under Siege کشمیر کے مقدمے کو عالمی قارئین تک پہنچانے کی اسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر مقصود جعفری نے مغربی ممالک کے دورے بھی کیے اور مختلف علمی و فکری حلقوں میں کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کی۔ ان کی جدوجہد اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے کشمیر کو صرف ایک علاقائی یا سیاسی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انسانی آزادی کے ایک بنیادی سوال کے طور پر پیش کیا۔
ڈاکٹر مقصود حسین جعفری کی علمی کاوشوں کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ مختلف موضوعات پر ان کی 36 سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جن میں فلسفہ، سیاسیات، اسلامی فکر، علامہ اقبال کی فکر، عالمی سیاست اور ادب جیسے موضوعات شامل ہیں۔امریکہ سے انگریزی ادبیات میں پی ایچ ڈی اور فلسفے میں ڈی فل کی اسناد حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ گورڈن کالج راولپنڈی اور امریکہ کی معروف جامعات میں تقابلی عالمی ادبیات (Comparative World Literature) کے پروفیسر کی حیثیت سے انہوں نے متعدد نسلوں کی علمی و فکری تربیت کی۔
ڈاکٹر مقصود جعفری کی علمی بصیرت سے ملکی سیاست کے اہم حلقوں نے بھی استفادہ کیا۔ وہ آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار محمد عبد القیوم خان کے مشیر رہے۔ بعد ازاں پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے پولیٹیکل ریسرچ سیل کے انچارج اور مشیر رہے اور بطور انچارج و مشیر اہم سیاسی و فکری امور میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ پہلو ان کی شخصیت کے اس رخ کو نمایاں کرتا ہے جس میں علم اور عملی سیاست ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے دانش محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے اور ریاست کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے ڈاکٹر مقصود جعفری کے لیے ستارۂ امتیاز کی نامزدگی محض ایک فرد کی ادبی یا علمی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ اس فکر کی پذیرائی بھی ہے جو علم کو انسان دوستی، ادب کو شعور اور قلم کو آزادی کی آواز بنانے پر یقین رکھتی ہے نیویارک میں مقیم ہونے کے باوجود ان کا فکری اور جذباتی رشتہ پاکستان اور کشمیر سے ہمیشہ قائم رہا۔ ان کی کتب، کالم اور مضامین اس وابستگی کے آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پاکستان، کشمیر، انسانی آزادی، جمہوریت اور عالمی امن کے موضوعات کو مسلسل اجاگر کیا۔
ڈاکٹر مقصود جعفری کی شخصیت میں شاعر کی حساسیت، فلسفی کی گہرائی، محقق کی جستجو، استاد کی تربیت اور ایک سرگرم دانش ور کی بے باکی یکجا ہو گئی ہے۔ یہی ہمہ جہت کردار انہیں معاصر علمی و ادبی منظرنامے میں منفرد بناتا ہے۔ 23 مارچ 2027ء کو جب انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جائے گا تو یہ اعزاز صرف ڈاکٹر مقصود جعفری کے سینے پر نہیں سجے گا بلکہ علم، ادب، فکر، انسانی آزادی اور کشمیر کے حق میں بلند ہونے والی اس آواز کے اعتراف کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا جس نے سرحدوں سے بلند ہو کر اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔










