بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

مضرِ صحت اشیائےخورونوش خاموش زہر کے خلاف کب جاگے گا پاکستان؟

مضرِ صحت اشیائےخورونوش خاموش زہر کے خلاف کب جاگے گا پاکستان؟

تحریر یاسر دانیال صابری

بازار میں نکلیں تو ہر طرف رنگ برنگی پیکنگ، خوبصورت اشتہارات اور کھانے پینے کی بے شمار چیزیں نظر آتی ہیں۔ دکانوں پر آٹا، گھی، تیل، دودھ، مصالحہ جات، مشروبات، گوشت، مرغی، مٹھائیاں، بیکری کی اشیاء اور مختلف قسم کی تیار شدہ غذائیں فروخت ہو رہی ہیں۔ بظاہر یہ سب معمول کی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم جو کچھ اپنے بچوں اور خاندان کو کھلا رہے ہیں، کیا وہ واقعی محفوظ ہے؟ کیا اس کی تیاری، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت کے ہر مرحلے پر معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر پاکستان میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔مضرِ صحت اور غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فروخت محض ایک تجارتی بے ضابطگی نہیں بلکہ انسانی زندگی اور آنے والی نسلوں کی صحت کا مسئلہ ہے۔ اگر کسی شخص کو ناقص خوراک فروخت کی جاتی ہے تو اس کا نقصان صرف اس ایک وقت کے کھانے تک محدود نہیں رہتا۔ مسلسل غیر معیاری خوراک انسانی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ آلودہ پانی، غیر معیاری تیل و گھی، ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص مصالحہ جات، غیر محفوظ گوشت، زائد المیعاد اشیاء اور غیر مناسب طریقے سے تیار کی گئی خوراک مختلف بیماریوں کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔پاکستان میں خوراک کی نگرانی کے لیے مختلف ادارے اور فوڈ اتھارٹیز موجود ہیں، لیکن اصل چیلنج قوانین کی موجودگی نہیں بلکہ ان کا مؤثر اور مسلسل نفاذ ہے۔ صرف چھاپے مارنا، چند جرمانے کرنا اور تصویری کارروائیاں کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خوراک کے پورے نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر منظم کیا جائے۔حکومت کو چاہیے کہ گندم اور آٹے سے لے کر دودھ، گوشت، مرغی، خوردنی تیل، گھی، مصالحہ جات، مشروبات، منرل واٹر اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی باقاعدہ سیمپلنگ کا نظام قائم کرے۔ مختلف شہروں اور اضلاع سے اچانک نمونے لیے جائیں، انہیں مستند لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کیا جائے اور نتائج شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اگر کوئی کمپنی، فیکٹری، دکاندار یا سپلائر مسلسل غیر معیاری خوراک فراہم کرتا پایا جائے تو محض معمولی جرمانے کے بجائے قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو کولڈ چین اور ذخیرہ کرنے کے نظام کا ہے۔ گوشت، مرغی، دودھ اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیاء اگر مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھی جائیں تو ان میں جراثیمی آلودگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہمارے بازاروں میں بعض مقامات پر گوشت اور مرغی کی صفائی، درجہ حرارت، پانی اور صفائی کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ صرف دکان کا لائسنس دیکھنے کے بجائے صفائی، درجہ حرارت، اسٹوریج اور ہینڈلنگ کے مکمل نظام کا معائنہ کریں۔ملاوٹ کے خلاف جنگ صرف حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ دکاندار، صنعت کار، کسان، تاجر اور صارف سب اس ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ ایک دیانت دار دکاندار یہ سوچ کر ناقص چیز نہیں بیچے گا کہ چند روپے زیادہ کما لیے جائیں۔ ایک ذمہ دار صنعت کار اپنے منافع سے پہلے صارف کی صحت کو اہمیت دے گا۔ اسی طرح ایک باشعور شہری بھی صرف سستی چیز کے بجائے معیاری اور محفوظ خوراک کو ترجیح دے گا۔سب سے زیادہ توجہ بچوں کی خوراک پر دینی چاہیے۔ اسکولوں کے باہر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء، رنگ دار مشروبات، غیر معیاری چپس، ناقص آئس کریم، کھلے مصالحہ جات اور دیگر مصنوعات کی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے۔ بچوں کو وہ چیزیں فروخت کی جا رہی ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں، مگر اگر ان کا معیار ناقص ہو تو یہ ہماری نئی نسل کی صحت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے ہسپتالوں میں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو بھی صرف علاج کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں بیماری کی وجوہات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اگر کسی علاقے میں کسی مخصوص بیماری کے کیسز غیر معمولی طور پر بڑھ رہے ہوں تو وہاں ماحولیاتی عوامل، پانی، خوراک اور دیگر ممکنہ اسباب کا سائنسی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم کسی بیماری کو کسی مخصوص خوراک یا چیز سے جوڑنے سے پہلے مستند طبی اور سائنسی تحقیقات ضروری ہیں۔ افواہ اور تحقیق میں فرق رکھنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔پاکستان میں حفاظتی اقدامات کے طور پر ہر ضلع میں فوڈ ٹیسٹنگ کی سہولت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ موبائل فوڈ لیبارٹریز کو فعال کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں، دیہات اور پہاڑی خطوں سے بھی موقع پر نمونے حاصل کیے جا سکیں۔ ہر ضلع کی سالانہ فوڈ سیفٹی رپورٹ شائع کی جائے جس میں ٹیسٹ کیے گئے نمونوں، ناکام نمونوں اور کیے گئے اقدامات کی تفصیلات موجود ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ QR کوڈ یا ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے صارف کو یہ سہولت دی جا سکتی ہے کہ وہ کسی پیک شدہ چیز کی تیاری، میعاد، کمپنی اور معیار سے متعلق بنیادی معلومات باآسانی دیکھ سکے۔ شکایت درج کرانے کا نظام بھی آسان اور فوری ہونا چاہیے۔ اگر کسی شہری کو کسی چیز میں ملاوٹ یا خرابی کا شبہ ہو تو وہ تصویر، مقام اور تفصیل کے ساتھ شکایت درج کرا سکے اور اسے کارروائی کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جائے۔صارفین کو بھی چند بنیادی احتیاطیں اختیار کرنی چاہئیں۔ کھلی اور غیر معروف جگہ سے دودھ، گوشت اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیاء خریدتے وقت احتیاط کی جائے۔ پیک شدہ اشیاء کی میعادِ استعمال، پیکنگ اور لیبل ضرور دیکھا جائے۔ مشکوک رنگ، بو، ذائقے یا پیکنگ والی چیز استعمال نہ کی جائے۔ خوراک کو صاف اور مناسب درجہ حرارت پر محفوظ کیا جائے اور کچی و پکی خوراک کو الگ رکھا جائے۔لیکن اصل ذمہ داری ریاست اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ایک غریب آدمی اگر بازار سے ایک کلو آٹا، ایک لیٹر تیل یا چند سو روپے کا دودھ خریدتا ہے تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے پیسے کے بدلے اسے محفوظ خوراک مل رہی ہے۔ وہ ہر چیز کو لیبارٹری میں لے جا کر خود ٹیسٹ نہیں کروا سکتا۔ ریاستی اداروں کا وجود ہی اس لیے ہے کہ عام شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مضرِ صحت اشیائے خورونوش کے خلاف کارروائی کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں سے لے کر کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ تک ایک قومی فوڈ سیفٹی پالیسی کے تحت مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں جہاں معیاری لیبارٹری اور نگرانی کا نظام کمزور ہو سکتا ہے، وہاں موبائل لیبارٹریز اور خصوصی ٹیمیں بھیجی جانی چاہئیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خوراک میں ملاوٹ سے حاصل ہونے والا چند روپے کا اضافی منافع کسی خاندان کے علاج کے اخراجات کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ ایک طرف کاروباری شخص معمولی فائدہ حاصل کرتا ہے اور دوسری طرف ایک خاندان بیماری، قرض اور ذہنی اذیت کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے خوراک میں ملاوٹ کو معمولی کاروباری غلطی سمجھنا انتہائی خطرناک سوچ ہے۔پاکستان کے عوام کو صرف سستی خوراک نہیں، محفوظ خوراک چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوڈ سیفٹی کو صحت عامہ کی ترجیح بنائے، لیبارٹری نظام کو جدید کرے، اچانک سیمپلنگ بڑھائے، ٹیسٹ رپورٹس شائع کرے، ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور عوام میں خوراک سے متعلق شعور اجاگر کرے۔ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں ماں اپنے بچے کے ہاتھ میں خوراک دیتے ہوئے یہ نہ سوچے کہ اس میں کیا ملا ہوا ہے۔ جہاں دکاندار کو ملاوٹ سے خوف اور دیانت داری سے عزت ملے۔ جہاں صنعت کار کے لیے معیار صرف کاغذی سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہو۔خوراک انسان کی بنیادی ضرورت ہے، کاروبار ضرور ہے مگر صرف کاروبار نہیں۔ اس کے ساتھ انسانی زندگی جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے مضرِ صحت اشیائے خورونوش کے خلاف جنگ دراصل ایک صحت مند پاکستان کی جنگ ہے، اور یہ جنگ آج نہیں جیتی گئی تو اس کی قیمت ہماری آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔

یاسر دانیال صابری 57
Advertisement
Advertisement

مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا: فضل الرحمان

نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے نامزد کردیا

جیکب آباد میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

ڈیرہ غازی خان میں اینٹی کرپشن کا چھاپہ، ٹیوٹا افسر مبینہ رشوت لیتے گرفتار

مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش ناقابل قبول ہے: شیری رحمان

وزیراعظم شہباز شریف سے فرانس کے سبکدوش سفیر کی الوداعی ملاقات

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×