بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

کیا' پنجاب میں اینٹی کرپشن کی جارحانہ باؤلنگ جاری ہے؟

کیا' پنجاب میں اینٹی کرپشن کی جارحانہ باؤلنگ جاری ہے؟

راجہ افتخار احمد 


پنجاب میں محمکہ اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کی بڑی گونج سنائی دے رہی ہے کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ادارے کو  ٹاسک دیا ہے کہ اتنے دنوں میں مجھے پنجاب میں کرپشن کا خاتمہ چاہیے 

اسی حکم کو لیکر پنجاب کے مختلف اضلاع میں روزانہ اینٹی کرپشن چھوٹی چھوٹی کارروائیوں میں کبھی کسی اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو دھر رہی ہے کبھی کوئی پٹواری زیرعتاب آ رہا ہے کبھی کوئی اشٹام فروش اور کبھی کوئی کلرک بادشاہ مزے کی بات یہ ہے کہ اب تک جتنی بھی کارروائیاں سامنے آئی ہیں ان میں برآمد کی گئی کرپشن دس ہزار سے شروع ہو کر 30 ہزار پر ختم ہو جاتی ہے یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے ہم جس ملک کے باسی ہیں وہاں کیا کرپشن دس یا پندرہ ہزار کی ہی ہو رہی ہے ہمارے ملک میں کرپشن لاکھوں کڑروں اور اربوں میں روپوں میں ہو رہی ہے کبھی کوئی بڑا مگرمچھ قانون کی گرفت میں آ بھی جاتا ہے مگر ایسا سالوں میں کہیں ایک دفعہ نظر آتا ہے قبل ازیں ہم نے سربراہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ و اینٹی کرپشن پنجاب چھٹہ صاحب کا بیان سنا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ جس دن پنجاب میں ہماری خواتین سونا زیور پہن کر شام کو خیر وعافیت سے گھر پہنچ جائیں گی اس دن میں سمجھوں گا کہ ہم کامیاب ہو گئے اور کرائم کا پنجاب سے خاتمہ ہو گیا مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ خاتمہ تو بہت دور کی بات ہر روز چوری ڈکیٹی کی وارداتوں کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے روزانہ عوام لٹ رہی ہے نیفوں میں پستول بھی چلے ہیں مگر پھر بھی بچوں کے ساتھ بدفعلی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہیں ہو رہی نہ لوگوں کی جان نہ مال اور نہ ہی عزت محفوظ ہے۔ ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ادارے برے نہیں ہوتے ادارے چلانے والوں پر منحصر ہوتا ہے کہ کہ وہ اداروں کو کتنا میرٹ اور کتنی شفافیت عطا کرتے ہیں جس دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواہ وہ محکمہ پولیس ہو یا سی سی ڈی ہو انہیں یہ اختیار دے دیا گیا کہ آپ نے ہر حالت میں میرٹ کی بالا دستی قائم کرنی ہے جرم اگر کوئی غریب کرے تو اس کے نیفے میں بھی پستول چلنا چاہیے اور اگر کسی سیاست دان کسی بیوروکریٹ یا کسی طاقتور بزنس مین کا بچہ جرم کرے تو پھر اس کے نیفے میں بھی پستول ہی چلنی چاہیے طاقتور کو دیکھ کر اداروں کو اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔  جب ملک میں چھوٹے مجرموں کے نیفوں میں پستول چلیں گے اور بڑے ملزمان  کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حوالے ہی نہیں کی جائے گی بلکہ یہ بیان سامنے آئے گا کہ اس کی تفتیش پنجاب پولیس خود کرے گی کیا یہ بیان ایک ادارہ دے رہا ہے؟ نہیں یہ اداروں سے بیان جاری کروائے جاتے ہیں جب ایک ملک میں دو قانون ہوں گے غریب کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ تو پھر جرم کھبی ختم نہیں ہو سکتا  اور نہ ہی کرپشن ختم ہو سکتی ہے اب اگر میں اینٹی کرپشن پنجاب کی بات کروں تو  10 ہزار اور 20 ہزار والے رشوت خوروں کو تو پکڑا جا رہا ہے مگر لاکھوں کروڑوں اور اربوں روپے کرپشن کرنے والے آزاد ہیں انہیں کوئی گرفتار نہیں کر سکتا تو پھر سمجھ لیجئے کہ رشوت اور کرپشن پنجاب میں یا پاکستان میں کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی. بس کچھ ہلچل ہے ہوا چل رہی ہے کچھ کمزور اور سوکھے پتے گر رہیں ہیں مگر کرپشن کے مضبوط پیڑ جن کی جڑیں مضبوط ہیں انہیں کوئی ڈر و خوف نہیں وہ اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑے ہیں. اس لیے میرے خیال میں پنجاب میں اینٹی کرپشن کی جس جارحانہ باؤلنگ کا ذکر کیا جا رہا ہے اور جن وکٹوں کے گرنے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے وہ وکٹیں صرف ٹیل اینڈرز بیٹسمینوں کی ہیں مگر اوپنر ون ڈے اور ٹو ڈے پر بیٹنگ کرنے والے بیٹسمینوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا بلکہ وہ کریز سے نکل نکل کرچوکے اور چھکے لگا رہے ہیں

راجہ افتخار احمد 4
Advertisement
Advertisement

وطن عزیز کے لیے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام دینے والے سول ڈیفنس افسران کو زاہد بختاوری کی جانب سے اعزازی شیلڈز

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اغواء غیرملکی باشندہ بازیاب

لاہور، شادمان میں ون ویلر کی ٹکر سے ریسکیو اہلکار جاں بحق

گجرات: 3 سال کی بچی کا قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لرزہ خیزانکشافات

لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×