تحریر ۔۔ حیران مومند
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے اٹھہتر برس بیت چکے ہیں، مگر ایک جملہ ایسا ہے جو شاید ہر نسل نے سنا ہے: "ملک اس وقت ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔" یہ جملہ کبھی جنگ کے دنوں میں سنائی دیتا ہے، کبھی معاشی بحران کے دوران، کبھی سیاسی کشیدگی کے موقع پر، کبھی دہشت گردی کے واقعات کے بعد اور کبھی آئینی یا سفارتی تنازعات کے وقت۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے "نازک صورتحال" اب ایک عارضی کیفیت نہیں بلکہ ہماری قومی لغت کا مستقل باب بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک قوم کتنی دیر تک نازک صورتحال میں رہ سکتی ہے؟ کیا بحران ہماری تقدیر ہیں، یا ہم نے انہیں اپنی عادت بنا لیا ہے؟
اگر ایک مریض ہر چند ماہ بعد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہونے لگے تو ایک اچھا معالج صرف ہر بار نئی دوا نہیں دیتا بلکہ یہ تلاش کرتا ہے کہ بیماری کی اصل جڑ کہاں ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی شاید یہی معاملہ ہے۔ ہم ہر بحران کا وقتی علاج تلاش کرتے ہیں، مگر ان بنیادی اسباب تک کم ہی پہنچتے ہیں جو بار بار انہی مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ کبھی ہم معیشت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، کبھی سیاست کو، کبھی خارجہ حالات کو اور کبھی عالمی سازشوں کو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر کامیاب قومیں بھی انہی عالمی چیلنجز سے گزرتی ہیں، مگر ان کے ادارے، پالیسیاں اور قومی ترجیحات انہیں بار بار بحران کے دہانے پر کھڑا نہیں ہونے دیتیں۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک نے کئی بڑے امتحانات دیکھے۔ جنگیں ہوئیں، آئینی بحران آئے، حکومتیں تبدیل ہوئیں، دہشت گردی کی لہر اٹھی، قدرتی آفات آئیں، معاشی دباؤ بڑھا اور علاقائی سیاست نے بھی اثرات مرتب کیے۔ ان میں سے بہت سے عوامل حقیقی تھے، لیکن ایک اور حقیقت بھی نظر آتی ہے کہ ہر بحران کے بعد ہم نے فوری ردعمل تو دیا، مگر اکثر اوقات طویل المدتی اصلاحات کو وہ تسلسل نہ مل سکا جو مستقل استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کو ایک ایسے گھر سے تشبیہ دی جائے جس کی چھت ہر برسات میں ٹپکنے لگتی ہو، تو دانشمند مالک ہر سال بالٹیاں نہیں بدلتا بلکہ ایک دن پوری چھت کی مرمت کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے کئی مواقع پر بالٹیاں بدلنے کو ہی مرمت سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چند برس بعد ایک نئی "نازک صورتحال" ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، اگرچہ اس کا عنوان بدل جاتا ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان نے کوئی کامیابیاں حاصل نہیں کیں۔ ایٹمی صلاحیت، زرعی پیداوار، انفراسٹرکچر، مواصلات، آئی ٹی، صحت، تعلیم، دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیاں اور عالمی امن مشنز میں کردار جیسے کئی مثبت پہلو موجود ہیں۔ لیکن یہ کامیابیاں اس وقت مکمل قومی طاقت میں تبدیل ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کا تسلسل، معیاری تعلیم، معاشی خود انحصاری اور قومی اتفاقِ رائے بھی موجود ہو۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ملک کو "نازک صورتحال" کی مستقل نفسیات سے نکال کر پائیدار استحکام کی طرف لے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو بحرانوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے، کیونکہ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جو معاشی، سیاسی یا سلامتی کے چیلنجز سے مکمل طور پر محفوظ ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ہر چند برس بعد پاکستان میں "غیر معمولی صورتحال" معمول بن جاتی ہے؟ اس کا جواب شاید اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ہم نے کئی معاملات میں مستقل مزاجی کے بجائے وقتی حکمتِ عملی کو ترجیح دی۔ قومی پالیسیاں اکثر حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہیں، تعلیمی اصلاحات مکمل تسلسل حاصل نہ کر سکیں، صنعتی پالیسی بار بار نئی سمت اختیار کرتی رہی، زرعی شعبہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق جدید نہ ہو سکا، اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بھی ہر دور میں یکساں نہیں رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ہر بحران سے نکلنے کے بعد اگلے بحران کی تیاری کرنے کے بجائے دوبارہ اسی دائرے میں داخل ہوتے رہے۔ استعارے کی زبان میں اگر پاکستان ایک مضبوط درخت ہے تو اس کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کو ہر آندھی میں یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ شاید درخت گر جائے گا۔ مضبوط درخت وہ ہوتا ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری ہوں۔ ریاست کی جڑیں اس کا آئین، قانون کی حکمرانی، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، تحقیق، خود انحصار معیشت، شفاف احتساب اور قومی اتفاقِ رائے ہوتے ہیں۔ جب یہ جڑیں مضبوط ہوں تو طوفان نقصان ضرور پہنچاتے ہیں مگر درخت کو گرا نہیں سکتے۔ لیکن اگر جڑیں کمزور ہوں تو ہلکی ہوا بھی عدم استحکام کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج طاقت کی تعریف صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، برآمدات، تحقیق، انسانی وسائل، مضبوط معیشت اور مؤثر گورننس سے کی جا رہی ہے۔ وہ قومیں جو ہر سال اپنے مستقبل کے لیے نئی منصوبہ بندی کرتی ہیں، وہ عالمی دوڑ میں آگے نکل رہی ہیں، جبکہ وہ ممالک جو مسلسل سیاسی کشمکش، معاشی بے یقینی اور ادارہ جاتی تناؤ میں الجھے رہتے ہیں، ان کی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم اپنی قومی توانائی بحرانوں کے انتظام میں صرف کرتے رہیں گے یا مستقبل کی تعمیر پر بھی اتنی ہی توجہ دیں گے؟
پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ نوجوان آبادی، زرعی زمین، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی، جغرافیائی محلِ وقوع، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی صلاحیت، ابھرتا ہوا آئی ٹی شعبہ اور علاقائی تجارت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ لیکن یہ تمام وسائل اسی وقت قومی طاقت بن سکتے ہیں جب قومی ترجیحات واضح ہوں، آئینی ادارے مضبوط ہوں، فیصلے طویل المدتی وژن کے مطابق ہوں، تعلیم اور تحقیق کو قومی سرمایہ کاری سمجھا جائے، اور ریاست کا ہر ادارہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے کام کرے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم "نازک صورتحال" کو ایک عارضی خبر کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی سوال کے طور پر دیکھیں۔ اگر اٹھہتر برس بعد بھی ہر نسل کو یہی بتایا جا رہا ہے کہ ملک ایک بار پھر نازک دور سے گزر رہا ہے، تو ہمیں صرف حالات پر افسوس کرنے کے بجائے اپنے قومی طرزِ فکر، حکمرانی، منصوبہ بندی اور ترجیحات کا بھی بے لاگ جائزہ لینا ہوگا۔ کامیاب قومیں تاریخ سے صرف فخر حاصل نہیں کرتیں بلکہ سبق بھی حاصل کرتی ہیں۔ آخرکار کوئی بھی قوم مستقل طور پر نازک صورتحال میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ قوموں کو ایک وقت کے بعد بحرانوں کی سیاست سے نکل کر استحکام کی ریاست بننا پڑتا ہے۔ پاکستان بھی اس صلاحیت سے محروم نہیں۔ اگر ہم آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام، قومی یکجہتی، معاشی خود انحصاری، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق اور پالیسیوں کے تسلسل کو اپنی اجتماعی ترجیح بنا لیں تو شاید آنے والی نسل پہلی نسل ہو جو ہر سال "نازک صورتحال" کا اعلان سننے کے بجائے "مستحکم پاکستان" کی خبر سنے۔ یہی وہ تبدیلی ہوگی جو اٹھہتر برس کے تجربات کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب بحران ہماری شناخت نہیں بلکہ ہماری تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائیں گے۔










