تحریر: راجہ افتخار احمد
کالم کے عنوان میں تھوڑی سی مبالغہ آرائ کی گئی ہے جس کے لیے قارئین سے پیشگی معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہاسے کے فوراً بعد آنسوں کی برسات بھی روا دواں ہیں پنجاب سرکار ہر دوسرے دن ایک نیا ادارہ متعارف کروا رہی ہے پھر اس ادارے کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کڑروں روپے کا بجٹ خرچ کیا جاتا ہے عالی شان بلڈنگ لگزری گاڑیاں بڑی بڑی تنخواہیں نوکر چاکر ادارے بنانے کے بعد اور اس میں اپنے لوگ کھپانے کے بعد اس کا سارا خرچ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ضلع چکوال میں ایک نیا ادارہ واسا بھی وجود میں آ چکا ہے وجود میں آتے ہی اس ادارے نے دفاتر میں بیٹھ کر شہریوں کو بل سینڈ کرنے شروع کر دیے ہیں کچھ بل ایک ایک نام پر دو دو گھروں میں بھیجے گئے ہیں بل بھی گھروں کی شکل و صورت اور حجم کے مطابق سینڈ کیے گئے ہیں چھوٹے گھروں میں 1100 روہے جبکہ بڑے گھروں میں 5 ہزار تک کے ماہانہ بل آج بہت سے شہریوں کو موصول ہو چکے ہیں اگر واسا کی بات کی جائے تو جو محکمہ ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہی نہیں ہو سکا جس نے شہر میں ایک دھیلے کا ابھی کام نہیں کیا اس ادارے کے پلیٹ فارم سے بل بنا کر نیچے وزیر اعلی کی تصویر لگا کر انتہائی عجلت میں بھیجنے کی کوئی منطق نہیں بنتی تھی عوام جو پہلے ہی بجلی سوئی گیس ٹیلی فون کے بلوں سے پریشان ہیں ان بلوں میں جو ٹیکسز لگے ہوئے ہیں وہ بھی ہزاروں روپوں میں بنتے ہیں اب ایک اور ماہانہ بل کا اضافہ کر دیا گیا ہے اس بل میں بھی فکس ٹیکس موجود ہیں گویا عوام سے باعزت زندگی گزارنا اور مشکل بنایا جا رہا ہے شہری ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ محکمہ کس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور دوسرا سوال زبان زدہ عام ہے کہ ہمارے گھر میں تو واٹر سپلائی لگی بھی نہیں ہوئی پھر یہ بل کیسے اور کیوں آ گئے ادارے کو کم از کم اتنی تو تکلیف کرنی چاہیے تھی کہ اپنی کارکردگی اپنے ادارے کے اغراض و مقاصد تو شہریوں کو بتائے جاتے شہریوں کو پہلے ذہنی طور پر تیار تو کیا جاتا کہ یہ بل واٹر سپلائی کے نہیں ہے بلکہ یہ پنجاب حکومت کی طرف سے آپ کے لیے خاص تحفہ ہے جو آپ کو ہر صورت قبول کرنا پڑے گا نہ کرنے کی صورت میں آپ قانون کے مہمان خانے میں پہنچ جائیں گے بہرحال پنجاب حکومت نے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے اور آج پنجاب دوسرے صوبوں سے بالکل مختلف اور خوشحال ہے یہیں وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے بہت سے رہنما بڑے فخر سے یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ دوسرے صوبوں کی عوام بھی پنجاب گورنمنٹ جیسی کارکردگی اور پنجاب میں ہونے والی ترقی کی خواہش رکھتی ہیں اس وقت پنجاب میں تقریباً سب شہری ہی 8500 کما رہے ہیں لہٰذا کوئی اپنی غربت کا بھی رونا رو نہیں سکتا










