راجہ افتخار احمد
وزیرِ اطلاعات پنجاب محترمہ عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس نظروں سے گزری، صحافیوں کے بارے میں کافی شکوے شکایت سامنے آئے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی صحافی نے سرکار کی کسی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
صحافیوں کی تعلیم و تربیت کی بات کی گئی، ان کے لیے کوئی ایس او پیز بنانے کی بات کی گئی، یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک پڑھے لکھے شخص کو ہی صحافت کرنی چاہیے، تبھی جا کر صحافت کا معیار بہتر ہو سکتا ہے،
مگر سرکار کبھی بھی ایسا نہیں کرے گی کیونکہ جب ہزاروں کی تعداد میں حکومت کے گن گانے والے اور ان کی سوشل میڈیا کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرنے والے صحافی دستیاب ہیں تو پھر وہ صحافیوں کی تعلیم و تربیت اور صحافت کے معیار پر کیوں کام کرے گی؟
وکلاء برادری اور ڈاکٹروں کی ڈگری کی بات کی جاتی ہے کہ جس نے ایل ایل بی کیا ہوا ہے، وہی وکالت بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہی کوئی ڈاکٹر بن پاتا ہے، مگر ان دونوں شعبوں میں ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد ایک خوبصورت مستقبل آپ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ آج سب سے زیادہ پیسہ ہی ان دونوں شعبوں میں ہے۔ وکلاء برادری بھی ایک کیس کے ہزاروں اور لاکھوں میں لیتی ہے اور یہی صورتحال ڈاکٹر صاحبان کی بھی ہے۔ اب اس کے بدلے میں ایک نوجوان ایم اے جرنلزم کی ڈگری لے کر کہاں ٹکریں مارے گا؟ اس کا مستقبل صحافت میں کیا ہو گا؟ کیا یہ سرکار سے کوئی بھولا ہوا ہے؟
آج بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز اپنے ورکرز کو تنخواہیں دینے کو تیار نہیں۔ کئی کئی مہینے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے منسلک صحافیوں کو تنخواہیں نہیں دی جاتیں اور ان کے گھروں میں نوبت فاقہ کشی تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ روزانہ احتجاج اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ اس سلوک کے بعد کسی کا دماغ خراب ہے کہ وہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد صحافت کریں؟
وطنِ عزیز میں بھی بڑے نرالے قوانین موجود ہیں۔ یہاں ایم این اے، ایم پی ایز اور دیگر عہدوں پر براجمان ہونے کے لیے کوئی تعلیم و تربیت یا کسی ڈگری کی بات نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے عہدوں پر ڈاکو اور کرپٹ لوگ قابض ہیں، انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ مگر وہ صحافی جن کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں، اقتدار ملتے ہی صحافیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ نئے نئے کالے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد سرکار انہی صحافیوں کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑ جاتی ہے۔
اب اگر ضلع چکوال کی بات کی جائے تو یہاں بھی چند ایک ایم اے جرنلزم صحافی موجود ہیں، مگر ان کے بھی ساتھ کاروبار ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر ساتھ کاروبار نہ ہوں تو ایک ادارہ، جس کے وہ ورکر ہیں، وہ انہیں کیا اتنی تنخواہ دیتا ہوگا کہ ان کا ایک مہینے کا گزارا ہو جائے۔ میرے خیال میں جو تنخواہ ملتی بھی ہوگی تو اس سے آج کل کے دور میں ایک بجلی کا بل ہی ادا ہو سکتا ہوگا۔
اس سب کے باوجود اگر حکومت پہلے سے موجود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے منسلک ڈگری ہولڈر صحافیوں کو ان کے جائز حقوق، مراعات دے اور ان کے گھروں سے بھوک، افلاس ختم کریں، ڈگری ہولڈر صحافیوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دے، جن صحافی دوستوں کو پچھلے چھ مہینے اور ایک ایک سال سے تنخواہ نہیں دی گئی، انہیں سرکاری خزانے سے فوری طور پر تنخواہیں ادا کریں تو ہم حکومت کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ اس کام میں دیر نہ کریں،
کیونکہ فری لانسر صحافی کو تو ویسے بھی کچھ نہیں ملتا، اس نے اپنا کر کے ہی کھانا ہے، بلکہ الٹا ادارے کہتے ہیں کہ اپنی کھا آؤں اور ہماری ساتھ لیتے آؤ۔











