پندرہ نو مولود شہید قیامت کے دن ہمارے گریبان پکڑیں گے
تحریر: امیر محمد خان
سنا تو یہ تھا کہ دنیا میں جو بھی نومولود آتا ہے، وہ اس پیغام کے ساتھ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا۔ ایک نومولود دراصل امید کی علامت ہوتا ہے، ایک نئے مستقبل کا آغاز۔ مگر اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے وارڈ میں آنے والے پندرہ نومولود اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے ہمارے لیے ایک اور ہی پیغام چھوڑ گئے۔ وہ چند گھنٹوں کی زندگی کے بعد اپنے خالق کے پاس واپس چلے گئے، لیکن جاتے جاتے ہم سب سے ایک سوال کر گئے: **کیا ہم واقعی اپنے بچوں کے محافظ ہیں؟کیا اس سانحے پر صرف ان بدقسمت ماؤں اور باپوں کو رونا چاہیے جن کی گود اجڑ گئی؟ کیا ہم سب کو لرز نہیں جانا چاہیے؟ کیا ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض تو نہیں ہوگیا؟ ہمارے ہاں سانحہ ہوتے ہی سب سے پہلے احساسِ ذمہ داری نہیں جاگتا، بلکہ **دفاعی بیان بازی** شروع ہوجاتی ہے۔وزیر صحت غم زدہ والدین کو یہ بتاتے نظر آئے کہ سامنے آئیں، سب کچھ درست تھا، ڈاکٹر موجود تھے، نرسیں موجود تھیں، عملہ الرٹ تھا۔ اگر واقعی سب کچھ درست تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ پندرہ نومولود زندہ کیوں نہ بچ سکے؟وزیر موصوف جو اتحادی حکومت کی پیداوار ہیں وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے وزیر اعظم کو استعفی دیا ہوا ہے اس بیان کے ذریعے انہوں نے وزیر اعظم پر الزام دھر دیا جبکہ وزیر اعظم نے اپنے پہلے ہی اجلاس میں کچھ لوگو ں کو فارغ کردیا انہیں بھی فارغ کردیا جنکے لئے وزیر صاحب کہتے ہیں کہ انہیں ہدائت کی گئی تھی کہ ایگزیکٹو ڈایکٹر کو نہ چھیڑنے کی ہدائت کی گئی تھی وزیر صاحب کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انہیں یہ ہدایت کس شخصیت یا کس طاقتور حلقے کی طرف سے دی گئی تھی۔ کیونکہ اگر ایک وزیر کو اپنی ہی وزارت کے ایک افسر کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے ہاتھ نہ لگائیں تو پھر یہ محض ایک افسر کا معاملہ نہیں، پورے حکومتی ڈھانچے کا مسئلہ ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں بڑے سانحات کے بعد ایک مخصوص رسم بن چکی ہے۔ پہلے حادثہ، پھر لاشیں، پھر وزرا کے دورے، پھر اجلاس، پھر انکوائری کمیٹی، پھر پریس کانفرنس، پھر بیانات اور آخر میں فائل بند۔اجلاس پر اجلاس ہوتے ہیں، مگر ذمہ دار کا تعین نہیں ہوتا۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ جن لوگوں سے ذمہ داری کا سوال پوچھا جانا چاہیے، وہی اجلاس کی میز پر بیٹھے ہوتے ہیں۔یہ کیسا نظام ہے جس میں حادثے سے پہلے کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا، لیکن حادثے کے بعد ہر شخص ماہر بن جاتا ہے؟حادثے سے پہلے ہم بے خبر، لاعلم اور بے حس ہوتے ہیں۔ حادثہ ہوتے ہی ہمارے پاس وجوہات، دلائل اور منطقوں کا ایک پورا ذخیرہ آجاتا ہے۔کبھی کمپریسر پھٹنے کی بات ہوتی ہے، کبھی شارٹ سرکٹ، کبھی عملے کی غفلت، کبھی چھٹی پر موجود افسر کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش۔ مگر اصل سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے: حفاظتی نظام کہاں تھا؟ اگر ایک حساس ہسپتال کے نومولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگ جائے تو وہاں صرف ڈاکٹر اور نرسیں موجود ہونا کافی نہیں۔ وہاں فائر سیفٹی، الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، تربیت یافتہ عملہ، بجلی کا محفوظ نظام اور فوری انخلا کا مکمل انتظام ہونا چاہیے۔ہم اپنے حکمرانوں کے دفاتر میں سینٹرل ایئر کنڈیشننگ
، جدید سیکیورٹی اور بہترین سہولتوں کا انتظام کرسکتے ہیں، مگر جہاں ملک کا مستقبل پہلی سانس لے رہا ہو وہاں بنیادی حفاظتی نظام بھی یقینی نہیں
بنا سکتے۔ہم دن رات سیکیورٹی کی فکر کرتے ہیں، مگر جہاں ایک ماں اپنے نومولود کو پہلی بار سینے سے لگاتی ہے، جہاں زندگی ابھی دنیا میں قدم رکھ رہی ہوتی ہے، وہاں ہماری ریاستی ترجیحات کیوں بدل جاتی ہیں؟یہ پندرہ بچے کسی طاقتور خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے۔ یہ عام پاکستانیوں کے بچے تھے۔ کسانوں، مزدوروں، دکانداروں اور متوسط طبقے کے ان لوگوں کے بچے جن کے پاس اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بھی کسی بڑے نجی ہسپتال کے علاج کے لیے کافی نہیں ہوتی۔یہی بچے پاکستان کے 2047ء کے خواب کا حصہ بننے والے تھے۔کسی نے ڈاکٹر بننا تھا، کسی نے انجینئر، کسی نے استاد، کسی نے فوجی، کسی نے کاروباری شخص اور شاید کسی نے اسی ملک کا وزیر یا وزیراعظم بھی بننا تھا۔مگر ہم نے ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کی پہلی ہی رات کردیا۔اور شاید اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد بھی ہماری سیاسی ترجیحات نہیں بدلیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ”سسٹم خراب ہے“ بظاہر ایک اعتراف ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سسٹم آخر ہے کیا؟سسٹم کوئی الگ مخلوق نہیں۔ سسٹم ہم بناتے ہیں، افسر بناتے ہیں، وزیر چلاتے ہیں، حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں اور ادارے ان پر عمل کرتے ہیں۔اگر سسٹم خراب ہے تو اسے خراب رکھنے والے کون ہیں؟کیا سسٹم ٹھیک ہونے کے بعد اسے چلانے کے لیے لوگ باہر سے لائے جائیں گے؟ کیا پھرمرحوم معین قریشی یا شوکت عزیزآکر سسٹم ٹھیک کرینگے؟ یا ہمارے اپنے اداروں میں موجود اہل افراد کو ذمہ دار، بااختیار اور جواب دہ بنایا جائے گا؟اصل مسئلہ افراد کی کمی نہیں، **احتساب کی کمی ہے۔ 2014ء میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا۔ معصوم بچے شہید ہوئے۔ قوم لرز گئی۔ عہد کیے گئے کہ آئندہ بچوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی اس سانحہ پر بھی سیاست کررہی ہے مگر کیا بلدیہ فیکٹری کی لاشیں، گلا پلازہ کی لاشیں انہیں یاد نہیں؟؟ہم نے اپنے پچھلے سانحات سے کیا سیکھا؟ہم اجلاس پر اجلاس پر کررہے ہیں، اپنی کھال بچانے کیلئے بتایا یا گیا ہے کہ سانحہ کی اصل ویڈیو غائب کرکے اسکے ایڈیٹ کرکے تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردی گئی،سانحہ کے وقت بتایا گیا کچھ ذمہ داروں کی چھٹی تھی، سرکاری اداروں میں یہ ہی ہوتا چھٹی سے ایک دن پہلے چھٹی اور چھٹی کے دوسرے دن چھٹی مگر چھٹی کے شوقین لوگوں کی یہ کیوں نہیں پتہ کہ اہم اداروں میں اگر ایک کی چھٹی ہو تو کسی اور کو ڈیوٹی پر زیادہ ذمہ داری سے ہونا ضرور ہوتا ہے ہمارے سرکاری نظام میں شائد چھٹی کامطلب ”ذمہ داری کی بھی چھٹی ہوتی ہے“یہ سب بکواس باتیں ہیں وقت گزاری کی دراصل جب ذمہ داروں کو سزا نہیں ملتی تو اگلا سانحہ جنم لیتا ہے۔بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں بھی ایسے سانحات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا لیتی ہیں۔ ایک حکومت دوسری حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے، ایک جماعت دوسری جماعت کے استعفے مانگتی ہے اور پھر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔یہ رویہ شرم انگیز ہے احتساب سیاسی وابستگی نہیں، اصول ہونا چاہیے۔
قوم کو اجلاسوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ قوم کو نتائج چاہئیں۔ان پندرہ بچوں کے والدین کو یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ فائل کس میز پر ہے۔ انہیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ ان کے بچے کیوں نہ بچ سکے، کس کی غفلت تھی اور آئندہ ایسا سانحہ روکنے کے لیے کیا عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔ریاست کا اصل امتحان حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے ہوتا ہے۔اگر حکومت حادثے سے پہلے حفاظتی نظام قائم نہیں کرسکتی اور حادثے کے بعد صرف بیانات اور اجلاس کرسکتی ہے تو پھر ”سسٹم“ کی خرابی کا اعتراف کافی نہیں، **سسٹم کی اصلاح بھی ضروری ہے۔**کیا یہ بھی فیلڈ مارشل ٹھیک کرینگے؟
امیر محمد خان11
پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر، 100 روپے کا ریلیف کچھ سہولت دے گا: مصدق ملک
پاکستان میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کمی
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حتمی فیصلہ آج متوقع
سعودی عرب کے متعدد شہروں میں حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ، ہنگامی الرٹ جاری
نیکی کا پھل
پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت متعدد نامزد
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے
خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین
بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا
تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔
جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف