بنتِ حوا شاہین اختر
پری میرج کاؤنسلنگ میں سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے، کیونکہ والدین اپنے بچوں کو سب سے زیادہ اور سب سے گہرائی سے جانتے ہیں۔ شادی صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں کا بھی تعلق ہے، اس لیے ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد رکھنے میں والدین کا شعوری اور سمجھ دار کردار بہت اہم ہے۔
شادی کا فیصلہ کرنے سے پہلے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کم از کم چار پانچ مرتبہ باقاعدہ نشست کریں۔ صرف یہ نہ پوچھیں کہ تمہیں کون پسند ہے یا کس سے شادی کرنا چاہتے ہو، بلکہ ان کے ساتھ وقت گزاریں، کھانا کھائیں، گپ شپ کریں، ان کے خیالات سنیں، ان کی پسند ناپسند سمجھیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے مستقبل کے شریکِ حیات میں کیا چاہتے ہیں۔جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ بار بار محبت، اعتماد اور بے تکلفی کے ماحول میں بیٹھتے ہیں تو بچے بھی اپنی باتیں کھل کر بتاتے ہیں۔ یوں والدین کو صرف بچے کی پسند ہی نہیں بلکہ اس کی شخصیت، مزاج، ترجیحات اور زندگی کے بارے میں اس کی سوچ کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔اس کے بعد والدین کی دوسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ رشتہ اپنی پسند کے مطابق نہیں بلکہ بچے کی شخصیت، ضرورت اور پسند کے مطابق تلاش کریں۔ والدین کا تجربہ اپنی جگہ بہت قیمتی ہے، لیکن زندگی بچے نے گزارنی ہے۔ اس لیے بچے کی رائے اور رضامندی کو نظر انداز کرکے کیا گیا فیصلہ مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔والدین اپنے بچے کی طبیعت اور مزاج کو سب سے بہتر جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کس طرح کا انسان ہے، اس کی خوبیاں کیا ہیں، کمزوریاں کیا ہیں، وہ کن چیزوں کے بارے میں حساس ہے، اس کی برداشت کتنی ہے اور اسے ازدواجی زندگی میں کس طرح کے ساتھی کی ضرورت ہوگی۔اسی لیے رشتہ طے کرتے وقت لڑکے اور لڑکی کے والدین کو ایک دوسرے کے ساتھ صرف رسمی گفتگو نہیں بلکہ اعتماد اور سچائی کے ساتھ باقاعدہ سمجھ بوجھ پیدا کرنی چاہیے۔ انہیں ایک دوسرے کو اپنے بچوں کے مزاج، عادات، خوبیوں اور ان پہلوؤں کے بارے میں بھی بتانا چاہیے جنہیں شادی کے بعد سمجھنے اور سنبھالنے کی ضرورت ہوگی۔ہم جب کوئی قیمتی چیز کسی کے سپرد کرتے ہیں تو اس کے استعمال اور دیکھ بھال کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس کی خوبیاں کیا ہیں، کن باتوں میں احتیاط کی ضرورت ہے اور اسے کس طرح سنبھالنا ہے۔ پھر ہمارا بچہ تو کسی چیز سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے بیٹی کے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بیٹی کے مزاج اور ضروریات کے بارے میں سسرال کو اعتماد سے آگاہ کریں، اور بیٹے کے والدین بھی اپنے بیٹے کی شخصیت اور ذمہ داریوں کے بارے میں حقیقت پسندانہ گفتگو کریں۔یہ بات شادی کے بعد اور بھی اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ لڑکا اور لڑکی ازدواجی زندگی کے اس مرحلے سے پہلی مرتبہ گزر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سی صورتحال ان کے لیے بالکل نئی ہوتی ہیں۔ وہ ہر مسئلے کو فوراً سمجھ نہیں پاتے، ہر بات کو صحیح انداز میں بیان نہیں کر پاتے اور کبھی اپنی ہی جذباتی کیفیت کو بھی نہیں سمجھ پاتے۔ایسے میں والدین اگر پہلے سے ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں تو وہ اپنے بچوں کی شکایات کو بھی بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر لڑکے اور لڑکی کے والدین کے درمیان پہلے ہی کوئی اعتماد اور انڈراسٹینڈنگ نہ ہو تو صورتحال مختلف ہو جاتی ہے۔ لڑکا اپنی شکایت لے کر اپنے والدین کے پاس جاتا ہے اور لڑکی اپنی شکایت لے کر اپنے والدین کے پاس۔ اگر والدین صرف اپنے اپنے بچے کا دفاع شروع کر دیں اور دوسرے خاندان کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ایک معمولی اختلاف بھی بڑا تنازع بن سکتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کے والدین کے درمیان ایک ایسی سمجھ بوجھ قائم ہو کہ شادی کے بعد اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مسئلے کے خلاف مل کر کھڑے ہوں۔والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر شکایت کا مطلب رشتہ ختم کرنا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بچے صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں سمجھے، ان کی بات سنے اور انہیں صحیح راستہ دکھائے۔ اگر والدین جذبات میں آکر ایک دوسرے کے بچوں کو قصوروار قرار دینے کے بجائے ایک دوسرے سے بات کریں، صورتحال کو سمجھیں اور دونوں طرف کی بات سنیں تو بہت سے مسائل ابتدا ہی میں حل ہو سکتے ہیں۔پری میرج کاؤنسلنگ کا مقصد صرف یہ نہیں کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ لڑکا، لڑکی اور دونوں خاندان اس رشتے کی حقیقت، ذمہ داریوں، مزاج اور ممکنہ چیلنجز کو سمجھ کر آگے بڑھیں۔ایک مضبوط شادی صرف دو لوگوں کی سمجھ بوجھ سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے پیچھے دو خاندانوں کا شعور، اعتماد اور تعاون بھی ہوتا ہے۔اس لیے والدین سے میری گزارش ہے: اپنے بچے کے لیے رشتہ تلاش کرنے سے پہلے اپنے بچے کو سمجھیں، دوسرے خاندان کو سمجھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ کیونکہ شادی کے بعد اگر کبھی بچوں کے درمیان اختلاف ہو بھی جائے تو والدین کا باہمی اعتماد وہ پل بن سکتا ہے جو دو دلوں اور دو خاندانوں کو دوبارہ قریب لے آئے۔










