Advertisement

پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام

پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام

تحریر: ذیشان حیدر

کسی بھی ملک کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ جو قومیں تعلیم جیسے بنیادی ستون کو نظرانداز کرتی ہیں، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد رہی ہے۔ اسی لیے معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا شعبہ آج بھی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ یونیسکو کی مختلف رپورٹس اور دیگر تعلیمی جائزے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ خواندگی کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن تعلیمی نظام کو درپیش بنیادی مسائل اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں کئی سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں بیت الخلا موجود نہیں، کہیں فرنیچر کی کمی ہے، کہیں اساتذہ دستیاب نہیں، کہیں بجلی اور چار دیواری کا فقدان ہے، جبکہ بعض اسکولوں میں عمارتیں بھی ناکافی یا خستہ حال ہیں۔ لاکھوں بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں، اور جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیمی نظام کی کمزوری کی وجہ صرف بجٹ کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی، انتظامی کمزوریاں اور پالیسیوں کے عدم تسلسل بھی اہم عوامل ہیں۔ یہ سوال برسوں سے توجہ طلب ہے کہ تعلیم کو قومی ترجیحات میں وہ مقام کیوں حاصل نہیں ہو سکا جس کی وہ مستحق ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق جدید خطوط پر استوار نہیں ہو سکا۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا خاطر خواہ حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں تعلیم کے لیے نسبتاً محدود وسائل مختص کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاکھوں بچے اپنے بنیادی حق، یعنی تعلیم، سے محروم ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف حکومتوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق تعلیمی پالیسیاں متعارف کرائیں، مگر پالیسیوں میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ نتیجتاً تعلیمی معیار متاثر ہوا اور ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ طبقاتی تقسیم نے بھی تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طرف ایسے ادارے ہیں جہاں جدید ترین سہولیات اور عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔ حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت نے تعلیم کے شعبے میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت نواز شریف ایمیننس اسکولز کا قیام بھی شامل ہے، جن کا مقصد جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان اداروں میں جدید کمپیوٹر لیبارٹریاں، اسمارٹ کلاس رومز، اسٹیم (STEM) لیبارٹریاں، ڈیجیٹل لرننگ سسٹم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہاں مختلف معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت بعض سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ تدریسی معیار اور سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ اگر ایسے اقدامات شفافیت، تسلسل اور مؤثر نگرانی کے ساتھ جاری رہیں تو ان سے تعلیمی شعبے میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دیگر صوبے بھی اپنی ضروریات کے مطابق مؤثر تعلیمی اصلاحات متعارف کرا سکتے ہیں تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ اس شاندار منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں وزیر اعلی پنجاب کو پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے چیرمین شعیب اعوان کی بھر پور معاونت رہی ہے شعیب اعوان نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے دن رات محنت کی ہے ۔ ان کی کوششوں سے پنجاب کے سینکڑوں سکولز کو پارٹنرشپ کے تحت اپ گریڈ کیا گیا ہے ۔  ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اکثر سابقہ حکومتوں کے منصوبے بھی تبدیل یا ختم کر دیے جاتے ہیں۔ اس پالیسی عدم تسلسل نے تعلیمی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر قومی مفاد کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دی جائے اور مؤثر منصوبوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک بھر میں معیاری، یکساں اور جدید نظامِ تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ تعلیمی نصاب، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے تمام صوبوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ تعلیم ہی وہ سرمایہ ہے جو ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

ذیشان حیدر 27
Advertisement
Advertisement

نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید

کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری

اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا

نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات

دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا

جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

Advertisement
×