لفظ کی موسیقی شعر میں محض ظاہری تال کا نام نہیں بلکہ دو بنیادی صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ خارجی موسیقیت کا براہِ راست تعلق لفظ کی ظاہری صوتیات، تلفظ کی ادائیگی اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے ہوتا ہے۔شاعر الفاظ کی ایسی نشست و برخاست کا اہتمام کرتا ہے جس سے کانوں میں ایک نغمگی رس گھولتی محسوس ہوتی ہے۔ داخلی موسیقیت کا تعلق لفظ کی معنوی تاثیر اور اس کے اندر چھپے گہرے جذبے سے ہے بعض اوقات الفاظ اپنے معانی کے جادو سے سامعین کے اذاہان میں ایک خاص کیفیت اور صوتی گونج پیدا کر دیتے ہیں جس سے تفہیمِ شعر آسان ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مشکل کلاسیکی غزلیں اپنے مخصوص شعری آہنگ کے ساتھ سنی جاتی ہیں تو لوگ ان کی معنویت پر سر دھنتے نظر آتے ہیں۔
فنی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہر شاعر بنیادی طور پر پہلے ایک موسیقار ہوتا ہے جو لفظوں سے نغمگی کشید کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ اپنے جذبۂ آہنگ کے ذریعے خیالات کو الفاظ کے صوتی وزن کی مناسبت سے ترتیب دیتا ہے اور تال اور ہم آہنگی سے آشنا کر کے شعر کا روپ عطا کرتا ہے۔ فنونِ لطیفہ میں شاعری اور موسیقی ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ان میں صرف زبان کا فرق ہے۔ شاعر الفاظ کا سہارا لیتا ہے اور موسیقار سروں کے ذریعے ان نازک جذبات کا ابلاغ کرتا ہے جو الفاظ کی گرفت میں نہیں آ پاتے۔ شعر کے بنیادی ترکیبی عناصرلفظ، وزن، بحر اور خیال،موسیقی کے عناصرِ ترکیبی،سُر، تال اور لے،کے بالکل متوازی کام کرتے ہیں۔ علمِ عروض میں لفظ کی صوت کو کسی بحر کے ارکان پر پرکھا جاتا ہے جبکہ موسیقی میں یہی عمل تال کے ماتروں پر سروں کی بندش سے انجام پاتا ہے۔ بحر اور تال کا مشترکہ مقصد وزن کی حفاظت اور اس کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ ہر بحر اور تال اپنے مخصوص ارکان یا ماتروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے منفرد ہوتے ہیں اور تاریخ میں عروض و تال کی اصطلاحات اور فارمز میں گہری یکسانیت پائی گئی ہے۔
تاریخ کے عظیم صوفی شعراء موسیقار پہلے اور شاعر بعد میں تھے جنہوں نے راگ راگنیوں کو اپنی شاعری کا قالب بنایا۔ ابراہیم عادل شاہ نے اپنی کتاب ’’نورس‘‘ میں راگ راگنیوں کی تشریح نظموں اور گیتوں کے ذریعے کی انہوں نے راگوں کا تعارف الفاظ کی صورت میں اس طرح کرایا کہ راگ کا بصری تصور تخیل میں ابھر آتا ہےجیسے دیسی راگنی، راگ میگھ ملہار میں برسات کو ایک سانولی عورت سے تشبیہ دینا اوراسی طرح ایک اور راگ کو ایک حسین و جمیل عورت کی مورت میں پیش کرنا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے سندھ میں بھٹ شاہ کے مقام پر موسیقی کے احیاء کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا ایک نیا ساز ایجاد کیا اور ہندی راگ راگنیوں (جیسے سُر سوہنی، سُر ملہار) کی طرز پر اپنی لازوال نظمیں تخلیق کیں۔
امیر خسرو نے ایرانی اور ہندی راگوں کے خوبصورت تال میل سے نئی اختراعات کر کے علمِ موسیقی کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ بابا بلھے شاہ کی کافی کا مشہور مصرعہ ’’تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا‘‘جہاں عشق کی بے خودی کو ظاہر کرتا ہے وہاں ’’تھیا تھیا‘‘کے الفاظ تال اور رقص کے تال میل کی شعوری عکاسی کرتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کی کافیوں میں ملتانی راگنی کا اضطراب اور فراق صاف محسوس ہوتا ہے اور مادھو لعل حسین نے علاقائی راگوں کی طرز پر اپنی کافیاں ترتیب دیں جن کا تخیلاتی نظام راگوں کی داخلی کیفیت سے جڑا ہوا ہے۔
تاریخ کے قدیم ترین سازوں میں بانسری نے ہمیشہ انسانی سماعتوں میں مٹھاس اور رس گھولی ۔ اس کا جادو ایسا ہے کہ اس نے ہوش مندوں کو مدہوش کیا اور دیوانوں کو معرفت کی راہ دکھلائی۔ برصغیر کی فلمی موسیقی اور شاعری میں بانسری (جسے ونجھلی یا بنسی بھی کہا جاتا ہے) کا رشتہ بہت گہرا رہا ہے۔ کلاسیکی گیتوں جیسے ہیر رانجھا کا لازوال نغمہ ’’سن ونجلی دی مٹھری تان وے‘‘ یا فلم جاگ اٹھا انسان کا گیت ’’بنسی بجائے کوئی ندیا کے پار‘‘ اور فلم بڑے میاں دیوانے کا نغمہ ’’او میرے سانوریا بانسری بجائے جا‘‘ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جب شاعری بانسری کے سحر انگیز ردھم اور سروں کے ساتھ ملتی ہے تو وہ ابدی اور لازوال ہو جاتی ہے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں شاعری اور سحر انگیز ردھم کا تعلق کئی صدیوںپر محیط ہےجس کا تسلسل مختلف انداز میں اب بھی جاری ہے۔











