بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

وہ لہو جو کبھی خشک نہیں ہوتا

وہ لہو جو کبھی خشک نہیں ہوتا

یاسمین اختر طوبیٰ


کبھی کبھی تاریخ کتاب کے اوراق پر نہیں لکھی جاتی بلکہ مٹی کے سینے پر لکھی جاتی ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے آنکھوں سے زیادہ دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ تاریخیں کیلنڈر پر صرف ایک ہندسہ بن کر نہیں آتیں، وہ اپنے ساتھ یادوں کا ایک پورا موسم لے کر آتی ہیں۔ 06۔ ستمبر بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج کے ساتھ ایک قوم کے عزم کی آواز بلند ہوئی، جب ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے سائے میں رخصت کیا، جب سپاہیوں نے اپنے لہو سے وطن کی مٹی کو یہ یقین دلایا کہ آزادی محض نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں، بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔

آج جب ہم یومِ دفاع مناتے ہیں تو ہمارے سامنے صرف جنگِ ستمبر کے واقعات نہیں ہوتے بلکہ ان بے شمار چہروں کی یاد بھی ہوتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی صبح وطن کے نام کر دی۔ کوئی سپاہی سرحد پر کھڑا تھا، کوئی افسر مورچے میں اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہا تھا، کوئی ماں گھر کی دہلیز پر بیٹھی اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر تھی اور کوئی بہن اپنے بھائی کے خط کو سینے سے لگائے دعا کر رہی تھی۔ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے شعلے گھروں کے آنگن تک پہنچتے ہیں اور اس کی آزمائش قوم کے ہر فرد سے اپنا خراج مانگتی ہے۔

شہادت شاید موت کا سب سے بڑا استعارہ ہے مگر درحقیقت یہ زندگی کی سب سے بلند تعبیر بھی ہے۔ شہید کا جسم دنیا سے رخصت ہوتا ہے مگر اس کا جذبہ باقی رہتا ہے۔ وہ قبر میں اترتا ہے تو تاریخ میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا لہو مٹی میں جذب ضرور ہوتا ہے مگر اس کی خوشبو نسلوں کے حافظے میں باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہیدوں کا خون کبھی خشک نہیں ہوتا۔ وقت کی دھوپ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، تاریخ کے صفحات کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوجائیں، قربانی کی سیاہی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔

ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ جنگِ ستمبر کے دنوں میں پاکستان کی فضائیں ایک عجیب جذبے سے معمور تھیں۔ شہروں میں بلیک آؤٹ ہوتا تھا، لوگ ریڈیو کے گرد جمع ہوتے، محاذ کی خبریں سنتے اور ہر کامیابی پر دل سے نعرۂ تکبیر بلند کرتے۔ اس وقت قوم کے پاس وسائل شاید آج جیسے نہ تھے مگر حوصلے بے حساب تھے۔ یہ حوصلہ کسی ایک ادارے، طبقے یا علاقے کی ملکیت نہیں تھا، یہ پوری قوم کا مشترکہ جذبہ تھا۔ یہی قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی اصل قوت ہوتی ہے۔ ہتھیار دشمن کے جسم کو روک سکتے ہیں مگر قوم کا اتحاد دشمن کے ارادے کو شکست دیتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آج، کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد، ہم اس لہو سے کیا سیکھتے ہیں؟ کیا یومِ دفاع صرف تقریروں، ملی نغموں، پرچموں اور ایک دن کی یاد تک محدود ہے؟ کیا شہداء سے ہماری وفاداری صرف یہ ہے کہ ہم سال میں ایک مرتبہ ان کی قبروں پر پھول چڑھا دیں اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں ان کے خوابوں کو بھلا دیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

وطن کی حفاظت صرف سرحد پر بندوق اٹھانے کا نام نہیں۔ سرحدوں کے محافظ اپنی جانوں سے ملک کی حفاظت کرتے ہیں لیکن شہری اپنے کردار سے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایک استاد ایمانداری سے علم بانٹ کر وطن کی حفاظت کرتا ہے، ایک ڈاکٹر دیانت داری سے مریض کا علاج کرکے، ایک مزدور اپنے پسینے سے، ایک کسان اپنی فصل سے، ایک طالب علم محنت سے اور ایک سرکاری اہلکار انصاف سے ملک کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرتی ہے تو اس کی سرحدیں صرف فوج نہیں، پوری قوم محفوظ بناتی ہے۔

آج پاکستان کو شاید توپوں کی گھن گرج سے زیادہ کردار کی خاموش طاقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اندر موجود ان دشمنوں کو پہچاننا ہوگا جو نفرت، تعصب، بدعنوانی، جھوٹ، ناانصافی، جہالت اور مایوسی کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ بیرونی دشمن سرحد کے اُس پار کھڑا دکھائی دیتا ہے مگر اندرونی کمزوریاں خاموشی سے قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی رہتی ہیں۔ اگر ہم واقعی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کمزوریوں کے خلاف بھی ایک اجتماعی جنگ لڑنا ہوگی۔

ایک قوم کی اصل طاقت اس کے میزائلوں کی تعداد نہیں، اس کے لوگوں کے حوصلے، کردار اور اتحاد میں ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے ماضی کی قربانیوں کو مستقبل کی تعمیر سے جوڑ دیتی ہیں۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہے۔ ہمیں شہداء کی یاد کو آنکھوں کے آنسوؤں تک محدود نہیں کرنا بلکہ اسے اپنے عمل کی روشنی بنانا ہے۔ ان کے خوابوں کا پاکستان وہ پاکستان ہے جہاں انصاف ہو، قانون کی بالادستی ہو، علم کی قدر ہو، محنت کا احترام ہو اور انسان کی عزت اس کے منصب یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے کی جائے۔

کبھی کسی شہید کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دیکھیے۔ وہاں خاموشی ہوتی ہے مگر وہ خاموشی بہت کچھ کہتی ہے۔ مٹی کی ذرہ ذرہ جیسے پوچھتا ہے: "کیا تم نے اس قربانی کی قدر کی؟کتبے پر لکھا ہوا نام جیسے پکار کر کہتا ہے: ’’ہم نے اپنا آج تمہارے کل کے لیے دیا تھا، تم اپنے آج سے اپنے وطن کا کل کیا بنا رہے ہو؟" شاید یہی یومِ دفاع کا سب سے بڑا سوال ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں جیتی جاتیں، قوموں کے اندر بھی جیتی جاتی ہیں۔ جس قوم کے دل میں امید زندہ ہو، جس کے نوجوان خواب دیکھتے ہوں، جس کے بچے کتاب کو ہتھیار سمجھتے ہوں، جس کے شہری قانون کا احترام کرتے ہوں اور جس کے ادارے انصاف کے اصول پر قائم ہوں، اسے شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔ دفاعِ وطن دراصل ایک مسلسل عمل ہے۔ 06.۔۔ستمبر ہمیں صرف ماضی یاد نہیں دلاتا، یہ ہر آنے والی نسل سے عہد مانگتا ہے۔

آج اگر ہم شہیدوں کے مزاروں پر چراغ روشن کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ اپنے کردار کے اندھیروں میں بھی ایک چراغ جلائیں، اگر ہم ان کے لیے فاتحہ پڑھتے ہیں تو ان کے مقصد کو بھی یاد رکھیں،  اگر ہم ان کی تصویروں پر پھول نچھاور کرتے ہیں تو اپنے عمل میں وطن کے لیے پھول اگائیں۔ کیونکہ شہید کو سب سے خوبصورت خراج یہ نہیں کہ اس کے نام کا نعرہ بلند کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ اس وطن کو مضبوط، پرامن، باوقار اور خوشحال بنایا جائے جس کے لیے اس نے اپنی جان قربان کی۔

06.. ستمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ وطن ماں کی دعا، باپ کی امید، بچے کی مسکراہٹ، کسان کا پسینہ، مزدور کی محنت، سپاہی کی قربانی اور شہید کے لہو کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وطن سے وفا محض جذبات کا نام نہیں، یہ ایک ذمہ داری ہے، ایک مسلسل عہد ہے، ایک ایسا قرض ہے جسے پوری زندگی ادا کرنا پڑتا ہے۔

اور پھر جب شام اترتی ہے، قومی پرچم ہوا میں لہراتا ہے اور کہیں دور کسی شہید کی قبر پر چراغ جلتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مٹی کے اندر سے کوئی آواز آ رہی ہو۔ ایک ایسی آواز جو وقت کے شور میں بھی صاف سنائی دیتی ہے:

*ہم چلے گئے، مگر وطن باقی ہے۔*

*ہم خاموش ہوگئے، مگر ہماری داستان باقی ہے۔*

*ہم مٹی میں سو گئے، مگر ہمارا خواب باقی ہے۔*

اور یہی وہ خواب ہے جس کی حفاظت اب ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی وہ امانت ہے جسے ہمیں آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ کیونکہ شہید کا لہو زمین پر گر کر ختم نہیں ہوتا، وہ قوم کے ضمیر میں جذب ہوجاتا ہے اور جب تک اس قوم کا ضمیر زندہ ہے، وہ لہو کبھی خشک نہیں ہوتا۔

یاسمین اختر طوبیٰ 13
Advertisement
Advertisement

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر، 100 روپے کا ریلیف کچھ سہولت دے گا: مصدق ملک

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کمی

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حتمی فیصلہ آج متوقع

سعودی عرب کے متعدد شہروں میں حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ، ہنگامی الرٹ جاری

نیکی کا پھل

پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت متعدد نامزد

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×