تحریر: چوہدری سہیل مہدی گوجر
میں جب کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ایک عجیب سی کیفیت میرے دل پر طاری ہو جاتی ہے۔ میں اپنے کیے ہوئے کاموں کا حساب لگاتا ہوں، اپنی غلطیوں کو یاد کرتا ہوں، اپنی کوتاہیوں کو گنتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں جسے میں اللہ تعالیٰ کے حضور فخر سے پیش کر سکوں۔ نمازیں بھی پڑھیں، روزے بھی رکھے، کچھ لوگوں کی مدد بھی کی، کچھ اچھے کام بھی کیے، لیکن جب اپنے رب کی عظمت کا تصور دل میں آتا ہے تو میری ہر نیکی مجھے بہت چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہے۔ تب بے اختیار میری زبان پر ایک ہی شعر آتا ہے:
"اگر میں ویکھاں اپنے عملاں ولے تے ککھ نئیں میرے پلے،
اگر ویکھاں تیری رحمت ولے تے فیر بلے بلے۔"
میں نے زندگی میں کامیابیاں بھی دیکھیں اور ناکامیاں بھی۔ عزت بھی ملی، آزمائشیں بھی آئیں۔ ایسے لمحے بھی آئے جب مجھے لگا کہ شاید میں بہت اچھا انسان ہوں، لیکن پھر اللہ نے کسی نہ کسی واقعے کے ذریعے مجھے میری حقیقت دکھا دی۔ مجھے احساس دلایا کہ اگر اس نے میری پردہ پوشی نہ کی ہوتی تو شاید میں لوگوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل بھی نہ رہتا۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو عبادت گزار تھے، لیکن تکبر نے انہیں دوسروں سے دور کر دیا۔ اور ایسے لوگ بھی دیکھے جن کے دامن میں بے شمار غلطیاں تھیں، مگر آنکھوں میں سچی ندامت تھی۔ ان کی عاجزی نے مجھے یہ سبق دیا کہ اللہ کے ہاں اصل قیمت انسان کے ٹوٹے ہوئے دل اور سچے آنسوؤں کی ہے۔ سچ کہوں تو جب میں اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ نہ جانے کتنی بار کسی کا دل دکھایا ہوگا، کتنی بار کسی ضرورت مند کی مدد کر سکتا تھا مگر نہ کر سکا، کتنی بار زبان سے ایسے الفاظ نکلے ہوں گے جنہوں نے کسی کو تکلیف دی ہوگی۔ یہ سب سوچ کر میری آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ لیکن اسی لمحے جب مجھے اپنے رب کی رحمت یاد آتی ہے تو دل میں امید کی ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ رب جس نے میری ہزاروں غلطیوں کے باوجود مجھے رزق دیا، صحت دی، عزت دی، سانسیں دیں اور ہر صبح ایک نئی زندگی عطا کی، وہ یقیناً میری توبہ بھی قبول کر سکتا ہے۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی نیکیوں پر ناز کرنے لگتا ہے۔ جب انسان خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ اس کے اندر کوئی نہ کوئی بیماری جنم لے چکی ہے۔ میں ہر روز اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ مجھے میرے اعمال پر غرور سے بچائے اور اپنی رحمت کا محتاج بنائے رکھے۔ زندگی نے مجھے یہ سبق بھی دیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں۔ ہم سب خطاکار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلطیوں کو مان لیتے ہیں اور کچھ پوری زندگی انہیں چھپانے میں گزار دیتے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کروں گا، کیونکہ وہی ذات ہے جو عیب بھی جانتی ہے اور معاف بھی کرتی ہے۔
آج اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ تمہاری سب سے بڑی طاقت کیا ہے، تو میں کہوں گا: میرے اعمال نہیں، میرے رب کی رحمت۔ اگر وہ مجھے میرے اعمال کے مطابق پکڑ لے تو میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن اگر وہ اپنی رحمت سے فیصلہ کرے تو پھر مجھے یقین ہے کہ اس کی رحمت میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اسی لیے میں آج اپنے آپ کو بھی یہی نصیحت کرتا ہوں اور اپنے ہر قاری سے بھی یہی عرض کرتا ہوں کہ اپنی عبادتوں پر نہیں، اپنے رب کی رحمت پر نظر رکھیں۔ نیک اعمال ضرور کریں، لیکن ان پر غرور نہ کریں۔ گناہ ہو جائیں تو مایوس نہ ہوں، بلکہ سچے دل سے پلٹ آئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دروازے سے کوئی مایوس واپس نہیں جاتا۔
آج میری زندگی کا نچوڑ صرف ایک جملہ ہے، جو میرے دل کی آواز بن چکا ہے:
"اگر میں ویکھاں اپنے عملاں ولے تے ککھ نئیں میرے پلے، اگر ویکھاں تیری رحمت ولے تے فیر بلے بلے۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال پر تکبر سے بچائے، اپنی رحمت سے کبھی محروم نہ کرے، اور ہمارا خاتمہ ایمان، عاجزی اور اپنی رضا پر فرمائے۔ آمین۔










