بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

محبت کی زبان

محبت کی زبان

تحریر: چوہدری سہیل مہدی گوجر 


کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے مناظر دکھا دیتی ہے جو کتابوں میں پڑھے ہوئے کسی سبق سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ واقعات چند لمحوں کے ہوتے ہیں، مگر انسان کے اندر برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے بھی ایک ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا جس نے مجھے دیر تک خاموش رکھا اور سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے آخر اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے ہیں؟

میں ایک جگہ بیٹھا چند لوگوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بظاہر معاملہ معمولی تھا، مگر بات چیت میں شکایت، غصہ، طنز اور سختی نمایاں تھی۔ ایک شخص دوسرے کی غلطیاں گنوا رہا تھا اور دوسرا اپنی صفائیاں پیش کر رہا تھا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ خود کو درست سمجھ رہے تھے۔ بات چھوٹی تھی، مگر لہجے اتنے سخت تھے کہ محسوس ہو رہا تھا جیسے الفاظ نہیں، تیر چل رہے ہوں۔

میں خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

وہاں ایک عمر رسیدہ شخص بھی بیٹھا تھا جو کافی دیر سے خاموشی کے ساتھ سب کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا نہ حیرت، بس ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے بہت نرم لہجے میں کہا:

"بیٹا، ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کبھی خاموشی بھی بہت کچھ سمجھا دیتی ہے۔ سامنے والے کی بات تحمل سے سنو، اس کی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اگر جواب دینا ہو تو ایسے الفاظ چنو جو دل نہ دکھائیں۔"

یہ الفاظ میرے کانوں سے زیادہ میرے دل میں اتر گئے۔

میں سوچنے لگا کہ شاید ہماری زندگی کے بہت سے مسائل کی جڑ یہی ہے کہ ہم سننے سے پہلے جواب دینے لگتے ہیں۔ سامنے والا اپنی بات مکمل بھی نہیں کرتا اور ہم ذہن میں اس کا جواب تیار کر لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی بات منوانے کی جلدی ہوتی ہے، مگر دوسرے کی بات سمجھنے کی فرصت نہیں۔

ہم سب چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں سمجھیں، ہماری غلطیوں کو معاف کریں اور ہماری مجبوریوں کو دیکھیں۔ لیکن جب باری دوسرے کی آتی ہے تو ہم فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

برداشت صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔

کبھی غور کیجیے، ایک ہی بات اگر سخت لہجے میں کہی جائے تو دل زخمی کر دیتی ہے، لیکن وہی بات محبت اور نرمی سے کہی جائے تو انسان اسے خوش دلی سے قبول کر لیتا ہے۔

ہمارے گھروں میں بھی اکثر مسائل بات کے نہیں، لہجے کے ہوتے ہیں۔ شوہر بیوی سے، بیوی شوہر سے، والدین بچوں سے اور بھائی بہن ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا لہجہ اسے بنا دیتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ رحم کی آنکھوں سے دیکھنا کیا ہوتا ہے۔

ہم کسی غریب کو دیکھتے ہیں تو اس کے پرانے کپڑے دیکھتے ہیں، اس کی مجبوری نہیں۔ ہم کسی ناکام شخص کو دیکھتے ہیں تو اس کی ناکامی دیکھتے ہیں، اس کی برسوں کی محنت نہیں۔ ہم کسی غصے والے انسان کو دیکھتے ہیں تو اس کا غصہ دیکھتے ہیں، اس کے اندر چھپی ہوئی تکلیف نہیں۔

کیا خبر جو شخص ہمیں سخت مزاج دکھائی دے رہا ہے، وہ اندر سے کسی ایسی جنگ میں مصروف ہو جس کا ہمیں علم ہی نہ ہو؟

اگر ہم دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید ہماری بہت سی شکایات خود بخود ختم ہو جائیں۔

اور پھر آتی ہے محبت کی زبان۔

محبت صرف تحفے دینے یا بڑے بڑے کام کرنے کا نام نہیں۔ کبھی کسی پریشان انسان سے دو نرم الفاظ بول دینا بھی محبت ہے۔ کسی بزرگ کی بات تحمل سے سن لینا، کسی بچے کی غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سمجھا دینا، کسی ملازم سے عزت سے پیش آنا، کسی دوست کی خاموشی کو محسوس کرنا اور کسی ناراض انسان کو پہل کرکے منا لینا—یہ سب محبت کی زبان ہے۔

ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ الفاظ واپس نہیں آتے۔ غصے میں کہے گئے چند جملے شاید ہمیں چند سیکنڈ کا سکون دے دیں، مگر سامنے والے کے دل میں برسوں کا زخم چھوڑ سکتے ہیں۔

کتنے رشتے صرف اس لیے ختم ہو جاتے ہیں کہ دونوں طرف سے کوئی ایک شخص بھی خاموش ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔

کبھی ایک شخص کو جیتنے کے لیے بحث چھوڑنی پڑتی ہے، کبھی رشتہ بچانے کے لیے اپنی انا قربان کرنا پڑتی ہے اور کبھی معافی مانگنے والا غلط نہیں ہوتا، بلکہ رشتے کی قدر کرنے والا ہوتا ہے۔

اس دن اس بزرگ کی بات نے مجھے ایک اور حقیقت سمجھائی کہ ہر جنگ جیتنا ضروری نہیں، کچھ جنگیں چھوڑ دینا ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

ہم پوری دنیا نہیں بدل سکتے، مگر اپنے لہجے کو ضرور بدل سکتے ہیں۔ ہم ہر انسان کی زندگی آسان نہیں کر سکتے، مگر کسی ایک انسان کے لیے آسانی ضرور بن سکتے ہیں۔

آج اگر ہمارے معاشرے میں برداشت کم، غصہ زیادہ اور رشتوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں تو ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔

بات سنیں تو **تحمل سے، دیکھیں تو **رحم سے، اور بولیں تو محبت سے۔

کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔ نہ جانے کون سی ملاقات آخری ملاقات ہو، کون سا سلام آخری سلام اور کون سی گفتگو آخری گفتگو۔

اس لیے جب بھی کسی سے ملیں، اس کے دل پر بوجھ نہ بنیں، اس کے لیے سکون بنیں۔

دنیا کو آج دلیل سے زیادہ احساس، غصے سے زیادہ برداشت اور سخت الفاظ سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔

اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت اصول ہے:

بات سنو تو تحمل سے، دیکھو تو رحم سے، اور بولو تو محبت سے۔


چوہدری سہیل مہدی گوجر 15
Advertisement
Advertisement

وطن عزیز کے لیے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام دینے والے سول ڈیفنس افسران کو زاہد بختاوری کی جانب سے اعزازی شیلڈز

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اغواء غیرملکی باشندہ بازیاب

لاہور، شادمان میں ون ویلر کی ٹکر سے ریسکیو اہلکار جاں بحق

گجرات: 3 سال کی بچی کا قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لرزہ خیزانکشافات

لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×