تحریر ۔۔ حیران مومند
جمہوریت کو اگر ایک تناور درخت سے تشبیہ دی جائے تو اس کی جڑیں مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔ درخت کی شاخیں کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، اگر جڑیں کمزور ہوں تو نہ سایہ دیرپا رہتا ہے اور نہ ہی پھل برقرار رہتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت دنیا کے کامیاب جمہوری ممالک نے مقامی حکومتوں کو ریاست کا بنیادی ستون بنایا، کیونکہ عام شہری کی پہلی ملاقات پارلیمنٹ یا سیکریٹریٹ سے نہیں بلکہ اپنے گاؤں، محلے اور مقامی نمائندے سے ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے "خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2026" نافذ کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم آئینی اور انتظامی پیش رفت ہے، لیکن اس قانون کی اصل اہمیت صرف نئی حد بندیوں میں نہیں بلکہ اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ کیا اس سے مقامی حکمرانی واقعی مضبوط ہوگی یا صرف نام اور نقشہ تبدیل ہوگا؟
نئی ترمیم کے مطابق اب ویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی تیس ہزار سے چالیس ہزار کے درمیان ہوگی، جبکہ آبادی کے تعین کی بنیاد ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کو بنایا گیا ہے اور دس فیصد تک ردوبدل کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس فیصلے کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ ویلج کونسلیں عملی طور پر سابقہ یونین کونسلوں کی حیثیت اختیار کر جائیں گی۔ یوں مقامی حکومتوں کا پورا ڈھانچہ ایک نئے انتظامی قالب میں ڈھلتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس تبدیلی کو ایک نقشے سے تشبیہ دی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پرانے راستوں پر نئی لکیریں کھینچ دی گئی ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نقشہ بدلنے سے سفر آسان نہیں ہوتا، جب تک راستے ہموار نہ کیے جائیں۔ اسی طرح صرف ویلج کونسل کی حدود بڑھا دینے سے عوامی مسائل خودبخود حل نہیں ہوں گے، جب تک ان اداروں کو مالی، انتظامی اور قانونی اختیارات بھی مؤثر انداز میں منتقل نہ کیے جائیں۔ اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑی آبادی پر مشتمل ویلج کونسلیں وسائل کی بہتر تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور انتظامی ہم آہنگی میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ان کے مطابق پہلے بہت سی ویلج کونسلیں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم رکھنا عملی طور پر مشکل تھا۔ نئی حد بندیوں سے منصوبہ بندی زیادہ منظم ہو سکتی ہے اور سرکاری وسائل نسبتاً بہتر انداز میں استعمال کیے جا سکیں گے۔ دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ جب کسی منتخب نمائندے کے دائرہ کار میں آبادی کئی گنا بڑھ جائے گی تو عام شہری اور نمائندے کے درمیان فاصلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ فیصلہ سازی عوام کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو۔ اگر ایک نمائندہ تیس یا چالیس ہزار افراد کی نمائندگی کرے گا تو ممکن ہے کہ دور دراز دیہات، چھوٹی آبادیاں اور کمزور طبقات پہلے کی نسبت کم توجہ حاصل کریں۔ اس لیے یہ خدشہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کہیں انتظامی سہولت کے نام پر عوامی رسائی متاثر نہ ہو جائے۔ اس قانون کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ آبادی کے تعین کو ڈیجیٹل مردم شماری 2023 سے منسلک کیا گیا ہے۔ جدید مردم شماری کے اعدادوشمار کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنا انتظامی انصاف کے اصولوں سے زیادہ ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز کر کے مؤثر نمائندگی ممکن نہیں رہتی۔ تاہم مردم شماری کے اعدادوشمار پر بعض علاقوں میں پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے شفافیت اور عوامی اعتماد برقرار رکھنا آئندہ بھی ضروری ہوگا۔
قانون میں الیکشن کمیشن کو مخصوص حالات میں آبادی کی شرط سے استثنا دینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اصولی طور پر یہ اختیار دورافتادہ، پہاڑی یا غیر معمولی جغرافیائی حالات رکھنے والے علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ہر ضلع کی زمینی حقیقت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ لیکن اس اختیار کے استعمال میں مکمل شفافیت ناگزیر ہوگی، تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ استثنا سیاسی مفادات یا انتخابی مصلحتوں کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ویلج کونسل کا نام بدل گیا یا اس کی آبادی بڑھ گئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے اختیارات بھی اسی تناسب سے بڑھیں گے؟ پاکستان کی مقامی حکومتوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اکثر قوانین تو بنائے گئے، مگر اختیارات اور وسائل اعلیٰ سطح پر ہی مرتکز رہے۔ اگر ترقیاتی فنڈز، مالی خودمختاری، مقامی ٹیکس، منصوبہ بندی اور انتظامی فیصلوں کا اختیار حقیقی معنوں میں مقامی اداروں کو منتقل نہ کیا گیا تو نئی ویلج کونسل بھی محض ایک نئے نام کے ساتھ پرانی مشکلات کا شکار رہے گی۔خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کا نظام پہلے بھی کئی بار تبدیل ہو چکا ہے۔ کبھی یونین کونسلیں بنیادی اکائی رہیں، پھر ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کا تصور متعارف کرایا گیا، اور اب دوبارہ آبادی کا حجم اس سطح تک بڑھا دیا گیا ہے کہ عملی طور پر یونین کونسل جیسا ماڈل واپس آتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا بار بار ادارہ جاتی ڈھانچے بدلنے کے بجائے موجودہ نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانا زیادہ سودمند نہ ہوتا؟
اس تبدیلی کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ نئی حلقہ بندیاں، نئی کونسلیں اور آبادی کی نئی تقسیم آئندہ بلدیاتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہوں گی۔ مختلف سیاسی جماعتیں یقیناً اس قانون کو اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق دیکھیں گی۔ کہیں اسے بہتر نمائندگی قرار دیا جائے گا اور کہیں اسے انتخابی مساوات پر اثر انداز ہونے والا اقدام کہا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ حلقہ بندیوں کا پورا عمل شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق انجام دیا جائے تاکہ کسی قسم کے تنازع کی گنجائش کم سے کم رہے۔اس قانون سے ضلعی انتظامیہ، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی خدمات کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر نئی ویلج کونسلوں کو مؤثر منصوبہ بندی، تربیت یافتہ عملہ، جدید ڈیجیٹل نظام اور واضح مالی اختیارات فراہم کیے جائیں تو صفائی، پینے کے پانی، دیہی سڑکوں، بنیادی صحت اور مقامی ترقی جیسے شعبوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ لیکن اگر صرف جغرافیہ بدلا اور نظام وہی پرانا رہا تو عوام کے لیے اس تبدیلی کی عملی اہمیت محدود رہ جائے گی۔دنیا کے کامیاب مقامی حکومتی نظام اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ مضبوط بلدیاتی ادارے صرف قانون سے نہیں بلکہ اختیارات، وسائل، شفافیت اور جوابدہی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ منتخب نمائندے کو اگر فیصلے کا اختیار نہ ہو، مالی وسائل دستیاب نہ ہوں اور انتظامی آزادی نہ ملے تو وہ عوامی توقعات پوری نہیں کر سکتا، چاہے اس کے حلقے کا نام یونین کونسل ہو یا ویلج کونسل۔آخرکار کسی بھی مقامی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اس کے نام، حدود یا آبادی نہیں بلکہ وہ خدمت ہے جو عام شہری تک پہنچتی ہے۔ اگر خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 واقعی مقامی حکومتوں کو بااختیار، جوابدہ اور مؤثر بناتا ہے تو یہ صوبے میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ لیکن اگر یہ تبدیلی صرف نقشوں، نوٹیفکیشنز اور سرکاری فائلوں تک محدود رہی تو عوام کی زندگی میں کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہوگا۔ جمہوریت کی اصل طاقت قانون کی سطروں میں نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور یہی وہ امتحان ہے جس کا سامنا اب اس نئے مقامی حکومتی نظام کو کرنا ہے۔











