تحریر۔کبیرحُسین
یوں توپاکستان اور سعودی عرب نہ صرف برادراسلامی ممالک ہیں بلکہ دونوں برادرممالک میں دوطرفہ تعاون کی طویل تاریخ ہے۔پاکستان پرجب بھی کٹھن وقت آیامملکت سعودی عرب نے بڑھ کرہمیشہ پاکستان کی بھرپورمددکی اِسی طرح سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کادوٹوک اور واضح موقف ہے کہ سرزمین مقدس حرمین شریفین کی حفاظت نہ صرف ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے بلکہ پاکستانی قوم کاہرفرداِسے اپنافرض بھی سمجھتاہے۔لیکن۔دونوں ممالک کی تاریخ میں اِس سے قبل اِتنی گرمجوشی نہیں دیکھی گئی جوحالیہ دوبرسوں میں دونوں ممالک تعلقات کے ایک نئے دورمیں داخل ہورہے ہیں۔پاک سعودی عرب تعلقات کی گرمجوشی کے حوالے سے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف،سپہ سالارفیلڈمارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر اورسعودی ولی عہدووزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔گزشتہ برس ہی دونوں برادراسلامی ممالک میں پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھی ہوااوررواں ماہ ہی نہ صرف دونوں برادراسلامی ممالک بلکہ اِس معاہدہ میں پاکستان کاعظیم دوست اوربرادراسلامی ملک تُرکیہ بھی شامل ہوگیاہے۔اِسی طرح پاکستان،سعودی عرب اور تُرکیہ میں معیشت اورتجارتی تعلقات بھی مزیدمضبوط اوربلندہورہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 5.12ارب ڈالرسالانہ ہے۔پاکستان سعودی عرب کوبرآمدات میں چاول،گوشت،پھل اورٹیکسٹائل کی مصنوعات دیتاہے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کوتیل،پیٹرولیم مصنوعات ودیگردی جاتی ہیں۔دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کومزیدبڑھارہے ہیں۔
گزشتہ روزہی دونوں ممالک نے آئندہ دو سالوں میں دوطرفہ زرعی اور غذائی برآمدات کو بڑھا کر 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔اِس حوالے سے گزشتہ روزہی سعودی عرب کے وزیر برائے ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کادورہ کیا۔اِس دورے کے دوران دونوں برادراسلامی ممالک نے زراعت، آبپاشی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیاہے۔گزشتہ برس ہی پاکستان نے تقریباً 1.63 ملین ڈالر مالیت کے 169,000 ٹن چاول سعودی عرب کو برآمد کیے جبکہ اب سعودی حکومت نے پاکستان سے چاول کی درآمدات میں مزید بڑے پیمانے پر اضافے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اِسی طرح پاکستان سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت سعودی عرب بھیجا جا رہا ہے، جسے آنے والے وقت میں بتدریج دوگنا کرنے پردوطرفہ اتفاق کیاگیاہے۔اِسی طرح پھل، فروٹ کنسنٹریٹس اور سبز چارہ (Green Fodder) کو بھی تجارت کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، آبپاشی کے جدید نظام اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے خصوصی پروگرامز پر عملدرآمد کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے علاقے بھکر میں پانی کی بچت پر مبنی آبپاشی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے پر بھی غور کیا گیاہے۔سب سے بڑی پیشرفت یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے جلد ہی زرعی ماہرین کا ایک نمائندہ وفد سعودی دارالحکومت ریاض بھیجا جائے گا تاکہ باہمی تحقیقی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔دونوں ممالک میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور فورمزکارپوریٹ فارمنگ وسرمایہ کاری کے حوالے سے پاک سعودی ایگری بزنس فورم میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لانے، کوالٹی سرٹیفکیٹس کی باہمی منظوری اور لائیو سٹاک (مویشی پالنے) کے شعبے میں سرمایہ کاری کے معاہدوں کا بھی جائزہ لیا گیاہے۔اکتوبر2026ء میں ریاض مین 43ویں سعودی زرعی نمائش کابھی اہتمام کیاجارہاہے جس میں پاکستان کومملکت سعودی عرب نے خصوصی طورپردعوت دی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیگرشعبوں کے بعدزرعی شعبے میں تعاون اور تجارت بڑھانے کاعزم انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے ایک طرف جہاں پاکستان مملکت سعودی عرب کوچاول،گوشت ودیگر اشیاء مہیاکرتاہے وہیں پاکستان میں زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اورجدیدزراعت کے حوالے سے حکومت پاکستان کے بہترین اقدامات کی بدولت جہاں ملکی زراعت میں اضافہ ہواہے وہیں پاک سعودی عرب دفاعی تعاون سے بھی ملکی زرعی معیشت مزیدمضبوط ہوگی۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ مادرعزیزپاکستان جہاں دُنیامیں ایک نئی قوت بن کراُبھررہاہے وہیں معاشی طورپربھی پاکستان دِن بدن مزیدمضبوطی کی جانب گامزن ہے۔حالیہ دوبرسوں میں بین الاقوامی تجارتی معاہدے نہ صرف پاکستان کی معیشت کومزیدمضبوط کررہے ہیں بلکہ یہ معاہدے آنیوالے سالوں میں پاکستان کی مضبوطی اورخوشحالی کے بھی ضامن ثابت ہوں گے۔انشااللہ











