پشاور: خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کی رکن اور مشیر اطلاعات ثمر بلور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان قابل احترام ہیں، تاہم ان کی جانب سے مختلف معاملات کو جوڑنے کا انداز درست نہیں، انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمر بلور کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے رویے اور غصے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق مولانا کی ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اب ان سے ملاقات اور مشاورت نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کو عجیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا صوبے کی ترقی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔
سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ وہ تاحال محفوظ کسٹڈی میں ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ پشاور میں ہیں یا کسی دوسری جگہ۔ ان کے خلاف چارج شیٹ کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ثمر بلور نے سہیل آفریدی پر مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف اضلاع میں مبینہ طور پر غیر قانونی ٹھیکے دیے گئے جبکہ سہیل آفریدی کے بھائی اور کزن بھی بعض منصوبوں میں کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان سمیت دیگر معاملات میں بھی ملوث ہیں۔
سانحہ دیر کالونی کے حوالے سے ثمر بلور نے بتایا کہ افسوس ناک واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انکوائری رپورٹ جلد سامنے لائی جائے گی۔ ان کے مطابق اسکولوں اور مدارس کی عمارتوں کی مرمت کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں، تاہم اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ اسی لیے مرمتی کام فری پیریڈز کے دوران کیا جائے گا۔
صحت کارڈ پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، تاہم پروگرام کو بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ثمر بلور کے مطابق میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) کی انتظامیہ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ بورڈز میں شامل افراد کی کارکردگی کی نگرانی کی جا رہی ہے۔










