ہم کہیں نہ کہیں کچھ غلط کر رہے ہیں، یا شاید ابھی جتنا ضروری ہے، اس سے بہت کم کر رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں نوجوان مختلف شعبوں میں ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اسناد ہوتی ہیں، ذہن میں کتابوں کا علم ہوتا ہے اور امتحانات میں حاصل کیے گئے نمبروں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس زندگی کے حقیقی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے؟
یہ سوال محض تعلیمی اداروں کا نہیں، پورے معاشرے کا سوال ہے۔
ایک دلچسپ مگر افسوس ناک منظر کا تصور کیجیے۔ چار سال بوٹنی پڑھنے والا طالب علم اپنے گھر میں رہتا ہے، مگر چھ سات مرلے کے ڈبل اسٹوری گھر میں ایک بھی قدرتی پودا موجود نہیں۔ وہ پودوں کی اقسام، ساخت، افزائش اور افادیت پر امتحان میں بہترین نمبر حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس کے اپنے گھر کی کھڑکی یا صحن پودوں سے محروم ہے۔ یہ محض ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔
اسی طرح نیوٹریشن پڑھنے والے طلبہ غذائیت، متوازن غذا، پروٹین، وٹامنز اور صحت بخش خوراک کے فوائد پر بہترین اسائنمنٹ تیار کر سکتے ہیں، مگر یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں کئی بار استعمال شدہ تیل میں تلے ہوئے سموسے اور غیر معیاری کھانے کھاتے ہوئے صحت مند غذا پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں علم نہیں، سوال یہ ہے کہ ان کا علم ان کی زندگی میں کہاں ہے؟
بزنس پڑھنے والے طالب علم مارکیٹنگ، مینجمنٹ، کاروباری منصوبہ بندی اور انٹرپرینیورشپ کے نظریات یاد کر لیتے ہیں، لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد کیا کرنا ہے تو بڑی تعداد کا جواب ہوتا ہے: "اچھی جاب تلاش کروں گا۔" نوکری یقیناً کوئی بری چیز نہیں، لیکن اگر بزنس کی تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا رہ جائے تو پھر کاروباری صلاحیت، تخلیقی سوچ اور روزگار پیدا کرنے کی تربیت کہاں گئی؟
کمپیوٹر سائنس کے طالب علم چار سال پروگرامنگ، الگورتھمز اور مختلف ٹیکنالوجیز پڑھتے ہیں، مگر ڈگری مکمل ہونے تک بھی ایک چھوٹا سا ڈیجیٹل پراڈکٹ بنانے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں کوڈ لکھنے کا علم تو ہوتا ہے، لیکن کسی حقیقی مسئلے کو شناخت کرکے اس کا ٹیکنالوجی کے ذریعے حل تلاش کرنے کی مشق نہیں ہوتی۔ نتیجتاً ڈگری مکمل ہونے کے بعد بھی وہ کسی ادارے کی طرف سے ملازمت کے موقع کے منتظر رہتے ہیں۔
معاشیات پڑھنے والا طالب علم افراطِ زر کے اسباب، اثرات اور نظریات پر پورا پرچہ حل کر سکتا ہے، لیکن شاید اپنے گھر کے ماہانہ بجٹ پر مہنگائی کے اثرات کا عملی تجزیہ نہ کر سکے۔ وہ ملکی معیشت کے اعداد و شمار بیان کر سکتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتا کہ گزشتہ دو سال میں اس کے اپنے گھر کے اخراجات کس رفتار سے بڑھے اور خاندان کو اپنے بجٹ میں کیا تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
نفسیات پڑھنے والا طالب علم جذباتی ذہانت پر کئی صفحات کا اسائنمنٹ لکھ سکتا ہے، لیکن جب اس کا کوئی دوست ذہنی دباؤ، پریشانی یا ناکامی کا شکار ہو تو شاید اس کے پاس بیٹھ کر چند منٹ خاموشی سے سننے کی تربیت بھی نہ ہو۔ ہم نے اسے انسانی رویوں کے نظریات تو پڑھا دیے، مگر انسانی تعلقات کو نبھانے کی عملی تربیت نہیں دی۔
ماحولیاتی علوم کا طالب علم موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، آلودگی اور ماحول کے تحفظ پر شاندار پریزنٹیشن دے سکتا ہے، لیکن کلاس ختم ہونے کے بعد پلاسٹک کی بوتل کہاں پھینکنی ہے، اس کا خیال نہیں رکھتا۔ تعلیم کے شعبے سے وابستہ طالب علم سیکھنے کے نظریات اور تدریسی طریقوں کی تعریفیں یاد کر لیتا ہے، لیکن اسے حقیقی بچے کے ساتھ بیٹھ کر یہ آزمانے کا موقع نہیں ملتا کہ کون سا طریقۂ تدریس کس بچے کے لیے مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ تھیوری پڑھانا نہیں۔ تھیوری ہر تعلیم کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر مضبوط علمی تربیت ممکن نہیں۔ اصل مسئلہ تھیوری اور عملی زندگی کے درمیان پیدا ہونے والا بے انتہا فاصلہ ہے۔
ہم نے تعلیم کو امتحان تک محدود کر دیا ہے۔ طالب علم کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ نمبر حاصل کرنا بن گیا ہے۔ استاد کا مقصد بعض اوقات علم کی منتقلی کے بجائے نصاب مکمل کرنا رہ جاتا ہے۔ اسائنمنٹ کا مقصد سوچ پیدا کرنا نہیں بلکہ جمع شدہ مواد کو دوبارہ لکھ دینا بن جاتا ہے۔ امتحان یہ جانچتا ہے کہ طالب علم نے کیا یاد رکھا، یہ نہیں کہ اس نے کیا سمجھا اور وہ اس علم کو کہاں استعمال کر سکتا ہے۔
اگر کاروباری صلاحیت کا سوال صرف یہ ہو کہ "انٹرپرینیورشپ کی تعریف لکھیں" تو طالب علم تعریف یاد کرے گا۔ لیکن اگر پانچ ہزار روپے دے کر کہا جائے کہ اس رقم سے ایک چھوٹا سا کاروباری تجربہ کرکے واپس آؤ، اپنی لاگت، آمدن، نقصان، گاہک اور مارکیٹنگ کی تفصیل بیان کرو، تو طالب علم کاروبار کو کتاب کے بجائے زندگی سے سمجھنا شروع کرے گا۔
اسی طرح ماحولیاتی علوم کے طالب علموں کو صرف آلودگی پر لیکچر دینے کے بجائے اپنے کیمپس کا ماحولیاتی آڈٹ کروایا جا سکتا ہے۔ معاشیات کے طلبہ مقامی بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے سکتے ہیں۔ نیوٹریشن کے طلبہ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا کے کھانے کا غذائی تجزیہ کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ مقامی مسائل کے لیے چھوٹی ایپس یا ویب سائٹس بنا سکتے ہیں۔ تعلیم کے طلبہ مختلف اسکولوں میں عملی تدریس کرکے اپنے تجربات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
یہ سرگرمیاں محض اضافی مشغلے نہیں، بلکہ تعلیم کا حصہ ہونی چاہئیں۔
ہمیں اپنے اسائنمنٹ اور امتحانی نظام پر بھی سنجیدگی سے نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ایسے سوالات کم کرنے ہوں گے جن کے جواب چند صفحات یاد کرکے لکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے بجائے ایسے سوالات دیے جائیں جو طالب علم کو سوچنے، فیصلہ کرنے، تجزیہ کرنے اور مسئلہ حل کرنے پر مجبور کریں۔
یونیورسٹی کو بھی چار دیواری سے باہر نکلنا ہوگا۔ اسے صنعت، کاروباری اداروں، سرکاری محکموں، ہسپتالوں، اسکولوں، بازاروں اور معاشرے کے حقیقی مسائل سے جوڑنا ہوگا۔ طالب علم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ جو کچھ وہ کلاس روم میں پڑھ رہا ہے، اس کا تعلق اس کے اردگرد موجود دنیا سے ہے۔
اس پورے عمل میں استاد کا کردار بھی بدلنا ہوگا۔ استاد صرف لیکچر دینے والا شخص نہیں بلکہ رہنما، مشیر اور مسئلہ حل کرنے کے سفر کا ساتھی ہونا چاہیے۔ طالب علم کو سوال کرنے، غلطی کرنے، دوبارہ کوشش کرنے اور اپنے تجربے سے سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، نئی ٹیکنالوجیز اور بدلتی ہوئی مارکیٹ نے روزگار کی تعریف تک بدل دی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف معلومات یاد رکھنے والا طالب علم زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتا۔ مستقبل اس نوجوان کا ہے جو مسئلہ سمجھ سکے، سوال اٹھا سکے، تحقیق کر سکے، ٹیم کے ساتھ کام کر سکے، ٹیکنالوجی استعمال کر سکے اور اپنے علم کو عملی حل میں تبدیل کر سکے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یونیورسٹی کا مقصد صرف ڈگری دینا ہے یا انسان تیار کرنا؟
چار سال بعد طالب علم کے ہاتھ میں ایک ڈگری ضرور ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ تجربہ بھی ہونا چاہیے؛ علم کے ساتھ ہنر بھی؛ نظریے کے ساتھ عمل بھی؛ اور نوکری کی خواہش کے ساتھ روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت بھی۔
آخرکار کامیاب تعلیمی نظام وہ نہیں جس میں طالب علم چار سال بعد ہزاروں صفحات یاد کرکے امتحان پاس کر لے۔ کامیاب تعلیمی نظام وہ ہے جس میں طالب علم چار سال بعد اپنے علم کو زندگی کے حقیقی مسائل پر استعمال کرنا جانتا ہو۔
ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ طالب علم نے چار سال میں کیا یاد کیا؛ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ چار سال بعد وہ کیا کر سکتا ہے۔
شاید ہمارے تعلیمی نظام کی اصل اصلاح کا آغاز اسی ایک سوال سے ہو سکتا ہے۔











