دنیا کی معروف میراتھون ریس نیویارک سٹی میراتھون کے 50 ویں ایڈیشن میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد رنرز بھی شرکت کریں گے، اتوار یکم نومبر کو ہونے والی ریس میں کراچی کے صادق شاہ اور جیو نیوز کے اینکر محمد جنید کی نظریں ایبٹ ورلڈ میراتھون میجرز کا چھٹا اسٹار مکمل کرنے پر مرکوز ہوں گی۔
پاکستانی رنرز کے دستے میں کراچی اور اسلام آباد کے ایتھلیٹس کے علاوہ امریکا، برطانیہ، ناروے اور سنگاپور میں مقیم پاکستانی اور پاکستانی نژاد رنرز بھی شامل ہیں، جو بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی میں میراتھون رننگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سال پاکستانی دستے میں تجربہ کار میراتھون رنرز، آئرن مین ایتھلیٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز شامل ہیں، جبکہ چار ایسے رنرز بھی نیویارک میراتھن میں حصہ لیں گے جو پہلے ہی سکس اسٹار میڈل حاصل کر چکے ہیں۔
ان میں جمال خان، ڈاکٹر سعد عثمانی، یسریٰ بخاری اور فہد مختار شامل ہیں۔ دوسری جانب صادق شاہ اور جیو نیوز کے اینکر محمد جنید نیویارک میراتھون مکمل کرکے اپنا چھٹا میجر اسٹار حاصل کرنے کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
ایبٹ ورلڈ میراتھون میجرز میں ٹوکیو، بوسٹن، لندن، شکاگو، برلن اور نیویارک کی میراتھون شامل ہیں۔ ان چھ ریسز کو مکمل کرنے والے رنرز کو سکس اسٹار میڈل دیا جاتا ہے، جو طویل عرصے کی محنت، مستقل مزاجی اور اعلیٰ سطح کی برداشت کا اعتراف ہے۔
کراچی کے صادق شاہ نے نیویارک میں تین گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون مکمل کرنےکا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھٹا میجر اسٹار حاصل کرنا رننگ کی دنیا میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
صادق شاہ کا کہنا تھا کہ ’میں بہت پُرجوش ہوں کیونکہ رننگ کی دنیا میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگر میں یہ میراتھون تین گھنٹے سے کم وقت میں مکمل کرلیتا ہوں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ میری پچھلی پانچ میراتھون بھی تین گھنٹے سے کم وقت میں ہوئِی تھی، تو یہ ایک منفرد اعزاز ہوگا'۔
انہوں نے بتایا کہ نیویارک میراتھون کے لیے تیاری مناسب رہی، تاہم شدیدگرمی میں ٹریننگ کرنا آسان نہیں تھا۔
صادق شاہ کے مطابق ان کی تیاری اچھی رہی، لیکن بہترین نہیں تھی کیونکہ وہ انتہائی گرم موسم میں ٹریننگ کر رہے تھے۔
اپنے ہدف کے حوالے سے انہوں نےکہا کہ فی الحال ان کی توجہ تین گھنٹے سے کم وقت میں ریس مکمل کرنے پر ہے، کیونکہ نیویارک کا کورس مشکل ہے اور یہاں ذاتی بہترین وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستانی دستے میں بعض رنرز نیویارک میراتھن میں شرکت کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ نیو جرسی اور لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر بٹ نویں مرتبہ نیویارک میراتھون میں حصہ لیں گے، جبکہ جمال خان کی اس ریس میں یہ پانچویں شرکت ہوگی۔
ملتان کے فہد مختار تیسری مرتبہ نیویارک میراتھون میں دوڑیں گے۔ وہ بھی سکس اسٹار میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی رنرز میں شامل ہیں۔
پاکستانی دستے میں تین آئرن مین ایتھلیٹس عامر بٹ، فہد مختار اور دانش رضا بھی شامل ہیں۔
اس دستے میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شامل ہیں۔ سکس اسٹار میڈلسٹ یسریٰ بخاری پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، جبکہ بشیری انجم نیویارک میں مقیم ڈاکٹر ہیں۔
پاکستانی گروپ میں کم از کم تین میڈیکل ڈاکٹرز بھی میراتھون میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں ڈاکٹر سعد عثمانی شامل ہیں، جو مائیلوما کینسر کی تحقیق سے وابستہ ہیں۔
خواتین رنرز بھی پاکستانی دستے کا اہم حصہ ہیں، جن میں یسریٰ بخاری، بشیری انجم، عیلیہ زیدی، حنا ملک، سمینہ خان، جہان خان، کلینا سومرو اور اسما شامل ہیں۔
نیویارک سٹی میراتھون 26.2 میل یعنی 42.195 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کا روٹ شہر کے پانچوں بورو سے گزرتا ہے۔
ریس کا آغاز اسٹیٹن آئی لینڈ میں ویرازانو نارو بریج کے قریب سے ہوگا، جہاں سے رنرز پل عبور کرکے بروکلین میں داخل ہوں گے، اس کے بعد کوئنز سے گزرتے ہوئے کوئنزبورو بریج کے ذریعے مین ہیٹن پہنچیں گے۔
رنرز فرسٹ ایونیو سے شمال کی جانب دوڑتے ہوئے ولیس ایونیو بریج کے راستے برونکس میں داخل ہوں گے، پھر میڈیسن ایونیو بریج سے مین ہیٹن واپس آئیں گے۔ اس کے بعد ففتھ ایونیو سے ہوتے ہوئے سینٹرل پارک پہنچیں گے، جہاں میراتھن کا اختتام ہوگا۔
پلوں، مختلف راستوں اور ریس کے آخری مراحل میں سخت چیلنجز کے باعث نیویارک میراتھن میں رفتار اور توانائی کو برقرار رکھنا اہم ہوگا، خصوصاً ان رنرز کے لیے جو مخصوص ٹائم ٹارگٹ کے ساتھ ریس مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
نیویارک سٹی میراتھون دنیا کی مقبول ترین روڈ ریسز میں شمار ہوتی ہے، جس میں ایلیٹ ایتھلیٹس سے لے کر شوقیہ میراتھون رنرز اور چیریٹی رنرز تک ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔ پانچوں بورو سے گزرنے والا روٹ اس ریس کی منفرد شناخت ہے۔
اتوار کی ریس سے قبل پاکستانی رنرز نے پریڈ آف نیشنز میں بھی شرکت کی۔
پاکستانی رنرز کے لیے یہ میراتھن صرف ذاتی اہداف حاصل کرنے کا موقع نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنے ملک اور کمیونٹی کی نمائندگی کا ذریعہ بھی ہے










