تحریر سید ارشد علی نقوی
روز عاشور سن61 ہجری کو میدان کربلا میں ہونے والا سانحہ کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہ تھا بلکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ بہت سی فکری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کا منطقی نتیجہ تھا۔ اس واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے کم و بیش نصف صدی پہلے رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کی عظمت و کرامت اور میدان کربلا میں آپ کی شہادت کے بارے میں ایسی احادیث بیان فرمائیں کہ گویا اس واقعہ کا نقشہ پہلے سے کھینچ دیا، یہاں تک کہ اس واقعے کی یاد منانے اور اس سے روشنی حاصل کرنے کا اک عمیق نظام بھی دیا۔ اگرچہ اہل بیت رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے فضائل و مناقب کے بارے میں احادیث جمع کرنے کا بہت گراں قدر کام ہوا ہے مگر اپنے موضوع سے متعلق چند احادیث پر نظر کرتے ہیں:
سنن ترمذی میں ہے : “حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔” رسولِ صادق علیہ السلام کا یہ فرمان بہت سے حقائق کو واضح کر رہا ہے صرف اک نکتہ بیان کرتے ہیں: اسلامی تعلیمات میں بیان کردہ فلسفہ دنیا و آخرت کو اک معروف شعر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے: عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے یعنی انسان کی اخروی زندگی کے مدارج کا فیصلہ دنیا میں انجام دیئے گئے اعمال کی بنیاد پر ہوگا اور یہ ایک مسلمہ دینی و عقلی اصول ہے پس امام حسین علیہ السلام نے آغوش رسول سے دامنِ کربلا تک جو اعمال و افعال انجام دیئے ان کا اخروی معیار جنت کی نہیں بلکہ جنت کی سرداری ہے پس جنتی وہی ہوگا جو اپنے سردار کی اتباع کرے گا مسند احمد میں رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان محفوظ ہے ؛ “حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔” واقعہ کربلا کے سلسلے میں پیغمبر اسلام نے فقط خبر ہی نہیں دی بلکہ مادی و معنوی و معجزاتی شواہد بھی دیئے جیسا کہ ام المومنین جناب ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک تھیلی میں مٹی رکھ کر مجھے عطا کی اور فرمایا کہ یہ مٹی کربلا کی ہے، یہاں میرے بیٹے حسین کو شہید کیا جائے گا۔ کبھی امت کو اس بارے میں خبردار کیا جیسا کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ محبوب خدا نے براہ راست فرمایا: "میری امت میں حسین بن علی کو شہید کیا جائے گا۔لوگوں نے عرض کیا: تو اس کا انجام و آجر و ثواب کیا ہوگا؟ فرمایا: "خدا کی رضا اور میرے درجے میں میرے ساتھ ہوگا۔" حضرت مولا علی علیہ السلام بھی کربلا کی اس عظیم ذمہ داری سے غافل نہ تھے جب آپ علیہ السلام عراق سے واپسی پر کربلا کے مقام پر ٹھہرے، ادھر ادھر دیکھا اور رو دیئے، ساتھیوں کے پوچھنے پر فرمایا: "یہ وہ مقام ہے جہاں میرے بیٹے حسین اور ان کے بہت سے ساتھی شہید کئے جائیں گے۔" حضرت امام حسن علیہ السلام زہر خورانی سے شہادت کے قریب تھے سبھی عزیز و اقارب اس دکھ میں گریہ کر رہے تھے ایسے میں آپ نے امام حسین علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: اے ابو عبداللہ تمہارے دن عاشورا جیسا تو مصیبت کا کوئی اور دن نہیں ہے ۔ تاریخ میں اک سال کو عام الجماعۃ یعنی ہم آہنگی کا سال کہا ہے اگر دیکھا جائے تو یہ اختلاف کا آغاز بھی ہے کیوں کہ جب حکومت وقت نے معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے اقتدار اپنی نسلوں کو منتقل کرنے آغاز کیا تو 61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام کا قیام اور اسی سال شہادت، 68 ہجری میں توابین کا انتقام اور پھر مختار ثقفی کی حکومت کا قیام ، انتقام خون حسین علیہ السلام کے سلسلے میں چلنے والی اور حکومتی ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کے سبب دنیائے اسلام کے اندر اقتدار کی منتقلی کا وہ سنگین بحران پیدا ہوا جس نے امت کو ٹکروں میں تقسیم کر دیا اور یہ عمل آج بھی دیکھا جا سکتا ہے پس واقعہ کربلا محض ایک جذباتی سانحہ نہیں بلکہ اس کی گہرائی میں حق کے متلاشی اور ذوقِ تحقیق رکھنے والے افراد کے لیے سیاسی، سماجی، فکری اور نظریاتی اسباب پوشیدہ ہیں
سماجی اسباب تلاش کرنے کی نظر سے دیکھا جائے تو قبیلہ پرستی (عصبیت) اور جاہلانہ قبائلی روایات کا احیاء، بنو ہاشم اور بنو امیہ کی پرانی دشمنی کو زندہ کرنے کے لئے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کے انتقام لینے کا دعویٰ اور نتیجتاً اس پر برسر عام فخر کرنا بہت سے عوامل سے پردہ اٹھاتا ہے فکری انحطاط و انحراف کے آئینے میں اسباب تلاش کریں تو عوام الناس میں تقدیر کے بارے عدل الٰہی کی بجائے جبر کے نظریے کو فروغ دینا، جس نے ظالم حکمرانوں کو اپنے مظالم پر "اللہ کی مرضی" کا لیبل لگانے کا موقع دیا۔ اور اگر نظریاتی اسباب کی طرف نگاہ کی جائے تو قیادت و سیادت و حکومت کے الہی تصور کو شہنشاہی نظام اور جانشینی کے دنیاوی مفہوم میں بدلنے جیسے عوامل دکھائی دیتے ہیں جو آج تک امت مسلمہ کے سینے میں خنجر کی طرح موجود ہیں ۔










