تحریر: ۔سلیم خان امریکا
کسی بھی قوم کی ترقی کا سفر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع حاصل نہ ہوں۔ خواتین آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنا دراصل قومی ترقی کے ایک اہم پہلو کو نظر انداز کرنا ہے۔ ماضی میں کھیلوں کو زیادہ تر مردوں کا میدان سمجھا جاتا تھا لیکن بدلتے ہوئے وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خواتین بھی کھیلوں کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت، محنت اور عزم کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ کھیل انسانی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ صرف جسمانی طاقت اور مقابلے کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط، مستقل مزاجی، برداشت، فیصلہ سازی، قیادت اور ٹیم ورک جیسی خصوصیات پیدا کرتے ہیں۔ ایک کھلاڑی میدان میں صرف حریف کا مقابلہ نہیں کرتی بلکہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانا اور مشکلات کا سامنا کرنا بھی سیکھتی ہے۔ یہی اوصاف زندگی کے دوسرے شعبوں میں کامیابی کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔دنیا بھر میں خواتین کے کھیلوں کو گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی فروغ ملا ہے۔ مختلف ممالک نے خواتین کھلاڑیوں کے لیے تربیتی مراکز، کھیلوں کی اکیڈمیاں اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کیے ہیں۔ آج خواتین فٹ بال، کرکٹ، ٹینس، ایتھلیٹکس، تیراکی، باکسنگ، جمناسٹک اور دیگر کھیلوں میں عالمی اعزازات حاصل کر رہی ہیں۔ ان کامیابیوں نے اس دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے میں مدد دی ہے کہ کچھ شعبے صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں۔ پاکستان میں بھی خواتین کھلاڑیوں نے محدود وسائل کے باوجود قابلِ فخر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کرکٹ، اسکواش، ایتھلیٹکس، کوہ پیمائی، مارشل آرٹس اور دیگر کھیلوں میں پاکستانی خواتین نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا ہے۔ ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مناسب سہولیات اور حوصلہ افزائی میسر ہو تو پاکستان کی بیٹیاں دنیا کے بڑے میدانوں میں ملک کا پرچم بلند کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ خواتین کے کھیلوں کا سفر ابھی مکمل طور پر آسان نہیں ہوا۔ ملک کے کئی علاقوں میں لڑکیوں کو کھیلوں کی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔ مناسب گراؤنڈز، جدید تربیتی مراکز، خواتین کوچز اور مالی معاونت کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بعض اوقات سماجی رویے اور غیر ضروری پابندیاں بھی باصلاحیت لڑکیوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں کئی نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع حاصل نہیں کر پاتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیلوں کو صرف تفریح نہیں بلکہ قومی ترقی کے ایک اہم شعبے کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ خواتین کے لیے خصوصی کھیلوں کے منصوبے شروع کرے، تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرے۔ نجی ادارے اور کاروباری شعبہ بھی اسپانسرشپ کے ذریعے خواتین کے کھیلوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی ادارے خواتین کھلاڑیوں کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکول اور کالج وہ پہلی جگہیں ہیں جہاں نوجوان لڑکیوں کی صلاحیتوں کو پہچانا جا سکتا ہے۔ اگر وہاں کھیلوں کے بہتر مواقع، مقابلوں کا انعقاد اور تربیت کا نظام موجود ہو تو بہت سی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آ سکتی ہیں۔ کھیلوں کو تعلیم کے مخالف نہیں بلکہ تعلیم کا معاون سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک متوازن شخصیت کی تشکیل میں ذہنی اور جسمانی تربیت دونوں ضروری ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ عام طور پر خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ملنی چاہیے۔ اگر ذرائع ابلاغ خواتین کے کھیلوں کو زیادہ کوریج دیں، ان کی جدوجہد اور کامیابیوں کو عوام تک پہنچائیں تو اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ نئی نسل کو بھی آگے بڑھنے کی ترغیب ملے گی۔ والدین کا مثبت کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ ایک بچی کو جب اپنے خاندان کی حمایت ملتی ہے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے خوابوں کا تعاقب کر سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں مواقع فراہم کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ محنت اور لگن سے وہ کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ خواتین کا کھیلوں میں آگے بڑھنا صرف چند تمغوں یا مقابلوں کی کامیابی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی سوچ میں تبدیلی کی علامت ہے۔ ایک کامیاب خاتون کھلاڑی آنے والی نسلوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بن جاتی ہے۔ وہ ثابت کرتی ہے کہ عزم، محنت اور مواقع مل جائیں تو راستے کی رکاوٹیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔ آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جس قوم کی خواتین میدانِ عمل میں فعال ہوتی ہیں، وہ قوم زیادہ مضبوط، پُراعتماد اور ترقی یافتہ بنتی ہے۔ خواتین کو کھیلوں کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم آج اپنی بیٹیوں کو کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو کل وہ نہ صرف کھیلوں کے میدان میں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ملک کا نام روشن کریں گی۔











