تحریر: منور شاہ منور
تاریخ کے اوراق پر کچھ نام روشنائی سے نہیں، کردار کی تابانی سے لکھے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ اپنے عہد کی روح میں اتر کر ایک عہد کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ زمانے کے شور میں گم ہونے کے بجائے اپنی آواز سے زمانے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ان کی سوچ چراغوں کی مانند اندھیروں کا تعاقب کرتی ہے، ان کا قلم خاموش ہونٹوں کی ترجمانی کرتا ہے اور ان کی شخصیت معاشرتی شعور کے افق پر طلوع ہونے والے اس آفتاب کی مانند ہوتی ہے جس کی روشنی مدتوں راستوں کو منور رکھتی ہے گوہر زمان المعروف نیئر سرحدی بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے قلم کو محض ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ امانت سمجھا، لفظ کو محض آرائش نہیں بلکہ ذمہ داری جانا اور سچائی کو محض نعرہ نہیں بلکہ زندگی کا شعار بنایا۔ ان کی شخصیت عل و ادب، فکر و آگہی، تہذیب و شائستگی اور جراتِ اظہار کا ایسا حسین امتزاج ہے جو کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کی زرخیز مٹی صدیوں سے علم و عرفان کے چراغ روشن کرتی آئی ہے۔ اسی دھرتی کے مردم خیز گاؤں چودھوان میں ایک ایسے خانوادے نے نیئر سرحدی کو جنم دیا جس کے در و دیوار پر علم کی خوشبو، دیانت کی روشنی اور خدمتِ خلق کی روایت نقش تھی۔ بابڑ خاندان کا یہ گھرانہ محض ایک خاندان نہیں بلکہ اقدار کا ایک دبستان تھا، جہاں کردار کی تربیت لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے کی جاتی تھی۔ ان کے والد محترم جناب سردار رب نواز خان کوکب سرحدی مرحوم اپنے عہد کی ایک درخشندہ علمی و سماجی شخصیت بابائےقوم قائداعظم محمدعلی جناح کےرفیق کاربلندپایہ شاعرادیب اورقلمکارتھے ۔ ان کی آواز میں منبر کی وقار آفرینی بھی تھی اور قلم میں ادب کی لطافت بھی۔ وہ جب خطاب کرتے تو الفاظ سامعین کے دلوں پر دستک دیتے اور جب لکھتے تو فکر کے دریچے وا ہو جاتے۔ ان کی شخصیت اسلامی اقدار، سماجی بصیرت اور سیاسی شعور کا ایسا سنگم تھی جس نے نیئر سرحدی کی فکری بنیادوں کو استحکام بخشا۔ گویا باپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ ہی بیٹے کے قلم کی روشنائی بن گئے۔ اسی طرح ان کے بھائی فاروق احمد جان بابر آزاد کی شخصیت بھی ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ منصب تک پہنچنے کے باوجود ان کی روح ادب کے گلستان میں بسیرا کرتی تھی۔ ان کے مزاج کی شائستگی، فکر کی لطافت اور اخلاق کی خوشبو نے نیئر سرحدی کے شعور کو جلا بخشی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نیئر سرحدی کی شخصیت دو ایسے میناروں کے درمیان پروان چڑھی جن کی بنیاد علم، کردار اور تہذیب پر استوار تھی۔ نیئر سرحدی نے جب قلم سنبھالا تو اسے مفادات کی زنجیروں میں قید نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے لفظوں کو درباری لباس پہنانے کے بجائے عوامی دکھوں کا ترجمان بنایا۔ ان کے ہاں تحریر ایک عبادت ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک عہد ہے۔ وہ ان قلم کاروں میں شامل ہیں جو لکھتے وقت زمانے کے طاقتور چہروں سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی عدالت سے خوف کھاتے ہیں۔ ان کا معروف کالم "پورا سچ" دراصل ان کی فکری شناخت کا استعارہ ہے۔ یہ محض ایک عنوان نہیں بلکہ ایک عہد، ایک اعلان اور ایک نظریہ ہے۔ جب معاشرے میں سچائی مصلحتوں کے دبیز پردوں میں چھپنے لگتی ہے، جب حقائق مفادات کے بازار میں نیلام ہونے لگتے ہیں، جب قلم خوف کی زنجیروں میں جکڑنے لگتے ہیں، تب نیئر سرحدی کا قلم پورے وقار کے ساتھ سچائی کی گواہی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ احتجاج بھی ہیں، احتساب بھی اور اصلاح کی دعوت بھی۔ ان کی کتاب "پورا سچ" دراصل معاشرے کے زخموں کی تاریخ ہے۔ اس میں شامل کالم ہمارے عہد کے دکھوں، محرومیوں، ناانصافیوں اور اخلاقی زوال کی ایسی تصویریں پیش کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر قاری محض مطالعہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گرد و پیش کو نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ ان کی تحریروں میں صحافت کی بے باکی اور ادب کی لطافت اس طرح ہم آہنگ نظر آتی ہیں جیسے دریا کے پانی میں چاندنی اتر آئی ہو۔ شاعری کے میدان میں نیئر سرحدی احساس کے ایسے مسافر ہیں جو لفظوں کے صحرا میں معنی کے چشمے تلاش کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں محبت کی مہک بھی ہے، وطن کی مٹی کا لمس بھی، انسان دوستی کا پیغام بھی اور وقت کے دکھوں کا نوحہ بھی۔ ان کی شاعری قاری کو محض محظوظ نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کمپیئرنگ اور نظامت میں ان کا انداز ایک الگ دبستان کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ محفل کو چلاتے نہیں، اسے زندگی بخشتے ہیں۔ ان کے جملوں میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور وقار بھی، علم بھی ہوتا ہے اور لطف بھی۔ ان کی آواز سامعین کے دلوں میں اترتی ہے اور ان کی گفتگو محفل کے ماحول کو ایک ادبی تہوار میں بدل دیتی ہے۔ نیئر سرحدی کی اصل عظمت ان کی انسان دوستی میں پوشیدہ ہے۔ شہرت کے سفر میں انہوں نے عاجزی کا دامن نہیں چھوڑا، کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اپنی مٹی سے رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل بڑائی منصب میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے، اصل عزت دولت میں نہیں بلکہ خدمت میں ہوتی ہے اور اصل کامیابی تعریفوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہوتی ہے۔ آج جب لفظوں کی حرمت مجروح ہو رہی ہے، جب قلم مفادات کے ترازو میں تولے جا رہے ہیں اور جب سچائی کو اکثر تنہائی کا سامنا ہے، ایسے میں نیئر سرحدی کی شخصیت ایک روشن مینار کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ وہ قلم کے وقار، سچائی کی عظمت اور انسان دوستی کی روایت کے امین ہیں۔ بلاشبہ نیئر سرحدی صرف ایک فرد کا نام نہیں، ایک فکر کا نام ہے؛ ایک قلم کا نام ہے؛ ایک روایت کا نام ہے۔ وہ سچائی کے اس چراغ کا نام ہیں جو آندھیوں سے لڑتے ہوئے بھی روشن رہتا ہے۔ اور جب تک لفظ زندہ ہیں، جب تک سچائی کی ضرورت باقی ہے، نیئر سرحدی جیسے اہلِ قلم کی اہمیت بھی برقرار رہے گی۔ یہی لوگ زمانے کی اصل دولت ہوتے ہیں، یہی لوگ معاشروں کی فکری میراث ہوتے ہیں اور یہی لوگ آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کے مینار ثابت ہوتے ہیں۔










