تاریخ عالم میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی قوم کی غیرت اور جذبہ حبِ وطن کی روشن دلیل بن جاتے ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی قومی تاریخ کا وہ لازوال باب ہے جو شجاعت، قربانی اور اتحادِ باہمی کا درس دیتا ہے۔
1965ء کی جنگ اچانک رونما نہیں ہوئی تھی۔ اگست 1965ء میں مقبوضہ کشمیر میں "آپریشن جبرالٹر" کے تحت مجاہدین کی نقل و حرکت اور اس کے بعد "آپریشن گرینڈ سلام" کے نتیجے میں پاک بھارت کشیدگی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اسی تناظر میں بھارت نے 6 ستمبر 1965ء کی صبح بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور، سیالکوٹ اور قصور کے سیکٹروں پر تین اطراف سے حملہ کر دیا، جس کا مقصد لاہور پر قبضہ کرنا تھا۔ سیالکوٹ سیکٹر میں چونڈہ کے مقام پر لڑی جانے والی ٹینکوں کی جنگ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی ٹینک جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی افواج نے عددی برتری کے باوجود بھارتی بکتر بند دستوں کو پسپا کیا- لاہور سیکٹر میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے بی آر بی (بمبنوالہ – راوی – بیدیاں) نہر پر ایک ہفتے سے زائد عرصہ تک ڈٹے رہ کر دشمن کی پیش قدمی روکے رکھی۔ وہ 12 ستمبر 1965ء کو شہید ہوئے اور انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا گیا- پاک فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے 7 ستمبر 1965ء کو سرگودھا کے فضائی معرکے میں بھارتی فضائیہ کے پانچ ہنٹر طیارے مبینہ طور پر ایک منٹ سے کم وقت میں مار گرائے — چار طیارے محض تیس سیکنڈ میں۔ یہ کارنامہ فضائی جنگی تاریخ کا ایک نادر ریکارڈ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس کی حتمی تعداد پر پاکستانی اور بھارتی ذرائع کے دعوے مختلف ہیں- جنگ کے دوران قوم اور مسلح افواج ایک جسدِ واحد بن گئیں۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملّی نغمے خصوصاً ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں محاذ پر لڑنے والے جوانوں کے حوصلے بلند کرتے رہے۔ عام شہریوں نے راشن، ادویات اور عطیات کے ذریعے دفاعی کاوشوں میں حصہ لیا۔
17 روزہ جنگ 23 ستمبر 1965ء کو اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی پر منتج ہوئی، اور بعد ازاں جنوری 1966ء میں سوویت یونین کی ثالثی سے طے پانے والے "تاشقند معاہدے" کے تحت دونوں ممالک اپنی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس لے گئے-
جب یومِ دفاع کی بات ہو تو ضلع چکوال کا ذکر کیے بغیر یہ داستان ادھوری رہتی ہے۔ پوٹھوہار کے اس علاقے کی مٹی صدیوں سے سپاہ گری کی روایت میں رچی بسی ہے-
6 ستمبر1965ءکی جنگ میں ہمارے ملک پاکستان کے 2013فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں 57 آفیسرز ،92جے سی اوز اور 1864سپاہی تھے۔شہید ہونے والے ان بہادر سپاہیوںمیں 170 کا تعلق ضلع چکوال کے مختلف دیہاتوں سے ہے جن کا نام رہتی دنیا تک تاریخ کا حصہ رہے گا۔۔مسوال کے رہنے والے نائیک اکابر حسین نے1965ءکی جنگ میں دشمن کے ٹینک کو روکنے کے دوران جان کی بازی لگائی اور جام شہادت نوش کیا- میجر شاہنواز شہید پاکستان آرمی کے 1965ءمیں سب سے پہلے شہید ہونے والے فوجی آفیسر ہیں۔ میجر شاہنواز خیر پور ضلع چکوال میں پیدا ہوئے ان کا تعلق 8 بلوچ رجنمت انفینٹری بٹالین سے تھا- میجر شاہ نواز شہید کو بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت تمغہ شجاعت کے اعزاز سے نوازا گیا- چکوال کی مٹی سے صوبیدار خداداد خان جیسا بہادر سپوت بھی اٹھا، جو 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران "وکٹوریہ کراس" برطانوی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی اور مسلمان سپاہی بنے۔ اسی سرزمین نے پاکستان کو جنرل محمد یحییٰ خان، فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان، جنرل عبدالمجید ملک اور بریگیڈیئر سلطان امیر ترار (کرنل امام) جیسی نمایاں عسکری شخصیات بھی دیں۔ آج بھی چکوال میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ملے گا جس کا کوئی فرد فوج میں خدمات انجام نہ دے رہا ہو- یہی وہ جذبہ ہے جس نے 1965ء کی جنگ میں بھی سرحدوں کے محافظوں کی صفیں مضبوط رکھیں۔
یومِ دفاع صرف ماضی کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کا نام نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ 1965ء کی جنگ نے یہ ثابت کیا کہ وسائل کی کمی کے باوجود قومی یکجہتی اور جذبۂ ایمانی کسی بھی بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ آج پاکستان کو محاذ آرائی کی نوعیت مختلف مگر شدت میں کم نہیں ملتی- مشرقی سرحد پر روایتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ نے ہزاروں فوجی اور شہری جانوں کا نذرانہ مانگا ہے۔ اس کے علاوہ معاشی عدم استحکام، آبی و توانائی بحران، اور سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا و جھوٹی خبروں کے ذریعے قومی بیانیے کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی ایک نیا اور غیر مرئی محاذ بن چکی ہیں، جسے "ہائبرڈ وار" کہا جاتا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض عسکری تیاری کافی نہیں بلکہ معاشی خودانحصاری، ادارہ جاتی مضبوطی اور سب سے بڑھ کر وہی قومی یکجہتی درکار ہے جو 1965ء میں لاہور کی گلیوں سے لے کر چکوال کے دیہات تک نظر آئی تھی۔ پاک فوج کے شہداء اور غازی ہمارا فخر ہیں اور ان کا لہو اس مٹی کا قرض ہے - 6 ستمبر کے اس تاریخی موقع پر عزم کرنا ہو گا کہ ذاتی، لسانی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف پاکستان کے لیے جیا جائے اور اس کی ترقی، بقا اور سر بلندی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے گا-
پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔











