انتہاپسندی اور تشدد کیخلاف قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت
تحریر: کبیرحُسین
کسی بھی معاشرے کی بقاء، سلامتی اور معاشرتی ترقی کاانحصار اُس معاشرے کے امن وامان اور رواداری پرمنحصرہوتا ہے۔دین مبین اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی بنیاد ہی”عفو و درگزر، باہمی احترام اور انسانیت سے محبت“پر رکھی گئی ہے۔ لفظ”اسلام“کامادہ ہی ”سلم“ہے جس کے معنی ہیں امن سلامتی اور صلح۔آقائے دوجہاں،نبی مکرم،پیغمبرخُدا،حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمد سے قبل جہاں عرب معاشرہ انتہا پسندی، تشدد کا شکار تھا۔ آپ کی تعلیمات کی بدولت چندسالوں میں ہی وہ معاشرہ”ریاست مدینہ“پوری دنیا کیلئے ایک بہترین مثال بنا اورآج بھی پوری دنیا کیلئے باعث تقلید ہے۔ اسلامی ریاست کے حوالے سے اسلام نے واضح احکامات دیئے ہیں کہ جہاں غیرمسلم شہریوں کے جان ومال،عزت و آبرو کی حفاظت نہ صرف مسلم ریاست بلکہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے وہیں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کیلئے بھی واضح احکامات ہیں اورغیر مسلموں کو اپنی عبادت کی بھرپور اجازت ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نسلی اور لسانی بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے روداری کو ابدی بنیاد بنایا۔ مادر عزیز پاکستان کی بات کی جائے تو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کا وژن انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف قومی اتحاد کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ بانیِ پاکستان ایک ایسے آزاد اور خود مختار معاشرے کے علم بردار تھے جہاں قانون کی حکمرانی، ہر شہری کو برابر حقوق اور رنگ، نسل، زبان یا فرقے کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے قوم کو دیئے گئے ''ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط'' کے سنہری اصول قیامِ پاکستان کے بعد قوم کیلئے سب سے بڑادرس ہیں۔ اسی طرح بابائے قومؒ نے11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتوں اور طبقات کو برابر کا شہری قرار دے کر انتہا پسندانہ سوچ کا ہمیشہ کے لئے راستہ روک دیا۔عصرحاضرمیں دیکھاجائے توجہاں دُنیابھر میں آئے روز تشدد اور عدم مساوات کے واقعات دِن بدن بڑھتے جا رہے ہیں وہیں پاکستانی قوم کا اتحاد۔اتفاق اور یکجہتی اپنی مثال آپ ہے۔دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنے کیلئے جہاں پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج،سیکیورٹی ادارے، حکومت پاکستان بھرپوراقدامات کر رہے ہیں وہیں پاکستانی قوم کی جانب سے بھی اِس ناسور کیخلاف اتحاد قابل تحسین ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دُنیا میں امن وامان، عدم برداشت، مساوات کیلئے جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اور دے رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کے برعکس بھارت میں تشدد کی بڑھتی ہوئی فضاخصوصاً اقلیتوں پر حکومتی سرپرستی میں شیوسینا کے غنڈوں کی جانب سے قتل وغارت،تشدد اور مذہب کے حوالے سے زبردستی انتہائی افسوسناک حدتک بڑھ چکی ہے۔ اب توسرعام شیوسینا اور ہندوتوا کے ایجنڈے پرعمل کرتے ہوئے نہ صرف مسلمان، سکھ، عیسائیوں بلکہ دِلتوں پر مظالم کی تمام حدود پار ہوچکی ہیں۔ اِسی کی ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اورتشدد میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آج وقت کاتقاضا ہے کہ جہاں اقوام عالم مقبوضہ جموں وکشمیر میں قتل وغارت پربھارت کوکٹہرے میں کھڑا کریں وہیں بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے بھی نوٹس لیاجائے۔ خیر بات ہو رہی تھی پاکستان کی تو آج وقت کی ضرورت ہے کہ بحثیت قوم اجتماعی طور پر ہمیں اپنے ملک، اپنے وطن،مادر عزیز پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور مزید مضبوطی کیلئے انتہاپسندی اور تشدد ک خلاف قومی اتحاد، یک جہتی کو مزید فروغ دینا ہوگا،جہاں مادر عزیز ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے وہیں دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی جنگ اختتامی مرحلے میں ہے ایسے نازک موڑ پر پاکستان کیلئے ہر سطح پر یکجہتی ناگزیر ہے۔ اندرونی خلفشار اور پر تشدد عناصر ملک کو کمزور کرتے ہیں، جس کا فائدہ بیرونی دشمن اٹھاتے ہیں۔ قومی اتحاد ہی ان عناصر کے خلاف مضبوط ترین ڈھال ہے۔اِسی طرح جہاں پاکستان معاشی طورپربھی دِن بدن مضبوط ہو رہا ہے وہیں اِس اہم موقع پر امن وامان انتہائی ضروری ہوچکا ہے خصوصاً آج کا نوجوان جو پاکستان کا درخشاں مستقبل ہے اورجس نے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اِن کی بہترین تربیت اور معاشرتی حوالہ سے مساوات وہم آہنگی کیلئے نہ صرف والدین، منبر و محراب سے بھی تربیت کی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام اور میڈیا کو چاہئے کہ وہ فرقہ وارانہ نفرتوں کو مٹانے اور اسلام کے حقیقی پرامن چہرے کو فروغ دینے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں کیونکہ انتہا پسندانہ نظریات سب سے زیادہ نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں اورایک متحد اور پرامن معاشرہ ہی نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔انتہا پسندی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک جامع قومی بیانیے کے ذریعے جیتی جاتی ہے۔آج وقت کاتقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرصرف اورصرف پاکستان کی خاطر ایک پیج پر آئیں اور دہشت گردی کے ناسورکے خاتمے، انتہاپسندی اور تشدد کیخلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیلئے حکومت پاکستان،افواج پاکستان کیساتھ مل کر کردار ادا کریں۔
کبیر حسین10
وطن عزیز کے لیے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام دینے والے سول ڈیفنس افسران کو زاہد بختاوری کی جانب سے اعزازی شیلڈز
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت
اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اغواء غیرملکی باشندہ بازیاب
لاہور، شادمان میں ون ویلر کی ٹکر سے ریسکیو اہلکار جاں بحق
گجرات: 3 سال کی بچی کا قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لرزہ خیزانکشافات
لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے
خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین
تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔
بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا
جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف