تحریر ۔۔ حیران مومند
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ نصف صدی سے جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کا سب سے پیچیدہ اور حساس باب سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل سرحد، صدیوں پر محیط تاریخی روابط، مشترکہ مذہبی و ثقافتی رشتے، قبائلی سماج، تجارتی راستے اور جغرافیائی قربت ایک ایسی حقیقت ہیں جنہیں نہ تو سیاست تبدیل کر سکتی ہے اور نہ ہی وقتی کشیدگی ختم کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات اعتماد کے بحران، سرحدی تنازعات، مہاجرین، دہشت گردی، علاقائی طاقتوں کے مفادات اور باہمی الزامات کے باعث مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں رونما ہونے والی تقریباً ہر بڑی سیاسی تبدیلی کے اثرات پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت، خارجہ پالیسی اور سرحدی علاقوں پر براہِ راست مرتب ہوتے رہے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انیس سو اناسی میں سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت نے پورے خطے کی سیاست کو یکسر بدل دیا۔ اس دور میں پاکستان نے امریکہ، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر افغان مزاحمت کی حمایت کی۔ اس پالیسی کو اُس وقت سرد جنگ کے تناظر میں دیکھا گیا اور مغربی دنیا نے اسے سوویت توسیع پسندی کے خلاف ایک اہم حکمت عملی قرار دیا۔ بعد ازاں سوویت افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی، جس نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ ان حالات میں مختلف افغان گروہ اقتدار کے لیے برسرِ پیکار رہے اور بالآخر انیس سو چھیانوے میں طالبان پہلی مرتبہ کابل میں اقتدار تک پہنچے۔ دو ہزار ایک میں نائن الیون کے حملوں کے بعد عالمی منظرنامہ دوبارہ تبدیل ہوا۔ امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ اس فیصلے کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک طرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اہم سفارتی اور اقتصادی تعاون حاصل ہوا، جبکہ دوسری جانب ملک کو داخلی دہشت گردی، خودکش حملوں، عسکریت پسندی، لاکھوں بے گھر افراد، معاشی نقصانات اور ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کی قربانی جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف سرکاری بیانات کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور مالی نقصان اٹھایا، جبکہ متعدد بین الاقوامی اداروں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستان اس تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا۔ اگست 2021 میں افغانستان میں ایک مرتبہ پھر طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو بہت سے مبصرین نے یہ توقع ظاہر کی کہ شاید اب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں نئی بہتری آئے گی اور سرحدی سلامتی کے مسائل میں کمی واقع ہوگی۔ تاہم بعد کے برسوں میں حالات اس توقع کے مطابق مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئے۔ پاکستان کے مختلف سرکاری حکام نے متعدد مواقع پر سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گرد حملوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، جبکہ افغان عبوری حکومت نے ان الزامات کی مختلف اوقات میں تردید کی اور اپنے مؤقف پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ متضاد مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ بین الاقوامی امور کے متعدد ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف عسکری یا سکیورٹی نقطۂ نظر سے دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں امن کا تعلق صرف سرحدی نگرانی سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام، اقتصادی تعاون، قانونی تجارت، عوامی روابط، مؤثر سفارت کاری اور علاقائی انضمام سے بھی ہے۔ مختلف تحقیقی اداروں، جن میں بین الاقوامی بحرانوں پر تحقیق کرنے والے ادارے اور علاقائی مطالعاتی مراکز شامل ہیں، بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ جب تک دونوں ممالک اعتماد سازی، مسلسل مکالمے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کو اپنی پالیسی کا حصہ نہیں بناتے، اس وقت تک سرحدی کشیدگی اور باہمی شکوک و شبہات مکمل طور پر ختم ہونا مشکل ہوگا۔ اسی دوران عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کی سیاست نے بھی اس مسئلے کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ افغانستان وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان بحیرۂ عرب تک رسائی رکھنے والا ایک اہم ساحلی ملک ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعاون قائم ہو جائے تو وسطی ایشیا کی منڈیاں، توانائی کے منصوبے، ٹرانزٹ تجارت، ریل اور سڑک رابطے، معدنی وسائل اور علاقائی سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی اختلافات اور سکیورٹی خدشات برقرار رہتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ ان اقتصادی امکانات سے مکمل فائدہ اٹھانے سے محروم رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی اور ترقیاتی حلقوں میں بھی یہ رائے پائی جاتی ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان حقیقی اقتصادی انضمام کے لیے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں استحکام بنیادی شرط ہے۔ اگر موجودہ معروضی حالات کو جذبات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان اس وقت دو مختلف ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کی اولین ترجیح داخلی سلامتی، سرحدی نظم و نسق، دہشت گردی کی روک تھام اور اپنی سرزمین پر امن کا قیام ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت اپنی داخلی سیاسی حیثیت، بین الاقوامی قبولیت، اقتصادی بحالی، منجمد مالی اثاثوں کی بحالی اور عالمی سفارتی تنہائی کے خاتمے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ یہی مختلف ترجیحات دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا عمومی مؤقف ہے کہ افغانستان کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دینا نہ تو خطے کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عالمی سلامتی کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ متعدد تحقیقی اداروں اور سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ افغانستان کے ساتھ محدود مگر مسلسل سفارتی رابطہ، انسانی امداد، اقتصادی تعاون اور عملی مکالمہ خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح کئی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت اور مہاجرین جیسے مسائل کا حل صرف یک طرفہ اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون ناگزیر ہے۔ اقتصادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو افغانستان صرف ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم جغرافیائی راستہ بھی ہے۔ ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت، توانائی، ریل اور سڑک کے منصوبے اسی صورت میں اپنی حقیقی استعداد حاصل کر سکتے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اعتماد اور استحکام پیدا ہو۔ تاپی گیس پائپ لائن، کاسا 1000، ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر علاقائی منصوبے برسوں سے اسی وجہ سے سست روی کا شکار ہیں کہ خطے میں پائیدار سکیورٹی اور سیاسی ہم آہنگی ابھی تک مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکی۔ چین، روس، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں، خلیجی ممالک، یورپی یونین اور امریکہ بھی افغانستان کو اپنے اپنے تزویراتی اور اقتصادی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ چین کے لیے افغانستان معدنی وسائل، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور سنکیانگ کی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ روس وسطی ایشیا میں سلامتی اور شدت پسندی کے پھیلاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران پانی، تجارت، سرحدی سلامتی اور مہاجرین کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتا ہے۔ امریکہ اگرچہ اپنی فوجی موجودگی ختم کر چکا ہے، لیکن انسدادِ دہشت گردی، انسانی امداد، علاقائی استحکام اور افغانستان کے مستقبل پر اس کی سفارتی دلچسپی بدستور برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان اب بھی عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔پشتون معاشرے کے سماجی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے والے محققین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قبائلی روایات، جرگہ، ثالثی اور باہمی مشاورت صدیوں سے تنازعات کے حل کا حصہ رہی ہیں۔ تاہم جدید قومی ریاستوں کے موجودہ نظام میں ان روایتی طریقوں کو آئینی، قانونی اور سفارتی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ صرف روایتی جرگہ یا صرف ریاستی طاقت، دونوں میں سے کوئی ایک تنہا دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے جدید سفارت کاری، ریاستی اداروں، مقامی سماجی قیادت اور عوامی اعتماد کو ایک مشترکہ حکمت عملی میں شامل کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ مسلسل کشیدگی کا نقصان دونوں ممالک کو ہو رہا ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، ترقیاتی منصوبے سست پڑ جاتے ہیں، مہاجرین کے مسائل پیچیدہ ہوتے ہیں اور عام شہری سب سے زیادہ مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ اسی لیے عالمی تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کا دیرپا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مسلسل سفارتی رابطوں، اقتصادی تعاون، اعتماد سازی، علاقائی شراکت داری اور حقیقت پسندانہ سیاسی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ یہی راستہ نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کے امن، ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔










