Advertisement

یومِ استحصالِ کشمیراور حقِ خودارادیت

یومِ استحصالِ کشمیراور حقِ خودارادیت

تحریر: اصغر علی مبارک

5 اگست 2019 تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کر کے وہاں فوجی محاصرہ مسلط کیا۔  یہ اقدام نا صرف کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ لاکھوں کشمیری آج بھی بدترین ظلم، جبری گمشدگیوں اور اظہارِ رائے پر پابندی جیسے مظالم سہہ رہے ہیں۔  پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کا استحصال کسی صورت قبول نہیں!  کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ کشمیریوں کا حقِ خودارادیت ان کو ہر حال میں دیا جانا چاہیے۔ پاکستان بھر میں 5 اگست 2026 کو یومِ استحصالِ کشمیر روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا تا ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض بھارتی فوج کے گزشتہ سات سال سے جاری سخت ترین محاصرے اور ظلم و ستم کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس دن کی مناسبت سے ایک وسیع اور جامع قومی پروگرام تشکیل دیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت تمام صوبائی دارالحکومتوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں، سیمینارز اور یکجہتی واکس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ امورِ کشمیر، وزارتِ خارجہ اور تمام سرکاری و نجی ادارے اس مہم کا حصہ ہیں تاکہ عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی سنگینی کا احساس دلایا جا سکے۔اس دن کی مرکزی سرگرمیوں کا آغاز صبح کے وقت ایک منٹ کی خاموشی سے ہوگا جس کے دوران ملک بھر میں ٹریفک کی روانگی مکمل طور پر روک دی جائے گی اور سائرن بجائے جائیں گے جس کے فوری بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے فضائیں گونج اٹھیں گے۔ صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور دیگر سیاسی و سماجی رہنما خصوصی پیغامات جاری کریں گے جبکہ حریت قیادت اور سول سوسائٹی کے ارکان کی زیرِ نگرانی بڑی ریلیاں نکالی جائیں گی جن میں مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں اور کشمیری رہنماؤں کی غیر قانونی حراست کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا۔میڈیا کے محاذ پر ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن اور تمام نجی چینلز خصوصی دستاویزی فلمیں، ٹاک شوز اور رپورٹس نشر کر رہے ہیں جن میں کشمیر کی تاریخی حیثیت اور آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کو تفصیل سے اجاگر کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کے لیے مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اس دیرینہ تنازع سے روشناس کرایا جا سکے۔ سفارتی سطح پر دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانے اور ہائی کمیشنز عالمی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تھنک ٹینکس کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے مقامی دفاتر کو احتجاجی یادداشتیں بھیجی جا رہی ہیں تاکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دلایا جا سکے۔ پون صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی پورے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کے لیے اپنے تمام وسائل اور ہتھکنڈوں کو استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان نے کشمیریوں کی ہمیشہ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔ بھارت تمام تر ظلم و جبر، تشدد و گرفتاریوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا، کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکا۔ ان کی جدوجہد کو روک نہیں سکا، اس بات کو کسی طور جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ، بزرگ، خواتین اور ہر جوان آزادی حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے اور یہ بات اب بھارت کو بھی سمجھ لینی چاہیے۔ درحقیقت 5اگست 2019 مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک، دردناک اور سیاہ ترین دن ہے۔ اپریل 2019 میں بھارت میں عام انتخابات ہوئے۔

ان عام انتخابات میں آر ایس ایس نواز بی جے پی جماعت کامیاب ہوئی اور نریندر مودی نے دوبارہ وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار کی کرسی سنبھا لی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس حکومت نے سنگ دلی و عصبیت کا سب سے بڑا قدم اٹھایا اور کشمیر کی حق خود ارادیت پر شب خون مارتے ہوئے اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا۔ بی جے پی حکومت کے قیام کو ابھی چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ انھوں نے پارلیمان سے اندھے قوانین پاس کرنے کا گھناؤنا عمل شروع کیا۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمان نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے۔ کشمیر کو اپنا آئین اور اپنا جھنڈا دیتا ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور اس کے آئین اور جھنڈے کو بھی ضبط کیا گیا۔اسی پر بس نہیں ہوا۔ بی جے پی حکومت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 35 اے کو بھی ختم کردیا۔ دفعہ 35اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے، اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ دفعہ 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کی دوسری ریاستوں سے لوگوں کی کشمیر میں آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ نتیجے کے طور پر گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر میں لاکھوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ ظلم پر ظلم سے جب بات نہیں بنی تو بھارت نے لاقانونیت کی ہر حد پار کردی۔6 اگست 2019 کو ری آرگنائزیشن کے نام سے ایک ایکٹ بھی منظور کرایا گیا۔

اس ایکٹ نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کیا اور دونوں حصوں کو بھارتی مرکزی حکومت کے زیر انتظام بھی کیا اور اس کے لیے ایک قانون ساز اسمبلی کے قیام کی منظوری دی، جو بظاہر ایک بے اختیار قانون ساز اسمبلی ہے۔ یوں ایک دن کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کی گئی اور ا گلے روز تمام امور پر ان سے فیصلوں کا حق بھی چھینا گیا۔ ظلم اور لاقانونیت کی یہ داستان ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ کالے قوانین کے اطلاق کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں بلیک لسٹ بھی متعارف کرائی۔ اس لسٹ میں صرف منتخب نیوز سائٹ شامل ہوتی ہیں، جس کا انتخاب وہی کرتے ہیں جہاں کشمیریوں کا اس کے علاوہ باقی نیوز سائٹ تک رسائی ناممکن بنا دی گئی۔ بھارتی ظلم و جبر کی داستان محض کشمیر تک محدود نہیں۔ ہندوستان کے اپنے شہری اور اقلیت بھی ان کے شکنجے میں بری طرح پس رہے ہیں۔ آئے روز ان پر معمولات زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔ قومی رجسٹر برائے شہریت نے تو گویا انھیں اپنا ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ یہ رجسٹر شہریوں کو شہریت فراہم کرتی ہے۔ اس میں اپنا نام درج کرانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ شہری کے پاس لیگیسی دستاویز موجود ہوں، جو بھی اس دستاویز کو فراہم کرنے سے قاصر ہوتا ہے، اس کی شہریت ضبط کردی جاتی ہے۔ بھارت کے قومی رجسٹر برائے شہریت نے 31 اگست 2019 کو اپنی پہلی لسٹ شایع کی۔ اس لسٹ میں تقریبا آسام سے 19 لاکھ بنگالیوں کی شہریت ضبط کردی گئی اور انھیں شہری ماننے سے انکارکردیا گیا۔ اس کے کچھ ہی ماہ بعد 11 دسمبر 2019 کو citizenship amendment act بھی پاس کرایا گیا۔ اس ایکٹ کے بعد قومی رجسٹر برائے شہریت کا اطلاق پورے ہندوستان پر کیا گیا۔ لوگوں کی شہریت ضبط کی گئی، انھیں ملک بدر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ نومبر 2019 میں Unlawful activities prevention actپاس کیا جس نے دہشت گردی کی تعریف میں توسیع کرکے چھوٹے سے چھوٹا جرم کو بھی دہشت گردی قرار دیا گیااور پھر مئی 2019 جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا۔فسادات میںدو ہزار کے قریب مسلمان قتل ہوئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد 1980میں رکھی گئی۔ آزادی کے بعد سے مودی حکومت ملک کی سب سے بدعنوان حکومت ہے۔ اس کی کارکردگی خراب اور قابل مذمت ہے۔ لوگوں میں خوف ہے کہ آمریت پسند مودی حکومت اگر اقتدار میں رہتی ہے تو ہندوستانی جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ عوام کو سمجھ میںآ گیا ہے کہ ان لوگوں نے ایسے وعدے دے کر ان سے جھوٹ بولا ہے جنھیں پورا کرنے کی ان کی منشا ہی نہیں تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منوج جھا نے بھارتی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کے قوم پرستی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں اور سیاسی فائدے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے غلط استعمال کو ظاہر کرتے ہیں۔ اعداد و شمار بی جے پی کے قوم پرستی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔منوج جھا نے بی جے پی اور کارپوریٹ مفادات کے درمیان مذموم رابطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ جن پرائیویٹ کمپنیوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے مارے انھیں کمپنیوں نے بعد میں انتخابی بانڈز خریدے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر و جرائم کے بھارتی تاریخ میں سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیوں میں مسلمانوں کے خلاف رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ریکارڈ شدہ 255 واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر حکومت ریاستوں میں پیش آئے۔ مودی سرکار نے اس سے قبل تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے پر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر، مسلم لیگ، تحریک حریت، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت اور مسلم کانفرنس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر کے آرٹیکل 1 میں حقِ خودارادیت سے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے، مگر صرف قوانین سے کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ عالمی برادری کی سیاسی رضامندی کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اس کی مثال تقسیم سوڈان اور ایسٹ تیمور کی تخلیق ہے، جب کہ کشمیر و فلسطین آج بھی عالمی ضمیر و نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں ۔ اس کے علاوہ سیاسی نمایندگی، تعلیم، آزادی اظہار، زندگی کا حق جیسے بنیادی حقوق کشمیریوں کے لیے شاید ناممکن ہیں مگر حیف کہ عالمی جمہوری علمبردار اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی بدولت بھارت کی انسان دشمن پالیسیوں اور کالے قوانین پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس کے بعد بھی بھارت کو روکنے اور کشمیریوں کے حق میں عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول تک پاکستان کی جانب سے مضبوط اور ثابت قدم اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم اچھے تعلقات تنازعات سے انکار کے ذریعے نہیں بلکہ صرف تنازعات کے حل کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر ایک جہد ِ مسلسل ہے جس کو مخصوص دنوں سے منسوب کر کے صرف آواز بلند نہیں کی جانی چاہیے بلکہ ہر وقت، ہر لمحے، ہرگھڑی کشمیر کی آواز بن کر دنیا کے ایوانوں میں گونجنے کی ضرورت ہے۔ کشمیری عوام کا یہ عزم صمیم ہے کہ وہ بھارت کے گھناؤنے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن جموں و کشمیر کے تنازع کے حل پر منحصر ہے۔

اصغر علی مبارک 13
Advertisement
Advertisement

نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار کو آزاد کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، بلاول کی ن لیگ پر کڑی تنقید

کل بلاول نے کسی کا گلہ پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے: عظمیٰ بخاری

اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا

نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ: جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز میں ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات

دریائے راوی: ہیڈ سدھنائی پر سیلاب دم توڑ گیا، بہاؤ معمول پر آگیا

جمہوریت الیکشن کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تسلسل ہے جس کیلئے آزاد صحافت ناگزیر ہے، جسٹس (ر) مقبول باقر

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

Advertisement
×