حضور پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق بارہ اسلامی قمری مہینوں میں چار مہینے حرمت والے مہینے ہیں جن میں ذوالقعد، ذوالحج، رجب اور محرم، مزید یہ کہ ان چاروں کی حرمت کے علاوہ محرم الحرام وہ واحد مہینہ ہے جسے اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے، یعنی " شہراللہ " ویسے تو نوافل کا اہتمام پورے سال کرنا چاہیے لیکن محرم میں بھی نفلی روزے رکھنے سے ماہ رمضان المبارک کے فرضی روزوں جیسا ہی ہے، تاریخ انسانی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اپنے نبیوں کو کڑے امتحانات سے گذارا بالکل اسی طرح نواسہ رسول جن کے وجہ اسلام زندہ ہوا کربلا کے بعد. سے بھی صبر، استقامت، اور اللہ کی راہ میں جان، مال، اولاد قربان کر دینے کی آزمایش سے گذارا جس پر امام حسین علیہ السلام ثابت قدمی سے قایم رہے اور دایم ہوے، واقعہ کربلا ایک پورا " ادارہ " ہے جو امت مسلمہ کو تاقیامت پیغام دیتا ہے کہ ظالم و جابر حاکم کو خاطر میں نہ لانا چاہیے. کلمہ حق کہنے سے کبھی گریز نہیں کرنا خواہ آخری حد تک پہنچ جانا پڑے. اہلبیت کی شہادتوں کو پس پشت ڈال کر دیگر موضوعات میں گم رہنا کبھی بھی دین کی خدمت نہیں کہلائی جاسکتی، صرف محرم الحرام پہ موقوف نہیں بلکہ یہ تو سال بھر کے تمام مہینوں میں بھی حسین علیہ السلام کی جاوداں ہوجانے والی شہادت کو نہ بھولنے کا متقاضی ہے، مجالس یہی فرض ادا کرتی ہیں کہ اہل بیت کے دکھ میں شریک ہوکر باور کروانا کہ پندرہ سو سال پہلے جو غم دین اسلام کے حصے میں آیا تھا اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں، اسی بیان کو جب نظم کا روپ ملا تو مرثیہ کہلایا. کیونکہ مرثیہ لفظ " رثا" سے نکلا ہے اور رثای ادب میں سب سے زیادہ مقبولیت مرثیہ کو حاصل ہوئی علاوہ ازیں سلام، نوحہ. سوز اور تعزیت بھی تواتر سے لکھے جارہے ہیں، جہاں تک مرثیہ کی روایت کا تعلق ہے مرثیہ قدیم عرب میں اپنے پیاروں کی وفات کے بعد انہیں یاد کرنے کے عمل کو اظہار کرنے کا نام ہے. چونکہ عرب تہذیب میں شاعری جز ولاینفک تھی اور عربوں کے ہاں دور جاہلیت میں بھی بڑے بڑے شہروں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز میں سالانہ مشاعروں کی روایت ملتی ہے جہاں مختلف قبائل اپنے اپنے سرداروں کی شان میں مدح سرائی کرتے تھے، دیگر یہ کہ مختلف قبائلی شعراء کے مابین مقابلے ہوتے اور جیتنے والوں کو انعام و اکرام سے بھی نوازا جاتا یہاں شاعری زیادہ تر قصیدہ گوئی، ہجو. مدح سرائی اور مرثیہ گوی پر مبنی تھی، ان میں سے بہترین قصائد کو معلقات کا نام دیا جاتا تھا، عرب شعراء کی تاریخ میں معروف نام امروالقیس، زہیر بن ابی سلمیٰ، عنترہ بن شداد اور لبید بن ربیعہ ملتے ہیں ان سب نے مرثیے بھی کہے، مرثیہ کی روایت اہل عرب سے چلتی ہوئی اہل فارس کے ہاں پہنچی اور وہاں نمو پزیر ہوئی، یہاں بھی مرثیہ کی ابتداء کسی پیاری ہستی سے بچھڑ کے اسے یاد کرنے کے لیے شعرگوی سے ملتی ہے لیکن واقعہ کربلا کے بعد شہیدان کربلا کے غم کے بیانیہ سے مختص ہوگی، فارسی قدیم مرثیہ گو میں کسای مروزی، محتشم کاشانی، وصال شیرازی،. قآنی شیرازی، اور صباحی بیدگلی کے نام نمایاں ہیں ایران سے مرثیہ کا سفر برصغیر میں سولہویں صدی میں ہوا اور ابتداء جنوبی ہند میں دکن سے ہوئی بعد ازاں اٹھارویں صدی میں دہلی اور اٹھارویں صدی کے ہی اوایل میں لکھنو اور انیسویں صدی کے اواخر میں لکھنو میں پڑاو ڈالا اودھ کے نوابین کی سر پرستی سے مرثیہ کی صنف کی حوصلہ افزائی ہوئی اور دبستان لکھنو میں ہر شاعر نے مرثیہ نگاری میں اپنا حصہ ڈالا، مرثیہ کے اولین دور میں ولی دکنی، سراج اورنگ آبادی اور میر تقی میر جبکہ بعد ازاں میر انیس اور مرزا دبیر نے کلی طور پر مرثیہ کو اختیار کیا جس سے برصغیر میں جب بھی مرثیہ کی تاریخ مرتب ہوگی پہلا نام میر انیس اور دوسرا مرزا علی دبیر کا لیا جائے گا، پاکستان کے قیام 1947 کے بعد بھی مرثیہ نگاری کو لاہور اور کراچی میں ترویج ہوئی، جس میں کراچی کے شعراء نے اپنے غیر منقسم ہندوستان کے وقت کے مرثیوں کو ندرت کے ساتھ برتنا شروع کیا جس سے مرثیہ نگاری کے موضوعات، اسلوب اور فکری جہات میں وسعت پیدا ہوئی، یہاں واقعہ کربلا کے پیغام کو صبر، ایثار، قربانی کے ساتھ ساتھ اس کی کلاسیکی روایت کو بھی برقرار رکھا گیا لیکن جدید شعری اسالیب اور علامتی انداز بھی شامل ہوتے گئے، شعری صناف، مسدسی مخمسی مرثیوں کے علاوہ آزاد و پابند نظم. نثری و معریٰ نظم میں مرثیہ لکھا جارہا ہے جب کہ جاپانی صنف ہایکو اور تظمین میں مرثیہ کہے جانے کے امکانات بھی موجود ہیں، مرثیہ دراصل ظلم کے خلاف مزاحمت، حق و باطل کی کشمکش، اور انسانی آزادی کا استعارہ ہے، مرثیہ کو زبان و بیان کی سادگی. اثر آفرینی اور علامت نگاری قبول عام بناتی ہے. آج کا مرثیہ نہ صرف کربلا کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ انسانی حقوق، آزادی، عدل، صبر اور حق کی سربلندی کا موثر پیغام ہے۔
سید جمال زیدی37
نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید
کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری
اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا
جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے
خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین
تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔
کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی
بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا