بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

پانچ اگست: کشمیر کی شناخت، حق خودارادیت اور عالمی ضمیر کا امتحان

پانچ اگست: کشمیر کی شناخت، حق خودارادیت اور عالمی ضمیر کا امتحان


تحریر: سید مجتبیٰ رضوان

پانچ اگست 2019ء جنوبی ایشیا کی تاریخ کا وہ دن ہے جس نے نہ صرف جموں و کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت کو یکسر بدلنے کی کوشش کی بلکہ خطے کے امن، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے بارے میں بھی کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے۔ اس روز بھارت نے اپنے آئین کی دفعات 370 اور 35-اے کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔ یہ اقدام محض ایک داخلی آئینی ترمیم نہیں تھا بلکہ ایک ایسے بین الاقوامی تنازع کے مستقبل پر اثرانداز ہونے کی کوشش تھی جسے اقوام متحدہ کئی دہائیوں قبل متنازع تسلیم کر چکی ہے اور جس کے حل کے لیے سلامتی کونسل متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال پانچ اگست کشمیری عوام کے لیے یومِ استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں موجود کشمیری اس دن کو اس عہد کی تجدید کے طور پر یاد کرتے ہیں کہ حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہرگز ترک نہیں کی جائے گی۔ جموں و کشمیر کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت اس ریاست کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے تھا، لیکن حالات نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔ اس کے بعد جنگیں ہوئیں، سفارتی مذاکرات ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادیں سامنے آئیں، مگر مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ اس تنازعے کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ کشمیری عوام کو آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ یہی اصول آج بھی پاکستان کے مؤقف اور بین الاقوامی قراردادوں کا بنیادی ستون ہے۔

پانچ اگست 2019ء کے فیصلے نے اس بنیادی اصول کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی حکومت نے نہ صرف ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی بلکہ اسے دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا۔ اس اقدام سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج تعینات کی گئی، سیاحوں کو واپس بھیجا گیا، تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا اور ہزاروں سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، وکلاء اور نوجوانوں کو گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا۔ دنیا نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ اکیسویں صدی میں ایک پورے خطے کو اطلاعات، مواصلات اور نقل و حرکت سے تقریباً مکمل طور پر محروم کر دیا گیا۔ یہ صورتحال محض سیاسی نہیں بلکہ انسانی المیے میں تبدیل ہو گئی۔ مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ سکے، طلبہ اپنی تعلیم سے محروم ہو گئے، کاروبار بند ہو گئے، خاندان ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر سکے اور پوری وادی ایک غیر یقینی کیفیت میں ڈوب گئی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے ان پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا، مگر عملی طور پر کشمیری عوام کی مشکلات میں فوری کمی نہ آ سکی۔ اس خاموشی نے عالمی ضمیر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ پانچ اگست کے بعد بھارتی حکومت نے آبادی کے تناسب، زمین کی ملکیت اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان پالیسیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سیاسی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایسے تمام اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں کیونکہ متنازع علاقے کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان نے سفارتی سطح پر اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی متفقہ قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور ہر سطح پر ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پانچ اگست صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ لاکھوں کشمیری خاندانوں کے دکھ، جدوجہد اور امیدوں کی علامت بن چکا ہے۔ ایسے ہزاروں خاندان موجود ہیں جن کے افراد برسوں سے لاپتہ ہیں، جنہوں نے اپنے پیاروں کو تشدد، فائرنگ یا قید و بند میں کھو دیا، یا جن کی زندگیاں مسلسل خوف اور غیر یقینی کیفیت میں گزر رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود کشمیری عوام نے اپنی شناخت، ثقافت اور حقِ خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔ یہی ان کی جدوجہد کی اصل طاقت ہے۔ ادب، شاعری، صحافت اور فنونِ لطیفہ نے بھی کشمیر کی جدوجہد کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کشمیری شاعروں نے اپنے دکھ کو الفاظ میں ڈھالا، مصنفین نے تاریخ کو قلم بند کیا اور صحافیوں نے دنیا تک ان کہانیوں کو پہنچانے کی کوشش کی جو اکثر عالمی سیاست کے شور میں دب جاتی ہیں۔ پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے بھی ہر دور میں کشمیر کے مقدمے کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا تاکہ آنے والی نسلیں اس مسئلے کی تاریخی اور انسانی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

پانچ اگست ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے مگر عوامی خواہشات کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں طویل جدوجہد کے بعد مظلوم قوموں نے اپنے حقوق حاصل کیے۔ کشمیر کی داستان بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جہاں امید، حوصلہ اور قربانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پانچ اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس نے نہ صرف کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی سنجیدہ بحث کو جنم دیا۔ اس دن کے بعد وادی میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات نافذ کیے گئے، نقل و حرکت محدود کر دی گئی، مواصلاتی ذرائع معطل کر دیے گئے اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ کشمیری عوام کے لیے یہ صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ان کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی وجود پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا ایک ایسا مرحلہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی معیشت، جو بڑی حد تک سیاحت، باغبانی، دستکاری اور چھوٹے کاروباروں پر انحصار کرتی ہے، مسلسل غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوئی۔ وادی کے سیب، اخروٹ، بادام اور دیگر زرعی مصنوعات عالمی معیار کی شہرت رکھتی ہیں، مگر طویل پابندیوں، نقل و حمل میں مشکلات اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کو شدید متاثر کیا۔ دستکاری سے وابستہ کاریگر، جن کی مصنوعات دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں، اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنے سے محروم رہے۔ سیاحت، جو کشمیر کی معیشت کی ایک اہم بنیاد تھی، بارہا متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، ریستورانوں اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تعلیم بھی ان شعبوں میں شامل ہے جو اس صورتحال سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔ طویل عرصے تک تعلیمی اداروں کی بندش، انٹرنیٹ تک محدود رسائی اور غیر یقینی حالات نے لاکھوں طلبہ کے تعلیمی سفر کو متاثر کیا۔ ایک ایسی نسل جو علم اور ترقی کے ذریعے اپنے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتی تھی، وہ بار بار ایسے حالات سے دوچار ہوئی جنہوں نے اس کی تعلیمی رفتار کو سست کر دیا۔ تعلیم صرف نصابی سرگرمی نہیں بلکہ کسی بھی معاشرے کی فکری اور سماجی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے اس شعبے کو پہنچنے والا نقصان مستقبل کی کئی نسلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ صحت کا شعبہ بھی ان حالات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ مریضوں کو علاج کے لیے سفر میں مشکلات پیش آئیں، بعض اوقات مواصلاتی پابندیوں کی وجہ سے ہنگامی طبی امداد تک رسائی بھی متاثر ہوئی۔ ڈاکٹرز، طبی عملے اور امدادی اداروں نے مختلف مواقع پر اس بات کی نشاندہی کی کہ کسی بھی بحران کے دوران صحت کی سہولیات تک بروقت رسائی بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ جب یہ سہولت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست انسانی جانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی کشمیری معاشرہ ایک طویل دباؤ کا شکار رہا ہے۔ وہ بچے جنہوں نے اپنا بچپن غیر یقینی ماحول میں گزارا، وہ نوجوان جنہوں نے اپنی تعلیم اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے دیکھے، اور وہ بزرگ جنہوں نے کئی دہائیوں سے تنازع کے مختلف ادوار دیکھے، سب کے تجربات ایک ایسے اجتماعی احساس کو جنم دیتے ہیں جس میں اضطراب، بے یقینی اور مستقبل کے حوالے سے تشویش شامل ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مسلسل تنازعات صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود کشمیری عوام کی شناخت اور اپنے حقِ خودارادیت کے مطالبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے اجتماعی شعور میں آزادی اور شناخت کا احساس راسخ ہو جائے تو محض انتظامی اقدامات سے اس جذبے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف جغرافیہ یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، اجتماعی شناخت اور مستقبل کے تعین کے حق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پاکستان نے اس پورے عرصے میں سفارتی سطح پر مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش نہ کیا جائے۔ اسلامی تعاون تنظیم سمیت ئمختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی وقتاً فوقتاً کشمیر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اگرچہ عالمی سیاست کے اپنے تقاضے اور پیچیدگیاں ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی عالمی ایجنڈے پر موجود ایک اہم تنازع ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے اور کئی آزاد مبصرین وقتاً فوقتاً وادی کی صورتحال پر رپورٹس جاری کرتے رہے ہیں، جنہوں نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا۔ پانچ اگست کا دن ہر سال اس عہد کی تجدید کا دن بھی بن جاتا ہے کہ کشمیری عوام کی آواز کو فراموش نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان میں اس روز خصوصی تقریبات، سیمینارز، ریلیاں، مذاکرے اور دعائیہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ، جامعات، سماجی تنظیمیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے اجتماعی شعور کا حصہ ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ابلاغ اور معلومات کی جنگ بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور بین الاقوامی ابلاغی ذرائع رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ کشمیر کے حوالے سے مستند معلومات، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں بات کی جائے تاکہ حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق واضح رہے۔ پانچ اگست کا پیغام صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انصاف، امن اور انسانی وقار کے اصول ہمیشہ زندہ رہنے چاہییں اور دنیا کو ہر ایسے تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے وابستہ ہو۔ عالمی سیاست میں مسئلۂ کشمیر ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جس نے طاقت، اصول اور انصاف کے درمیان موجود تضادات کو نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور سلامتی کونسل کی قراردادیں اقوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف عملی سیاست میں اکثر قومی مفادات، معاشی تعلقات اور تزویراتی ترجیحات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی حل طلب ہے۔ پانچ اگست 2019ء کے بعد یہ تضاد مزید نمایاں ہو گیا، کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے باوجود عالمی برادری کی جانب سے ایسے عملی اقدامات سامنے نہ آ سکے جن سے کشمیری عوام کو فوری ریلیف ملتا یا مسئلے کے حل کی کوئی مؤثر راہ ہموار ہوتی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جنوبی ایشیا دو ایٹمی طاقتوں کا خطہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ کشمیر اس کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔ جب بھی لائن آف کنٹرول پر تناؤ بڑھتا ہے، پوری دنیا کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر اس تنازع کو انصاف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل نہ کیا گیا تو یہ کسی بھی وقت ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو صرف انسانی حقوق یا سفارتی تنازع کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ اس تنازع کا واحد قابلِ قبول راستہ وہی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے ہم آہنگ ہو۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، مختلف عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مسلسل یہ مؤقف دہرایا کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، مذہبی آزادی اور حقِ خودارادیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ سفارتی جدوجہد اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ دلائل، قانون، میڈیا اور عالمی رائے عامہ کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ پانچ اگست کے بعد ایک اور اہم پہلو عالمی ذرائع ابلاغ کا کردار رہا۔ اگرچہ کئی بین الاقوامی اخبارات، جرائد اور انسانی حقوق کے اداروں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹس شائع کیں، لیکن اطلاعات تک محدود رسائی، غیر ملکی صحافیوں کی آمد و رفت پر پابندیاں اور مقامی میڈیا پر دباؤ کے باعث دنیا تک مکمل تصویر پہنچانا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ اس صورتحال نے آزاد صحافت کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ ایک ذمہ دار صحافی صرف خبر نہیں لکھتا بلکہ تاریخ کا گواہ بھی بنتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے صحافت کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق، شواہد اور انسانی پہلو کو دنیا کے سامنے دیانت داری سے پیش کرے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیری نوجوان اس پوری جدوجہد کا سب سے اہم کردار ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں غیر یقینی، کشیدگی اور سیاسی تنازع معمول کی زندگی کا حصہ رہے۔ اس کے باوجود تعلیم، شعور، سماجی سرگرمیوں اور اپنی شناخت کے تحفظ کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی نئی نسل ہوتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کشمیر کا مقدمہ اب صرف سفارتی میزوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کے سامنے بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میدان میں دلیل، تحقیق، مستند معلومات اور ذمہ دارانہ اظہار کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں ہر سال پانچ اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منانے کا مقصد صرف احتجاج ریکارڈ کرانا نہیں بلکہ قومی حافظے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ قومیں اسی وقت مضبوط رہتی ہیں جب وہ اپنے تاریخی معاملات کو فراموش نہیں کرتیں۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض سرحدوں کا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل، شناخت اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے، جامعات، بار ایسوسی ایشنز، صحافتی تنظیمیں، دانشور، ادیب، شاعر اور سول سوسائٹی اس دن مختلف تقریبات کے ذریعے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی تنازع کا پائیدار حل طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں دہائیوں پر محیط تنازعات بالآخر مذاکرات، عوامی امنگوں کے احترام اور بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد پر حل ہوئے۔ کشمیر بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے جس کا دیرپا اور منصفانہ حل اسی وقت ممکن ہوگا جب کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہی اصول اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح بھی ہے اور یہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ پانچ اگست ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قوموں کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صبر، استقامت، شعور اور اتحاد کے ذریعے بھی آگے بڑھتی ہے۔ کشمیری عوام نے کئی نسلوں سے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ان کی قربانیاں، ان کی امیدیں اور ان کا عزم آج بھی اس جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جسے ہر سال پانچ اگست کو دنیا کے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ امن، انصاف اور انسانی وقار کی بنیاد پر ہی ایک روشن مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔ پانچ اگست کا دن ہر سال صرف ایک احتجاج یا یادگار تقریب کے طور پر نہیں آتا بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک سوال بھی لے کر آتا ہے کہ کیا بین الاقوامی قوانین صرف کمزور ریاستوں کے لیے ہیں یا ان کا اطلاق طاقتور ممالک پر بھی یکساں ہونا چاہیے؟ اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ جائیں، اگر انسانی حقوق کے عالمی اصول صرف تقاریر تک محدود ہو جائیں اور اگر حقِ خودارادیت جیسے بنیادی اصول کو سیاسی اور معاشی مفادات کی نذر کر دیا جائے تو پھر عالمی نظام انصاف کی ساکھ کس بنیاد پر قائم رہے گی؟ کشمیر کا مسئلہ اسی بنیادی سوال کو مسلسل زندہ رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بے پناہ مشکلات، قربانیوں اور آزمائشوں کے باوجود اپنی شناخت، ثقافت اور حقِ خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت کم مثالیں ملتی ہیں جہاں ایک قوم مسلسل کئی دہائیوں تک اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ کشمیریوں کی یہی استقامت اس جدوجہد کی اصل طاقت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی آزادی کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ظلم، جبر اور طاقت ہمیشہ کے لیے کسی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ پاکستان کے لیے بھی کشمیر صرف خارجہ پالیسی کا ایک موضوع نہیں بلکہ قومی تاریخ، نظریاتی وابستگی اور عوامی جذبات کا حصہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک ہر حکومت نے مختلف انداز میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ سفارتی سطح پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے عالمی فورمز، پارلیمانی سفارت کاری، بین الاقوامی کانفرنسوں، میڈیا اور مختلف عالمی اداروں میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ یہ سفارتی جدوجہد اس وقت مزید مؤثر ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ مضبوط تحقیق، بین الاقوامی قانون کی گہری سمجھ، مؤثر ابلاغ اور جدید ڈیجیٹل سفارت کاری کو بھی شامل کیا جائے۔

موجودہ دور میں معلومات ہی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عالمی ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس ماحول میں کشمیر کے مقدمے کو صرف جذباتی انداز میں نہیں بلکہ تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین، مستند دستاویزات اور انسانی حقوق کی روشنی میں دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب دلیل مضبوط ہو، تحقیق مستند ہو اور اندازِ بیان متوازن ہو تو عالمی رائے عامہ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل، محققین، صحافیوں، قانون دانوں اور دانشوروں پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کے مقدمے کو علمی اور قانونی بنیادوں پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔ امتِ مسلمہ کے لیے بھی کشمیر محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے مختلف مواقع پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم مستقبل میں اس مسئلے پر مزید مؤثر سفارتی ہم آہنگی، مشترکہ حکمتِ عملی اور مسلسل رابطے کی ضرورت موجود ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، قانونی ماہرین اور بین الاقوامی سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو انسانی وقار اور بین الاقوامی انصاف کے تناظر میں زندہ رکھیں۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں ترقی، تجارت، علاقائی روابط اور عوامی خوشحالی کے بے شمار امکانات موجود ہیں، لیکن جب تک بنیادی تنازعات حل نہیں ہوں گے، ان امکانات سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل رہے گا۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا نام ہے۔ کشمیر کا منصفانہ حل نہ صرف کشمیری عوام کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ پانچ اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے نظریات، اصولوں اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ کشمیر کی جدوجہد اسی اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ حق اور انصاف کی آواز اگر مسلسل بلند کی جائے تو وہ کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ تاریخ کے کئی بڑے فیصلے وقت کے ساتھ ہوئے ہیں، اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ظلم کی عمر ہمیشہ محدود ہوتی ہے جبکہ انصاف کا مطالبہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے سفارتی، قانونی، ابلاغی اور تحقیقی اداروں کو مزید مضبوط بنائے، نوجوان نسل کو کشمیر کی تاریخ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون سے آگاہ کرے، جامعات میں اس موضوع پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کرے، عالمی میڈیا کے ساتھ مؤثر روابط استوار کرے اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو بھی اس قومی مقصد میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ اسی طرح ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فلم سازوں، مصنفین اور دانشوروں کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیر کے انسانی پہلو کو دنیا کے سامنے اس انداز میں پیش کریں کہ یہ مسئلہ صرف سیاسی بحث نہ رہے بلکہ انسانی ضمیر کی آواز بن جائے۔

پانچ اگست کا دن ہمیں مایوسی نہیں بلکہ امید کا پیغام دیتا ہے۔ یہ امید اس یقین سے جڑی ہوئی ہے کہ دنیا میں انصاف، قانون اور انسانی وقار کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کشمیری عوام کی کئی نسلوں نے قربانیاں دی ہیں، بے شمار خاندان آزمائشوں سے گزرے ہیں، لیکن ان کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ یہی استقامت اس جدوجہد کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ آج جب ہم یومِ استحصالِ کشمیر مناتے ہیں تو یہ صرف ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ کشمیر ایک جغرافیائی تنازع سے کہیں بڑھ کر انصاف، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، تقریروں، سفارت کاری، تحقیق اور قومی وحدت کے ذریعے اس آواز کو زندہ رکھنا ہوگا، تاکہ دنیا یہ نہ سمجھے کہ وقت گزرنے سے اصول بھی بدل جاتے ہیں۔ اصول زندہ رہتے ہیں، تاریخ انہیں محفوظ رکھتی ہے اور قومیں انہی اصولوں کی بنیاد پر اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ یہی پانچ اگست کا اصل پیغام ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، انصاف کی امید ختم نہیں ہوتی؛ طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسانی ارادے کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتی؛ اور کوئی بھی قوم، جو اپنے حق، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے لیے متحد ہو، تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ یاد رکھی جاتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد بھی اسی عزم، اسی امید اور اسی یقین کی علامت ہے، اور پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی امن کی بنیاد ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہر سال پانچ اگست پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر تازہ ہو جاتا ہے۔ پانچ اگست کا دن ہر سال صرف ایک احتجاج یا یادگار تقریب کے طور پر نہیں آتا بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک سوال بھی لے کر آتا ہے کہ کیا بین الاقوامی قوانین صرف کمزور ریاستوں کے لیے ہیں یا ان کا اطلاق طاقتور ممالک پر بھی یکساں ہونا چاہیے؟ اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ جائیں، اگر انسانی حقوق کے عالمی اصول صرف تقاریر تک محدود ہو جائیں اور اگر حقِ خودارادیت جیسے بنیادی اصول کو سیاسی اور معاشی مفادات کی نذر کر دیا جائے تو پھر عالمی نظام انصاف کی ساکھ کس بنیاد پر قائم رہے گی؟ کشمیر کا مسئلہ اسی بنیادی سوال کو مسلسل زندہ رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بے پناہ مشکلات، قربانیوں اور آزمائشوں کے باوجود اپنی شناخت، ثقافت اور حقِ خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت کم مثالیں ملتی ہیں جہاں ایک قوم مسلسل کئی دہائیوں تک اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ کشمیریوں کی یہی استقامت اس جدوجہد کی اصل طاقت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی آزادی کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ظلم، جبر اور طاقت ہمیشہ کے لیے کسی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔

پاکستان کے لیے بھی کشمیر صرف خارجہ پالیسی کا ایک موضوع نہیں بلکہ قومی تاریخ، نظریاتی وابستگی اور عوامی جذبات کا حصہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک ہر حکومت نے مختلف انداز میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ سفارتی سطح پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے عالمی فورمز، پارلیمانی سفارت کاری، بین الاقوامی کانفرنسوں، میڈیا اور مختلف عالمی اداروں میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ یہ سفارتی جدوجہد اس وقت مزید مؤثر ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ مضبوط تحقیق، بین الاقوامی قانون کی گہری سمجھ، مؤثر ابلاغ اور جدید ڈیجیٹل سفارت کاری کو بھی شامل کیا جائے۔ موجودہ دور میں معلومات ہی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عالمی ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس ماحول میں کشمیر کے مقدمے کو صرف جذباتی انداز میں نہیں بلکہ تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین، مستند دستاویزات اور انسانی حقوق کی روشنی میں دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب دلیل مضبوط ہو، تحقیق مستند ہو اور اندازِ بیان متوازن ہو تو عالمی رائے عامہ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل، محققین، صحافیوں، قانون دانوں اور دانشوروں پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کے مقدمے کو علمی اور قانونی بنیادوں پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔

امتِ مسلمہ کے لیے بھی کشمیر محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے مختلف مواقع پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم مستقبل میں اس مسئلے پر مزید مؤثر سفارتی ہم آہنگی، مشترکہ حکمتِ عملی اور مسلسل رابطے کی ضرورت موجود ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، قانونی ماہرین اور بین الاقوامی سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو انسانی وقار اور بین الاقوامی انصاف کے تناظر میں زندہ رکھیں۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں ترقی، تجارت، علاقائی روابط اور عوامی خوشحالی کے بے شمار امکانات موجود ہیں، لیکن جب تک بنیادی تنازعات حل نہیں ہوں گے، ان امکانات سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل رہے گا۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا نام ہے۔ کشمیر کا منصفانہ حل نہ صرف کشمیری عوام کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ پانچ اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے نظریات، اصولوں اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ کشمیر کی جدوجہد اسی اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ حق اور انصاف کی آواز اگر مسلسل بلند کی جائے تو وہ کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ تاریخ کے کئی بڑے فیصلے وقت کے ساتھ ہوئے ہیں، اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ظلم کی عمر ہمیشہ محدود ہوتی ہے جبکہ انصاف کا مطالبہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے سفارتی، قانونی، ابلاغی اور تحقیقی اداروں کو مزید مضبوط بنائے، نوجوان نسل کو کشمیر کی تاریخ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون سے آگاہ کرے، جامعات میں اس موضوع پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کرے، عالمی میڈیا کے ساتھ مؤثر روابط استوار کرے اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو بھی اس قومی مقصد میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ اسی طرح ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فلم سازوں، مصنفین اور دانشوروں کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیر کے انسانی پہلو کو دنیا کے سامنے اس انداز میں پیش کریں کہ یہ مسئلہ صرف سیاسی بحث نہ رہے بلکہ انسانی ضمیر کی آواز بن جائے۔ پانچ اگست کا دن ہمیں مایوسی نہیں بلکہ امید کا پیغام دیتا ہے۔ یہ امید اس یقین سے جڑی ہوئی ہے کہ دنیا میں انصاف، قانون اور انسانی وقار کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کشمیری عوام کی کئی نسلوں نے قربانیاں دی ہیں، بے شمار خاندان آزمائشوں سے گزرے ہیں، لیکن ان کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ یہی استقامت اس جدوجہد کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ آج جب ہم یومِ استحصالِ کشمیر مناتے ہیں تو یہ صرف ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ کشمیر ایک جغرافیائی تنازع سے کہیں بڑھ کر انصاف، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، تقریروں، سفارت کاری، تحقیق اور قومی وحدت کے ذریعے اس آواز کو زندہ رکھنا ہوگا، تاکہ دنیا یہ نہ سمجھے کہ وقت گزرنے سے اصول بھی بدل جاتے ہیں۔ اصول زندہ رہتے ہیں، تاریخ انہیں محفوظ رکھتی ہے اور قومیں انہی اصولوں کی بنیاد پر اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔

یہی پانچ اگست کا اصل پیغام ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، انصاف کی امید ختم نہیں ہوتی؛ طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسانی ارادے کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتی؛ اور کوئی بھی قوم، جو اپنے حق، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے لیے متحد ہو، تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ یاد رکھی جاتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد بھی اسی عزم، اسی امید اور اسی یقین کی علامت ہے، اور پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی امن کی بنیاد ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہر سال پانچ اگست پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر تازہ ہو جاتا ہے۔

سید مجتبیٰ رضوان 23
Advertisement
Advertisement

مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا: فضل الرحمان

نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے نامزد کردیا

جیکب آباد میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

ڈیرہ غازی خان میں اینٹی کرپشن کا چھاپہ، ٹیوٹا افسر مبینہ رشوت لیتے گرفتار

مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش ناقابل قبول ہے: شیری رحمان

وزیراعظم شہباز شریف سے فرانس کے سبکدوش سفیر کی الوداعی ملاقات

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×