تحریر: سید مجتبیٰ رضوان
کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت اس کے قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتوں، مضبوط معیشت یا جدید اسلحے میں نہیں بلکہ اس کے انسانوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان انسانوں میں بھی نوجوان وہ طبقہ ہیں جو قوم کی امید، مستقبل، توانائی اور ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی فکر، ان کی صلاحیت، ان کی محنت، ان کا جذبہ اور ان کے خواب کسی بھی ملک کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی وہ تمام قومیں جو آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑی ہیں، انہوں نے سب سے پہلے اپنے نوجوانوں کی تعلیم، تربیت، کردار سازی اور ہنر مندی پر سرمایہ کاری کی۔ پاکستان بھی ایک ایسی خوش نصیب ریاست ہے جس کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر صحیح سمت، معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، روزگار کے مواقع اور مثبت قیادت حاصل کریں تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی قوت بن سکتا ہے ۔پاکستان کی تاریخ نوجوانوں کے کردار سے بھری پڑی ہے۔ قیامِ پاکستان کی تحریک ہو، ملکی تعمیر و ترقی کا سفر ہو، دفاع وطن کی جنگیں ہوں، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ہوں یا قدرتی آفات میں عوام کی خدمت، ہر موقع پر نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ برصغیر کے نوجوانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد بھی یہی نوجوان ملک کے اداروں، یونیورسٹیوں، صنعتوں، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، ادب، صحافت اور دفاع کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ آج کے دور میں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، سائبر ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، بایو ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں نے ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قوم کامیاب ہوگی جو اپنے نوجوانوں کو جدید علوم، تحقیق، اختراع، تخلیقی سوچ اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرے گی۔ پاکستان کے نوجوان بھی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، مصنوعی ذہانت، طب، انجینئرنگ، کاروبار اور تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اگر ریاست ان کے لیے مزید سازگار ماحول پیدا کرے تو یہی نوجوان پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ نوجوان صرف معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی تبدیلی کے بھی سب سے بڑے محرک ہوتے ہیں۔ جب نوجوان سچائی، دیانت، قانون کی پاسداری، برداشت، خدمت خلق اور قومی وحدت کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں تو پورا معاشرہ مثبت تبدیلی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوان مایوسی، انتہا پسندی، بے روزگاری، منشیات یا نفرت کی سیاست کا شکار ہو جائیں تو قوم کا مستقبل بھی خطرات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، میڈیا اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی کرے اور انہیں قومی تعمیر کے مثبت سفر کا حصہ بنائے۔
پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے نوجوانوں کے سامنے ایسے عظیم کردار موجود ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کی حفاظت کی۔ یہ وہ شہداء ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں سے بڑھ کر پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کو عزیز جانا۔ دنیا کی تاریخ میں وہی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں اور انہیں اپنی قومی شناخت کا حصہ بناتی ہیں۔ شہداء کا خون صرف زمین پر نہیں گرتا بلکہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں وطن سے محبت، وفاداری اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین ہزاروں ایسے شہداء کی قربانیوں سے معطر ہے جنہوں نے دفاع وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ 1948ء، 1965ء، 1971ء اور کارگل سمیت ہر معرکے میں پاکستانی افواج کے جوانوں اور افسروں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بھی پاک فوج، رینجرز، پولیس، فرنٹیئر کور، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور عام شہریوں نے لازوال قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں کی بدولت پاکستان نے امن کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ قوم اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ شہداء کا مقام صرف قومی تاریخ میں نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں بھی انتہائی بلند ہے۔ قرآن مجید میں شہداء کو زندہ قرار دیا گیا ہے اور ان کے بلند مرتبے کو واضح کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں شہادت کو سب سے بڑی سعادت سمجھا جاتا ہے۔ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء دراصل پوری قوم کے محسن ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قربانی آنے والی نسلوں کی آزادی، عزت اور سلامتی کی ضمانت بنتی ہے۔ جب بھی کسی شہید کا جنازہ قومی پرچم میں لپٹا ہوا اپنے آبائی گاؤں یا شہر پہنچتا ہے تو پورا علاقہ اس کے استقبال کے لیے نکل آتا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہوتی ہے مگر ہر دل فخر سے بھی بھر جاتا ہے۔ ایک طرف ماں اپنے جوان بیٹے کی جدائی کا دکھ برداشت کرتی ہے تو دوسری طرف اس کے چہرے پر یہ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ اس کے بیٹے نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو سپرد خاک کرتے ہوئے آنسو بہاتا ہے مگر اس کا سر فخر سے بلند رہتا ہے۔ شہداء کے اہل خانہ دراصل پوری قوم کے محسن ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے سب سے قیمتی رشتے وطن پر قربان کیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے نوجوان شہداء کی قربانیوں کو صرف تقریبات یا یادگاری دنوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ شہداء کا پیغام صرف جنگ لڑنا نہیں بلکہ وطن سے محبت، دیانت داری، فرض شناسی، نظم و ضبط، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا احساس بھی ہے۔ اگر نوجوان اپنے اپنے شعبوں میں پوری دیانت اور محنت کے ساتھ کام کریں، قانون کی پاسداری کریں، تعلیم حاصل کریں، تحقیق کریں، اختراع کریں اور معاشرے کی خدمت کریں تو یہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ اس مستقبل کی بنیاد شہداء کے مقدس خون سے مضبوط ہوئی ہے۔ ایک طرف نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں اور دوسری طرف شہداء پوری قوم کا فخر۔ جب یہ دونوں جذبے ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں تو ایک ایسی مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ ریاست وجود میں آتی ہے جو ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے ہر پاکستانی نوجوان کے دل میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ترقی، امن، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی نئی منزلیں طے کرتا رہے۔پاکستان کے نوجوان صرف آج کے شہری نہیں بلکہ آنے والے کل کے معمار ہیں۔ آج کے طالب علم کل کے سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، جج، سفارت کار، فوجی افسر، صحافی، صنعت کار، سیاست دان اور منتظم ہوں گے۔ اگر ان کی فکری، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت مضبوط بنیادوں پر کی جائے تو وہ ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، رہنمائی اور مثبت مواقع سے محروم رکھا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی بے شمار مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی تعمیر دراصل پاکستان کے مستقبل کی تعمیر ہے۔ آج پاکستان کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں معاشی استحکام، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، توانائی، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے وسائل، زرعی ترقی اور قومی یکجہتی نمایاں ہیں۔ ان تمام شعبوں میں نوجوان کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں نوجوانوں نے نئی ایجادات، تحقیقی منصوبوں، کاروباری سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی معیشتوں کو مضبوط بنایا۔ پاکستان کے نوجوان بھی اسی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں اعتماد، وسائل، تربیت اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
تعلیم نوجوانوں کی شخصیت سازی کا بنیادی ستون ہے۔ ایسی تعلیم جو صرف ڈگری تک محدود نہ ہو بلکہ کردار، تحقیق، تنقیدی سوچ، برداشت، ذمہ داری اور حب الوطنی کو بھی فروغ دے، ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتی ہے۔ تعلیمی ادارے صرف امتحانات پاس کرانے کے مراکز نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے رہنماؤں کی تربیت گاہیں ہوتے ہیں۔ استاد کا کردار یہاں انتہائی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ ایک مخلص استاد اپنے علم اور کردار سے سینکڑوں نوجوانوں کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اسی طرح والدین کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنی اولاد میں دیانت، محنت، نظم و ضبط، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کے جذبات پیدا کریں۔
پاکستان کی تاریخ میں نوجوانوں نے ہر مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ زلزلوں، سیلابوں، وبائی امراض اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ہزاروں نوجوان رضاکاروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ خون کے عطیات سے لے کر متاثرین کی بحالی تک، پاکستانی نوجوانوں نے دنیا کو بتایا کہ خدمتِ خلق ان کی پہچان ہے۔ یہی جذبہ قوموں کو مضبوط بناتا ہے کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھیں، وہاں امید، محبت اور اتحاد کی فضا پروان چڑھتی ہے۔
لیکن قوموں کی حقیقی عظمت صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ ان کرداروں سے بھی وابستہ ہوتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کی بقا کو یقینی بنایا۔ پاکستان کے شہداء اسی عظمت کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کے خواب، اپنے خاندانوں کی خوشیاں اور اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک مقصد کو ترجیح دی، اور وہ مقصد تھا پاکستان کا دفاع، اس کی آزادی اور اس کی سلامتی۔
دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی۔ پاک فوج، فضائیہ، بحریہ، پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بے شمار افسران اور جوان وطن پر قربان ہوئے۔ ان شہداء نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی بلکہ پاکستانی عوام کو امن کا تحفہ بھی دیا۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہے۔ ان عظیم قربانیوں کو فراموش کرنا دراصل اپنی تاریخ اور اپنی شناخت سے غفلت برتنا ہوگا۔
شہداء کی داستانیں صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں۔ پولیس کا وہ اہلکار جو شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے، وہ ڈاکٹر جو وبا کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر مریضوں کی خدمت کرتا ہے، وہ ریسکیو اہلکار جو دوسروں کو بچاتے ہوئے خود زندگی کی بازی ہار جاتا ہے، اور وہ شہری جو وطن کے تحفظ کے لیے اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے، یہ سب اس قوم کے ہیرو ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ عظمت کا راستہ ہمیشہ ایثار، خدمت اور قربانی سے ہو کر گزرتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ شہداء کی زندگیوں کا مطالعہ کرے۔ ان کے کردار میں ایمان، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، جرات، عزم، اخلاص اور وطن سے بے لوث محبت نمایاں تھی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی نوجوان کو ایک کامیاب انسان اور ایک ذمہ دار شہری بناتے ہیں۔ اگر پاکستانی نوجوان ان اقدار کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بہتر ہوگی بلکہ پورا معاشرہ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہداء کی قربانیوں کا تقاضا صرف جذباتی نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی یاد منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں۔ سرکاری ملازم دیانت داری اختیار کرے، تاجر انصاف اور دیانت کے ساتھ کاروبار کرے، استاد خلوص سے تعلیم دے، ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کرے، صحافی سچ لکھے، سیاست دان قومی مفاد کو ترجیح دے اور نوجوان اپنی تعلیم، تحقیق، ہنر اور کردار کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔ یہی وہ عملی راستہ ہے جو شہداء کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
پاکستان کا سبز ہلالی پرچم صرف ایک قومی علامت نہیں بلکہ لاکھوں قربانیوں کی یادگار بھی ہے۔ اس پرچم کی سربلندی کے لیے جن شہداء نے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے احسانات کا بدلہ کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ہم ان کی قربانیوں کا احترام اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنی قومی ذمہ داریوں کو پورا کرکے ضرور کر سکتے ہیں۔ جب نوجوان اپنے دل میں وطن کی محبت، اپنے ذہن میں علم کی روشنی اور اپنے کردار میں دیانت و اخلاص کو جگہ دیتے ہیں تو وہ دراصل شہداء کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی حقیقی طاقت اس کے نوجوان ہیں اور اس کی اصل عزت اس کے شہداء ہیں۔ ایک قوم اس وقت ناقابلِ شکست بن جاتی ہے جب اس کے نوجوان علم، کردار اور محنت سے لیس ہوں اور اس کے شہداء کی قربانیاں اس کی اجتماعی یادداشت کا زندہ حصہ ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو امن، ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو ہر پاکستانی نوجوان کو اپنے دل میں ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیےپاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی کا خواب صرف حکومتوں یا ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت میں نوجوانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی طبقہ قومی قوت، اجتماعی شعور اور مستقبل کی قیادت کی علامت ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں پر اعتماد کیا، انہیں علم، ہنر اور قیادت کے مواقع فراہم کیے اور ان کے کردار کی تعمیر پر توجہ دی، وہ دنیا میں عزت، وقار اور ترقی کی منزلیں طے کرتی گئیں۔ اس کے برعکس وہ قومیں جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو نظرانداز کیا، وقت کے ساتھ کمزور ہوتی چلی گئیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک فیصلہ کن حقیقت ہے کہ اس کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے، اور ان نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے ہمارے پاس سب سے روشن مثال ہمارے شہداء کی لازوال قربانیاں ہیں۔
شہداء کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم مقاصد صرف خواہشات سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قربانی، نظم و ضبط، استقامت اور اخلاص درکار ہوتا ہے۔ وطن سے محبت صرف زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار اپنے فرائض کی ادائیگی، قانون کی پاسداری، قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے اور ہر حال میں سچائی اور دیانت داری کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ جب ایک نوجوان ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ اپنے شعبے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ قوم کا حقیقی سرمایہ بھی بن جاتا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، رینجرز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر قومی ادارے نوجوانوں کے لیے کردار، نظم و ضبط اور قومی خدمت کی بہترین مثال ہیں۔ ان اداروں کے ہزاروں شہداء نے اس سرزمین کے امن، آزادی اور خودمختاری کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کے باعث پاکستان نے دہشت گردی جیسے سنگین خطرے کا مقابلہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت کے لیے متحد ہے۔ ان عظیم قربانیوں نے نہ صرف ملک کو محفوظ بنایا بلکہ نئی نسل کو بھی یہ سبق دیا کہ وطن کی محبت ایمان کا تقاضا اور قومی زندگی کی بنیاد ہے۔
شہداء کی قربانیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے قوم کے دلوں میں امید، حوصلہ اور اتحاد کی شمع روشن کی۔ جب کوئی نوجوان کسی شہید کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد صرف ذاتی کامیابی یا مالی آسودگی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا، معاشرے کی خدمت کرنا اور وطن کی عزت و وقار کے لیے اپنا کردار ادا کرنا بھی ہے۔ یہی سوچ ایک مضبوط، باکردار اور مہذب قوم کو جنم دیتی ہے۔
بدقسمتی سے جدید دور میں نوجوان کئی نئے چیلنجز کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، جھوٹی معلومات، اخلاقی انحطاط، انتہا پسندی، منشیات، بے روزگاری اور مایوسی جیسے مسائل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ کھیل، ادب، تحقیق، ٹیکنالوجی، سماجی خدمت، رضاکارانہ سرگرمیاں اور قومی تعمیر کے منصوبے نوجوانوں کو ایک مثبت راستہ فراہم کرتے ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری کاموں میں صرف کرتے ہیں تو نہ صرف ان کی شخصیت نکھرتی ہے بلکہ ملک بھی ترقی کرتا ہے۔
پاکستان کے نوجوان آج دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ سائنس، طب، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ، کھیل، فنونِ لطیفہ اور کاروبار کے میدان میں پاکستانی نوجوان نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انہیں مناسب رہنمائی، معیاری تعلیم اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دنیا کی کسی بھی قوم کے نوجوانوں سے کم نہیں۔ یہی نوجوان پاکستان کو علم، معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی شناخت دے سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے اہلِ خانہ کی قربانیاں بھی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے جگر گوشے وطن پر قربان کیے، وہ باپ جنہوں نے اپنے بیٹوں کو قومی پرچم میں لپٹا ہوا سپردِ خاک کیا، وہ بیویاں جنہوں نے صبر و استقامت کی مثال قائم کی اور وہ بچے جنہوں نے اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو کر بھی وطن پر فخر کیا، یہ سب پوری قوم کے احترام کے مستحق ہیں۔ ان خاندانوں کی عزت، دیکھ بھال اور فلاح و بہبود صرف ریاست ہی نہیں بلکہ معاشرے کی بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
قومیں صرف اپنی کامیابیوں سے نہیں بلکہ اپنے محسنوں کی قدر کرنے سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ جو قومیں اپنے شہداء کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل سے بھی دور ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو شہداء کی قربانیوں سے روشناس کرایا جائے۔ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں میں حب الوطنی، قومی یکجہتی، برداشت اور ایثار کے جذبات کو فروغ دیں تاکہ شہداء کا پیغام آنے والی نسلوں تک مؤثر انداز میں منتقل ہوتا رہے۔
پاکستان کا سبز ہلالی پرچم صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ ان عظیم قربانیوں کی علامت ہے جو اس وطن کے بیٹوں اور بیٹیوں نے پیش کیں۔ اس پرچم کی سربلندی کے لیے شہداء نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی اور نوجوانوں کے لیے ایک ایسا راستہ متعین کیا جس میں محنت، دیانت، قربانی اور خدمتِ وطن سب سے بڑی اقدار ہیں۔ اگر آج کا نوجوان اپنی تعلیم پر توجہ دے، اپنے کردار کو مضبوط بنائے، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کرے تو یہی شہداء کے مشن کی حقیقی تکمیل ہوگی۔
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ قوموں کی تقدیر نوجوانوں کے خوابوں سے بنتی ہے اور ان خوابوں کی حفاظت شہداء کے خون سے ہوتی ہے۔ جب ایک طرف نوجوان علم، تحقیق، محنت اور کردار کے ذریعے مستقبل تعمیر کرتے ہیں اور دوسری طرف شہداء کی قربانیاں انہیں مقصد، حوصلہ اور راستہ فراہم کرتی ہیں تو ایسی قوم کو دنیا کی کوئی طاقت ترقی سے نہیں روک سکتی۔ پاکستان بھی اسی روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے نوجوانوں کو قومی سرمایہ سمجھیں، ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔
یوں نوجوان اور شہداء ایک ہی قومی داستان کے دو روشن باب ہیں۔ ایک باب مستقبل کی امید ہے اور دوسرا باب اس مستقبل کی حفاظت کی ضمانت۔ جب یہ دونوں جذبے ایک ساتھ زندہ رہتے ہیں تو قومیں نہ صرف مضبوط ہوتی ہیں بلکہ تاریخ میں ہمیشہ سربلند رہتی ہیں۔۔قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب آنے والی نسلوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ ماضی کی قربانیوں کو صرف یادگاروں اور تقریبات تک محدود رکھیں گی یا انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گی۔ پاکستان کے نوجوانوں کے سامنے بھی یہی امتحان ہے۔ ان کے پاس ایک ایسا وطن ہے جو لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا اور ہزاروں شہداء کے مقدس خون سے محفوظ ہوا۔ اس وطن کی تعمیر، ترقی اور استحکام اب اسی نسل کی ذمہ داری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے توانائی، صلاحیت، علم حاصل کرنے کی قدرت اور جدید دنیا کے مواقع عطا کیے ہیں۔ اگر یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے وقف کر دیں تو پاکستان کا مستقبل یقیناً روشن ہو سکتا ہے۔
آج دنیا علم، معیشت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ ممالک جو کل تک ترقی پذیر کہلاتے تھے، آج نوجوانوں کی محنت، جدید تعلیم، سائنسی تحقیق اور قومی نظم و ضبط کی بدولت عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان بھی ذہانت، صلاحیت اور جذبے میں کسی سے کم نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی نوجوان اپنی قابلیت کے باعث نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر بھی ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار، کھیل، ثقافت اور اختراع کے مساوی مواقع میسر ہوں تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سمت میں بروئے کار لا سکیں۔
نوجوانوں کو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حب الوطنی صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار طرزِ زندگی کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک طالب علم کا دل لگا کر پڑھنا، ایک استاد کا دیانت داری سے تعلیم دینا، ایک ڈاکٹر کا انسانیت کی خدمت کرنا، ایک انجینئر کا معیار پر سمجھوتہ نہ کرنا، ایک تاجر کا ایمانداری سے کاروبار کرنا، ایک سرکاری ملازم کا عوامی خدمت کو عبادت سمجھنا، ایک صحافی کا سچائی کو فروغ دینا اور ایک سیاست دان کا قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھنا، یہ سب حب الوطنی کی عملی صورتیں ہیں۔ یہی وہ رویے ہیں جو شہداء کی قربانیوں کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شہداء نے کبھی ذاتی مفاد، شہرت یا دنیاوی آسائشوں کے لیے قربانی نہیں دی۔ ان کا مقصد صرف پاکستان کی آزادی، سلامتی اور عزت کا تحفظ تھا۔ ان کی زندگیاں اخلاص، ایمان، بہادری، نظم و ضبط اور فرض شناسی کا عملی نمونہ تھیں۔ یہی اوصاف نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر آج کا نوجوان ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی کامیاب ہوگی بلکہ وہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے بھی باعثِ افتخار بنے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہداء کی قربانیاں ہمیں اتحاد کا درس دیتی ہیں۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، قومیتوں اور علاقوں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ شہداء نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کھڑا سپاہی کس زبان یا صوبے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑی شناخت صرف پاکستان تھی۔ یہی جذبہ آج پوری قوم میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم لسانی، علاقائی، سیاسی اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں گے تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور خوشحال ہوگا۔
تعلیمی اداروں، جامعات، مدارس، میڈیا، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت میں اپنا کردار ادا کریں۔ نئی نسل کو صرف جدید علوم ہی نہیں بلکہ کردار، برداشت، قومی یکجہتی، آئین و قانون کی پاسداری، انسانی حقوق کے احترام اور خدمتِ خلق کی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔ ایسی تعلیم ہی ایک مہذب، ترقی یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، جدید ہنر، روزگار، کاروباری سہولیات، تحقیق کے مراکز، کھیلوں کے میدان اور مساوی ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ اسی طرح شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود، بچوں کی تعلیم، صحت، روزگار اور عزتِ نفس کا تحفظ قومی ترجیح ہونا چاہیے، کیونکہ یہ وہ خاندان ہیں جنہوں نے اپنے سب سے قیمتی اثاثے وطن پر نچھاور کیے ہیں۔ ان کا احترام دراصل پاکستان کے نظریے اور اس کی بنیادوں کا احترام ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی قوم نے اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور محنت کو اپنا شعار بنایا، اس نے ہر بحران پر قابو پایا۔ آج بھی اگر نوجوان علم کو اپنا ہتھیار، کردار کو اپنی پہچان، محنت کو اپنا راستہ اور وطن سے محبت کو اپنا نصب العین بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ، پرامن اور خوشحال ممالک کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔
ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں شہداء کی قربانیوں کا تذکرہ زندہ رکھنا ہوگا تاکہ نئی نسل یہ جان سکے کہ آزادی اور امن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ بے شمار قربانیوں کا ثمر ہیں۔ جو قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، وہی اپنے مستقبل کو بھی محفوظ بناتی ہیں۔ شہداء کی یاد صرف آنکھوں میں آنسو لانے کے لیے نہیں بلکہ دلوں میں عزم، کردار میں مضبوطی اور عمل میں دیانت پیدا کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور شہداء اس سرمایہ کی حفاظت کرنے والے وہ عظیم محسن ہیں جن کی قربانیوں نے اس وطن کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ ایک طرف نوجوانوں کی توانائی، علم، ہنر اور خواب ہیں، تو دوسری طرف شہداء کا خون، ان کی قربانیاں اور ان کا لازوال پیغام۔ جب یہ دونوں قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتی ہیں تو قومیں ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہیں۔
آئیے ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے وطن کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، شہداء کے اہلِ خانہ کی عزت و تکریم کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھیں گے اور پاکستان کو ایسا ملک بنانے کی کوشش کریں گے جس پر ہر شہری فخر کر سکے۔ یہی شہداء کے خون کا قرض چکانے کا بہترین طریقہ ہے، یہی نوجوانوں کی حقیقی منزل ہے اور یہی ایک مضبوط، باوقار، ترقی یافتہ اور متحد پاکستان کی ضمانت بھی۔










