اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس میں ملکی آٹو انڈسٹری کی ترقی، آٹو پارٹس کی برآمدات میں اضافے اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا باضابطہ اعلان اگلے ہفتے آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔ آٹو پارٹس پالیسی کے لیے قائم کمیٹی پہلے ہی اپنی سفارشات کی منظوری دے چکی ہے۔
آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کا منصوبہ
پالیسی دستاویز میں پاکستانی آٹو پارٹس کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ برآمدات میں اضافے کے لیے 5 بڑے اینکر مینوفیکچرنگ اداروں کو ملک میں لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
آٹو سیکٹر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے ایس ایم ای کلسٹرز قائم کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
برآمدی آٹو پارٹس پر ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش
دستاویز کے مطابق برآمد کے لیے تیار کیے جانے والے آٹو پارٹس کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل قائم کرنے اور مقامی ویلیو ایڈیشن کو لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت آٹو انڈسٹری میں کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے متعلق منظوری کے مراحل کو ڈیجیٹل بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی سہولتیں
آٹو پالیسی 2026 میں الیکٹرک اور نئی انرجی گاڑیوں کے شعبے کے لیے بھی مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ ان گاڑیوں کے لیے یکساں سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویز میں الیکٹرک گاڑیوں پر ایف ای ڈی، سی وی ٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
حکومت کا مقصد نئی پالیسی کے ذریعے مقامی صنعت کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پاکستان کے آٹو سیکٹر کو عالمی مارکیٹ سے مزید منسلک کرنا ہے۔










