تحریر: چوہدری سہیل مہدی گوجر
زندگی کی دو حقیقتیں ایسی ہیں جن سے کوئی انسان نہیں بچ سکتا؛ ایک وقت کا گزرنا اور دوسرا بڑھاپا۔ جوانی کا غرور، دولت کی چمک، عہدوں کی طاقت اور دوستوں کی محفلیں ایک نہ ایک دن ماند پڑ جاتی ہیں، لیکن ایک چیز اگر ساتھ رہے تو بڑھاپا بھی آسان ہو جاتا ہے، اور وہ ہیں خون کے رشتے۔ افسوس کہ آج کا انسان انہی رشتوں کو سب سے پہلے قربان کر دیتا ہے۔ انا، ضد، جائیداد کے جھگڑے، غلط فہمیاں، حسد اور وقتی اختلافات کی بنیاد پر بھائی بھائی سے، بہن بہن سے، اولاد والدین سے اور رشتہ دار ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید انہیں یہ احساس نہیں کہ خونی رشتے توڑ کر انسان جوانی تو گزار سکتا ہے، مگر بڑھاپا نہیں۔ جوانی میں انسان خود کو بے نیاز سمجھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس دولت ہے، دوست ہیں، کاروبار ہے، اثر و رسوخ ہے، اس لیے اسے کسی اپنے کی ضرورت نہیں۔ وہ رشتوں سے دوری اختیار کر لیتا ہے، فون کرنا چھوڑ دیتا ہے، ملاقاتیں ختم کر دیتا ہے اور دلوں میں نفرتیں پال لیتا ہے۔ مگر وقت کا پہیہ جب گھومتا ہے تو یہی انسان ایک دن تنہائی کے کمرے میں بیٹھا اپنے ماضی کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے معمولی باتوں پر اپنے بھائیوں سے تعلق ختم کر لیا، والدین کی دل آزاری کی، بہنوں سے رابطہ توڑ لیا یا عزیزوں کو حقیر سمجھا۔ جوانی میں انہیں اپنی طاقت پر ناز تھا، لیکن جب بیماری نے جسم کو کمزور کیا، اولاد اپنی مصروفیات میں گم ہوئی اور دوست اپنے اپنے راستے چل دیے تو انہیں احساس ہوا کہ جن رشتوں کو انہوں نے خود چھوڑا تھا، اصل سہارا تو وہی تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جائیداد کے چند مرلے، وراثت کا ایک حصہ، کاروبار کا معمولی اختلاف یا کسی کی ایک تلخ بات پورے خاندان کو تقسیم کر دیتی ہے۔ لوگ عدالتوں میں سالہا سال مقدمے لڑتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے دروازے پر جا کر معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ حالانکہ معافی مانگنے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اس کا قد اور بلند ہو جاتا ہے۔ اسلام نے صلہ رحمی کو بہت بڑی عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں بار بار رشتہ داری جوڑنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو شخص رشتے توڑتا ہے، وہ صرف لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دین ہمیں نماز، روزے اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ رشتہ داری نبھانے کا بھی حکم دیتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے تمام تعلقات مفاد کے تابع ہو سکتے ہیں، مگر خون کے رشتے فطرت کا عطیہ ہوتے ہیں۔ دوست بدل سکتے ہیں، کاروباری ساتھی بدل سکتے ہیں، لیکن بھائی دوبارہ نہیں ملتا، بہن دوبارہ پیدا نہیں ہوتی اور والدین کا نعم البدل دنیا میں کہیں نہیں۔ بڑھاپا انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ اس وقت نہ شہرت کام آتی ہے، نہ دولت کی نمائش، نہ بڑی گاڑیاں اور نہ بڑے عہدے۔ اس وقت اگر کوئی دوا لے کر آتا ہے، ہسپتال میں تیمارداری کرتا ہے، کندھا سہارا دیتا ہے یا خاموشی سے ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو اکثر وہی خون کا رشتہ ہوتا ہے جسے کبھی ہم نے نظر انداز کر دیا تھا۔ اگر آج بھی کسی کا اپنے بھائی، بہن، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی یا والدین سے اختلاف ہے تو ایک لمحے کے لیے اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر سوچے کہ اگر کل زندگی نے مہلت نہ دی تو کیا یہ فاصلے کبھی ختم ہو سکیں گے؟ کیا چند لمحوں کی ضد پوری زندگی کی تنہائی سے زیادہ قیمتی ہے؟
رشتے نبھانے کے لیے ہمیشہ دونوں کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک شخص کا جھک جانا پورے خاندان کو دوبارہ جوڑ دیتا ہے۔ صلح کرنے والا کبھی کمزور نہیں ہوتا، بلکہ وہی سب سے مضبوط انسان ہوتا ہے جو اپنے دل سے نفرت نکال کر محبت کا ہاتھ بڑھا دیتا ہے۔آج ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ خاندان صرف خوشیوں کی تصویروں کا نام نہیں، بلکہ دکھ، بیماری، آزمائش اور بڑھاپے میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کا نام ہے۔ اگر نئی نسل نے بھی رشتوں کی قدر نہ سیکھی تو آنے والے وقت میں ہر گھر میں آسائشیں تو ہوں گی، مگر اپنائیت نہیں ہوگی۔ آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کا کسی اپنے سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے تو پہل کرنے میں دیر نہ کریں۔ ایک فون کال، ایک سلام، ایک معافی یا ایک ملاقات کئی برسوں کی دوریاں ختم کر سکتی ہے۔ یاد رکھیں، زندگی بہت مختصر ہے، لیکن پچھتاوے بہت طویل ہوتے ہیں۔ خونی رشتے توڑ کر انسان جوانی تو شاید گزار لے، لیکن جب بڑھاپے کی شام ڈھلنے لگتی ہے، قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اور تنہائی دل پر دستک دیتی ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ اصل دولت بینک بیلنس نہیں، بلکہ وہ لوگ تھے جن کے رگوں میں ہمارا ہی خون دوڑتا تھا۔ اس لیے رشتے جوڑیں، انا نہیں؛ محبت بانٹیں، نفرت نہیں۔ یہی دنیا کا سکون بھی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی۔










