اسلام آباد/راولپنڈی: جڑواں شہروں میں ہونے والی موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، جبکہ متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں مجموعی طور پر تقریباً 160 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ مسلسل بارش کے باعث اسلام آباد سے بڑے سیلابی ریلے کے راولپنڈی کی جانب آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
واسا کے اعداد و شمار کے مطابق نیو کٹاریاں میں 112 ملی میٹر، گولڑہ میں 106، شمس آباد میں 75، سیدپور میں 60، پی ایم ڈی میں 65 جبکہ پیرودھائی میں 50 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
شدید بارش کے بعد راولپنڈی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات تیز کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے ضلعی اداروں کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
واسا حکام کے مطابق نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 24 فٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گوالمنڈی پل کے مقام پر پانی کی سطح 17 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔
پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر نالہ لئی کے اطراف رہائش پذیر شہریوں کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب مسلسل بارش کے باعث راولپنڈی میں تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے آج سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔










