شہید سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی ’حرم امام رضا میں تدفین‘ کی تیاریاں

SerialKiller

فوٹو: فائل

یران میں سرکاری حکام نے امریکہ، اسرائیل کے ایران کے خلاف مشترکہ حملے کی ابتدا ہی میں مارے جانے والے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین سے متعلق چند تفصیلات شیئر کی ہیں۔

تہران بلدیہ میں ثقافتی و سماجی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی تدفین ’ممکنہ طور پر ذی الحج کے اختتام اور محرم کے آغاز میں‘ یعنی تقریباً دو ہفتے بعد کی جائے گی۔

انھوں نے نے بتایا کہ اس تقریب کی ذمہ داری پاسداران انقلاب کے پاس ہو گی اور اس میں تین روزہ ’عوامی الوداعی‘ پروگرام رکھا گیا ہے۔

توکلی زادہ نے کہا کہ الوداعی تقریب تہران میں کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے گی جس کے بعد نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور تدفین ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر ’دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ تا دو کروڑ سے زیادہ افراد کی متوقع شرکت کے پیش نظر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

اُن کے مطابق علی خامنہ ای کی تہران کے بعد قم اور مشہد میں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

توکلی زادہ نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی۔

تہران کے نائب میئر کے مطابق توقع ہے کہ پاکستان، افغانستان، انڈیا، بنگلہ دیش، کشمیر اور اسلامی دنیا کے دیگر ممالک سے ’عزادار‘ اس موقع پر مشہد کا رُخ کریں گے۔

2026-06-03
×