بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

عالمی تجارت کی تین سمندری شہ رگیں

عالمی تجارت کی تین سمندری شہ رگیں


 تحریر احسن انصاری


عالمی معیشت بڑی حد تک بین الاقوامی تجارت پر انحصار کرتی ہے، اور دنیا کی 80 فیصد سے زائد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اگرچہ سمندر براعظموں کو آپس میں جوڑتے ہیں، لیکن چند تنگ آبی گزرگاہیں یعنی “سمندری چوک پوائنٹس” عالمی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز، باب المندب اور آبنائے ملاکا ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کی شہ رگ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ بڑے پیداواری ممالک، صنعتی مراکز اور صارف منڈیوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اسے دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران اپنی تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں اس راستے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2000 میں تقریباً 13 سے 14 ملین بیرل یومیہ تھی اور آج تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ تیل کی کھپت اور ایک چوتھائی سمندری تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ بھی اسی آبنائے سے منتقل ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی توانائی منڈیوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی، سیاسی بحران یا رکاوٹ فوراً عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے ایشیائی ممالک اپنی توانائی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی سلامتی کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت حاصل ہے۔باب المندب ایک اور نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جو یمن اور افریقہ کے ہارن کے درمیان واقع ہے۔ یہ آبنائے خلیج عدن اور بحر ہند کو بحیرہ احمر اور نہر سوئز سے ملاتی ہے۔ یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان براہ راست سمندری رابطہ فراہم کرتا ہے۔ تیل، صنعتی سامان، خوراک اور دیگر تجارتی اشیاء اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں سالانہ تقریباً 12,000 سے 15,000 جہاز گزرتے تھے، جو حالیہ برسوں میں 20,000 سے زائد ہو چکے ہیں۔ حالیہ بحیرہ احمر کے بحران کے دوران جب تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے تو کئی شپنگ کمپنیوں کو مجبوراً اپنے راستے تبدیل کر کے افریقہ کے جنوبی سرے (Cape of Good Hope) سے سفر کرنا پڑا۔ اس سے سفر کا وقت، ایندھن کے اخراجات، انشورنس اور مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آبنائے ملاکا تیسری اور انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحر ہند کو جنوبی چین کے سمندر اور بحر الکاہل سے جوڑتی ہے۔ یہ ایشیا کا سب سے مصروف تجارتی راستہ اور دنیا کے مصروف ترین آبی راستوں میں سے ایک ہے۔

چین، جاپان، جنوبی کوریا اور جنوب مشرقی ایشیا کی اقتصادی ترقی نے اس راستے کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ 2000 میں اس راستے سے تقریباً 55,000 جہاز گزرتے تھے، جبکہ آج یہ تعداد 100,000 سے زائد سالانہ ہو چکی ہے۔ روزانہ تقریباً16 ملین بیرل تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جبکہ عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 28 فیصد حصہ اسی گزرگاہ سے منسلک ہے۔ اس راستے سے الیکٹرانکس، گاڑیاں، مشینری اور صنعتی مصنوعات دنیا بھر میں منتقل ہوتی ہیں۔ چونکہ مشرقی ایشیا دنیا کا صنعتی مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے آبنائے ملاکا کا بلا تعطل چلنا عالمی سپلائی چین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی تجارت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ تینوں سمندری راستے مل کر ایک مسلسل نیٹ ورک بناتے ہیں جو خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا کے صنعتی مراکز اور یورپ و امریکہ کی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ عالمی توانائی اور تجارت کا بڑا حصہ انہی راستوں سے گزرتا ہے۔ گزشتہ تیس سالوں میں عالمی تجارت میں اضافے کے ساتھ ان راستوں کی اہمیت بھی مسلسل بڑھتی گئی ہے۔ آج آبنائے ہرمز روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل منتقل کرتی ہے، باب المندب ایشیا اور یورپ کے درمیان اہم دروازہ ہے، جبکہ آبنائے ملاکا عالمی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتی ہے۔ اگر ان میں سے کسی بھی راستے میں طویل رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ لاگت میں اضافہ، سپلائی چین کی خرابی، مہنگائی اور عالمی اقتصادی ترقی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتیں ان سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے اپنی بحری موجودگی برقرار رکھتی ہیں۔ آج کی دنیا میں یہ تینوں سمندری گزرگاہیں صرف جغرافیائی راستے نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی شہ رگیں ہیں۔ قوموں کی معیشت، منڈیوں کا استحکام اور عالمی سپلائی چین کی کارکردگی ان ہی راستوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مستقبل میں عالمی تجارت کے مزید پھیلاؤ کے ساتھ ان کی اہمیت مزید بڑھتی جائے گی۔

احسن انصاری 24
Advertisement
Advertisement

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر، 100 روپے کا ریلیف کچھ سہولت دے گا: مصدق ملک

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کمی

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حتمی فیصلہ آج متوقع

سعودی عرب کے متعدد شہروں میں حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ، ہنگامی الرٹ جاری

نیکی کا پھل

پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت متعدد نامزد

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×