بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

شہر، تنہائی اور آدمی

شہر، تنہائی اور آدمی

تحریر : سلیم خان


شہر بظاہر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا شور، بازاروں میں لوگوں کا ہجوم، عمارتوں کی کھڑکیوں سے جھانکتی روشنیاں، چوراہوں پر رکتی اور چلتی ٹریفک، دکانوں کے باہر کھڑے خریدار اور ہر وقت بجتے موبائل فون۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بناتے ہیں جس میں تنہائی کے لیے شاید کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی ہجوم کے بیچ آج کا انسان پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہے۔ شہر آباد ہوتے گئے، مگر آدمی کے اندر کا گھر ویران ہوتا گیا۔ فاصلے کم ہوئے، رابطے آسان ہوئے، دنیا ایک اسکرین پر سمٹ آئی، لیکن دل سے دل تک پہنچنے کا راستہ جیسے مزید دشوار ہوگیا۔

تنہائی دراصل لوگوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں۔ کبھی کبھی انسان کے اردگرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ تنہا ہوتا ہے۔ اصل تنہائی شاید یہ ہے کہ انسان کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کے سامنے اسے اپنے الفاظ تولنے نہ پڑیں۔ کوئی ایسا چہرہ نہ ہو جس کے سامنے خاموشی بھی گفتگو بن جائے۔ شہر کے مصروف ترین دفتر میں بیٹھا شخص، ایک بھرے ہوئے ریستوران میں اکیلا کھانا کھاتا نوجوان، گھر میں اپنے اپنے موبائل میں مصروف افراد، یا رات گئے کسی بلند عمارت کی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوا شخص۔۔۔یہ سب اپنے اپنے انداز میں اس جدید تنہائی کی تصویریں ہیں۔

ہم نے ترقی کے سفر میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ سفر تیز ہوگیا، پیغام چند لمحوں میں دنیا کے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے، خریداری گھر بیٹھے ہوجاتی ہے، معلومات ہماری انگلیوں کے اشارے پر موجود ہیں مگر سہولت اور قربت ایک چیز نہیں۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں ایک دوسرے سے رابطے کا بے مثال وسیلہ دیا لیکن رابطہ ہمیشہ تعلق پیدا نہیں کرتا۔ کسی کی تصویر پسند کر دینا، ایک مختصر تبصرہ لکھ دینا یا چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ لینا اس انسانی قربت کا متبادل نہیں ہوسکتا جس میں ایک شخص دوسرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے، اس کی خاموشی پڑھتا ہے اور ضرورت کے وقت اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔

شاید مسئلہ شہر کا بھی ہے اور ہمارے بدلتے ہوئے مزاج کا بھی۔ پرانے شہروں میں زندگی نسبتاً آہستہ چلتی تھی۔ محلے محض مکانوں کا مجموعہ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے خاندانوں اور تعلقات کا نام تھے۔ کسی گھر میں خوشی ہوتی تو گلی شریک ہوجاتی اور کسی گھر میں غم اترتا تو دروازوں پر خاموشی خود بخود جمع ہوجاتی۔ لوگ ایک دوسرے کے حالات جانتے تھے۔ آج ہم ایک ہی عمارت میں برسوں رہتے ہیں اور برابر والے فلیٹ میں کون رہتا ہے، اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ بلند عمارتیں آسمان کے قریب ضرور ہوگئی ہیں، مگر ان میں رہنے والے انسان ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے ہیں۔

شہر نے آدمی کو ایک عجیب دوڑ میں ڈال دیا ہے۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے اس کے ذہن میں کام ہوتا ہے، راستے میں وقت کی فکر، دفتر میں اہداف، واپسی پر ٹریفک، گھر پہنچ کر موبائل کی اطلاعات اور پھر اگلے دن کی تیاری۔ زندگی جیسے مسلسل ایک اگلے لمحے کی طرف بھاگ رہی ہے۔ اس دوڑ میں انسان کے پاس دوسروں کے لیے تو کیا، اپنے لیے بھی وقت نہیں بچتا۔ وہ اپنے آپ سے ملنے کا وقت کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تنہائی سے زیادہ خوفناک چیز یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنے ساتھ بیٹھنے سے گھبرانے لگے۔

یہاں ادب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ادب انسان کو اس کے اندر کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک اچھی کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہمارے دکھ، ہمارے سوال اور ہماری الجھنیں صرف ہماری نہیں۔ صدیوں پہلے کسی شاعر، افسانہ نگار یا ناول نگار نے بھی شاید یہی سوال اپنے دل میں اٹھایا تھا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ کتاب خاموش ہوتی ہے، مگر انسان سے گفتگو کرتی ہے۔ شاید اسی لیے کتاب سے دوری صرف مطالعے کی کمی نہیں بلکہ اپنے باطن سے فاصلے کی بھی علامت ہے۔

شہر کی تنہائی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں انسان کو مسلسل دیکھا تو جاتا ہے مگر  سمجھا نہیں جاتا ہے۔ اس کی ظاہری کامیابی دیکھی جاتی ہے، اس کے کپڑے، گاڑی، عہدہ، مکان اور معاشرتی حیثیت دیکھی جاتی ہے لیکن اس کے اندر کیا چل رہا ہے، یہ جاننے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔ جدید معاشرے نے کامیابی کے ایسے پیمانے بنا دیے ہیں جن میں انسان کی داخلی کیفیت کی کوئی قیمت نہیں۔ آدمی بظاہر کامیاب ہوتا ہے مگر اندر سے شکستہ، اس کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے مگر کسی اپنے کی کمی اسے مسلسل محسوس ہوتی رہتی ہے۔

ہماری معاشرتی گفتگو بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ ہم اکثر کسی پریشان شخص سے پوچھتے ہیں، "کیا ہوا؟" لیکن جواب سننے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ہم کسی کی خاموشی کو سمجھنے کے بجائے اسے مزاج کی خرابی قرار دے دیتے ہیں۔ ہم کسی کے چپ رہنے کو تکبر، تھکن کو بے رخی اور فاصلے کو غرور سمجھ لیتے ہیں۔ شاید ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا؛ بعض لوگ صرف تھکے ہوئے ہوتے ہیں، بعض زخمی اور بعض ایسے سوالوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جن کا جواب ان کے پاس بھی نہیں۔

شہر میں تنہائی صرف بزرگوں یا نوجوانوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر عمر کے انسان کو مختلف شکلوں میں متاثر کرتی ہے۔ ایک بزرگ کو شاید اولاد کی مصروفیت تنہا کرتی ہے، ایک نوجوان کو اپنی شناخت کی کشمکش، ایک ملازم کو مسلسل کام کا دباؤ، ایک عورت کو سماجی توقعات، اور ایک بچے کو والدین کی مصروف زندگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم تنہائی کو صرف اکیلے رہنے سے جوڑتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات سب سے زیادہ تنہا وہ شخص ہوتا ہے جو بظاہر سب کے درمیان موجود ہوتا ہے۔

اس صورتِ حال کا حل شہر چھوڑ دینا نہیں۔ شہر ہماری ضرورت بھی ہے اور ہماری زندگی کا حصہ بھی۔ اصل ضرورت شاید یہ ہے کہ شہر کے اندر انسان کے لیے انسان کی جگہ دوبارہ پیدا کی جائے۔ محلے صرف رہائشی یونٹ نہ رہیں بلکہ تعلق کی جگہ بنیں۔ گھر صرف آرام کرنے کی جگہ نہ ہوں بلکہ گفتگو کے مراکز بنیں۔ خاندان میں ایک دوسرے کے لیے وقت نکالا جائے۔ دوست صرف سوشل میڈیا پر موجود نہ ہوں بلکہ کبھی روبرو بھی بیٹھیں۔ بچوں سے صرف ان کے نمبروں اور کامیابیوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے بلکہ ان کے خواب اور خوف بھی سنے جائیں۔

ہمیں اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی انسانی عادتیں واپس لانا ہوں گی۔ کسی بزرگ کے پاس بیٹھ جانا، کسی دوست کو اچانک فون کرلینا، پڑوسی کا حال پوچھ لینا، گھر میں کھانے کی میز پر موبائل ایک طرف رکھ دینا، کتاب کے چند صفحات پڑھ لینا، شام کو کچھ دیر پیدل چلنا اور سب سے بڑھ کر کبھی کبھی خاموش بیٹھ کر اپنے اندر کی آواز سن لینا۔ شاید یہ معمولی کام دکھائی دیں، مگر انسانی زندگی انہی معمولی لمحوں سے معنی حاصل کرتی ہے۔

قصہ مختصر شہر پتھر، سیمنٹ اور سڑکوں سے نہیں بنتا، شہر انسانوں سے بنتا ہے۔ اگر عمارتیں بلند ہوتی جائیں اور دل چھوٹے ہوتے جائیں تو شہر کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اس میں رہنے والا آدمی اندر سے بے گھر رہتا ہے۔ ہمیں ایسے شہر نہیں چاہییں جہاں روشنی بہت ہو مگر کسی کھڑکی کے پیچھے بیٹھے شخص کے اندھیرے کو کوئی نہ دیکھ سکے۔ ہمیں ایسے شہر چاہییں جہاں ترقی کے ساتھ تعلق بھی زندہ رہے، جہاں رفتار کے ساتھ ٹھہراؤ بھی ہو، جہاں ہجوم کے باوجود آدمی کو اپنا پن محسوس ہو۔

شاید مسئلہ یہ نہیں کہ شہر بہت بڑے ہوگئے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندر سے چھوٹا ہوتا جارہا ہے۔ اسے دوبارہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی صرف حاصل کرنے، آگے بڑھنے اور مصروف رہنے کا نام نہیں۔ زندگی کسی کے دکھ میں شریک ہونے، کسی کی بات سننے، کسی کے لیے وقت نکالنے اور کبھی اپنے دل کے دروازے پر دستک دینے کا نام بھی ہے۔ شہر اپنی جگہ آباد رہیں گے، سڑکوں پر ہجوم بھی ہوگا، عمارتوں میں روشنیاں بھی جلیں گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس سب کے درمیان آدمی، آدمی کے کتنا قریب رہتا ہے۔

شاید اسی ایک سوال کا جواب ہمارے شہروں کے مستقبل سے زیادہ، ہماری انسانیت کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

سلیم خان 5
Advertisement
Advertisement

وطن عزیز کے لیے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام دینے والے سول ڈیفنس افسران کو زاہد بختاوری کی جانب سے اعزازی شیلڈز

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اغواء غیرملکی باشندہ بازیاب

لاہور، شادمان میں ون ویلر کی ٹکر سے ریسکیو اہلکار جاں بحق

گجرات: 3 سال کی بچی کا قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لرزہ خیزانکشافات

لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×