پمز نرسری کا سانحہ: پندرہ نومولود جھلس گئے، سوالات کا جواب کون دے گا؟
تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
کچھ خبریں محض پڑھی نہیں جاتیں، دل کو گھائل کر جاتی ہیں۔ کچھ سانحے ایسے ہوتے ہیں جو محض خبر نہیں رہتے بلکہ انسان کے اندر ایک خاموش چیخ بن کر گونجتے ہیں۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں بھڑکنے والی آگ بھی ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، جس میں پندرہ نومولود بچوں کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ یہ صرف پندرہ معصوم جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ہمارے نظامِ صحت، حفاظتی انتظامات اور اجتماعی ذمہ داری پر ایک ایسا سوال ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں۔ اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں سولہ نومولود موجود تھے۔ ایک بچے کو محفوظ نکال لیا گیا جبکہ پندرہ معصوم بچے آگ کی لپیٹ میں آکر زندگی کی بازی ہار گئے۔ ذرا تصور کیجئے، وہ بچے جو ابھی دنیا کو دیکھنے، اپنی ماں کی آواز پہچاننے اور باپ کی انگلی تھامنے کی عمر تک بھی نہیں پہنچے تھے، وہ اچانک شعلوں اور دھوئیں کے درمیان زندگی کی جنگ لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ نہ بھاگ سکتے تھے، نہ خطرہ سمجھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنی مدد کے لیے کسی کو پکار سکتے تھے۔ ان کی پوری زندگی دوسروں کی ذمہ داری تھی اور یہی وجہ ہے کہ نرسری محض ایک کمرہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت گاہ ہوتی ہے۔نومولود کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتا۔ وہ خطرہ محسوس کرکے دروازے تک نہیں پہنچ سکتا، دھوئیں سے بچنے کے لیے راستہ تلاش نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال میں خود کو محفوظ مقام تک منتقل کرسکتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ان ہاتھوں کا محتاج ہوتا ہے جنہیں اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ اسی لیے نرسری میں موجود ہر تار، ہر پلگ، ہر مشین، ہر اے سی، ہر سلنڈر، ہر دروازہ اور ہر حفاظتی نظام محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ اے سی کمپریسر کا پھٹنا بتائی گئی تھی۔ اگر تحقیقات میں یہی وجہ ثابت ہوتی ہے تو سوال مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ مشین خراب ہوسکتی ہے، بجلی کا نظام جواب دے سکتا ہے اور کمپریسر پھٹ سکتا ہے لیکن ایک حساس ترین طبی مرکز میں ایسی خرابی کے نتیجے میں پندرہ نومولودوں کی جان چلی جائے تو معاملہ محضایک تکنیکی خرابی تک محدود نہیں رہتا۔ حادثات اچانک رونما ہوسکتے ہیں مگر ان کے تباہ کن نتائج اکثر ناقص یا ناکافی حفاظتی انتظامات کی وجہ سے کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ آگ لگنے کے بعد چھ فائر ٹینڈرز اور چار ایمبولینسز موقع پر پہنچیں، امدادی کارروائی کی گئی، آگ پر قابو پایا گیا اور کولنگ کا عمل شروع کیا گیا۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ ضروری تھے لیکن اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: آگ لگنے سے پہلے کیا کیا جارہا تھا؟کیا نرسری کے اے سی اور برقی نظام کی باقاعدہ جانچ ہوتی تھی؟ کیا فائر سیفٹی آڈٹ باقاعدگی سے کیا گیا تھا؟ کیا وہاں خودکار فائر الارم اور آگ بجھانے کا مؤثر نظام موجود تھا؟ کیا عملے کو نومولود بچوں کو ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی عملی تربیت دی گئی تھی؟ کیا ایمرجنسی راستے ہر وقت کھلے اور قابلِ استعمال تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر حفاظتی انتظامات موجود تھے تو پھر آگ پندرہ نومولودوں کی جان لینے تک کیسے پہنچ گئی؟یہ سوالات تلخ ضرور ہیں مگر ضروری ہیں۔ قومیں صرف سانحات پر افسوس کرکے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے سانحات سے سبق سیکھ کر محفوظ ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر بڑے حادثات کے بعد چند دن تک شور اٹھتا ہے، تعزیتی بیانات جاری ہوتے ہیں، ذمہ داروں کے تعین اور کارروائی کے اعلانات کیے جاتے ہیں، انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ خبر بھی پرانی ہوجاتی ہے اور سوال بھی۔ فائلیں الماریوں میں چلی جاتی ہیں مگر وہ بنیادی خامیاں وہیں رہتی ہیں جہاں پہلے موجود تھیں۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ یہ ایک ضروری قدم ہے لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ انکوائری صرف اس سوال تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ آگ کہاں سے شروع ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نرسری میں آگ سے بچاؤ کے لیے کون سے حفاظتی انتظامات موجود تھے، وہ کس حالت میں تھے، ان کی باقاعدہ جانچ کب ہوئی تھی اور ہنگامی صورتحال میں نومولود بچوں کو محفوظ نکالنے کا عملی نظام کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ کمپریسر پھٹ گیا تھا۔ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ کمپریسر کی حالت کیا تھی، اس کا معائنہ کب کیا گیا تھا، خرابی کی کوئی پیشگی علامت موجود تھی یا نہیں، برقی اور فائر سیفٹی نظام فعال تھا یا نہیں اور اگر کسی مرحلے پر غفلت ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔اگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داری صرف کسی ایک ماتحت اہلکار کے کندھوں پر ڈال کر معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ جواب دہی وہاں تک جانی چاہیے جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، بجٹ مختص ہوتے ہیں، معائنوں کی منظوری دی جاتی ہے اور حفاظتی نظام کو درست قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات غلطی ایک شخص کی ہوسکتی ہے، مگر غفلت ایک پورے نظام کی پیداوار ہوتی ہے۔یہ سانحہ ہمیں اپنے ہسپتالوں کے بارے میں ایک بنیادی سوال بھی دیتا ہے: کیا ہم نے علاج کو صرف عمارت، مشین، ڈاکٹر اور دوا تک محدود کردیا ہے؟ کیا مریض کی حفاظت ہماری طبی ترجیحات میں واقعی شامل ہے؟ہسپتال میں علاج اور صحت یابی کا انتظام ضرور ہونا چاہیے لیکن اس سے پہلے زندگی کے تحفظ کا انتظام ہونا چاہیے۔ نرسری میں موجود بچہ ایک مریض ضرور ہے مگر اس سے پہلے وہ ایک امانت ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو ہسپتال کے حوالے کرتے ہوئے دراصل اپنی پوری دنیا کسی دوسرے کے سپرد کرتی ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ سفید لباس میں موجود طبی عملہ، روشن وارڈ، جدید مشینیں اور ریاستی ادارے اس کے بچے کی حفاظت کریں گے۔ اگر وہی بچہ ہسپتال کی چار دیواری کے اندر آگ کی لپیٹ میں آکر جان سے چلا جائے تو والدین صرف اپنے بچے کے غم سے نہیں ٹوٹتے، ان کا نظام پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔اب ضرورت صرف پمز کی نرسری کے واقعے کی تحقیقات تک محدود رہنے کی نہیں بلکہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ایک نئے حفاظتی شعور کی ہے۔ ہر نرسری، ہر آئی سی یو، ہر آپریشن تھیٹر اور ہر حساس وارڈ کا حقیقی فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے، کاغذوں پر نہیں بلکہ عملی طور پر۔ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ شارٹ سرکٹ، دھوئیں، آگ یا کسی بھی دوسری ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو کتنی جلدی محفوظ مقام تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ عملے کی تربیت، فائر الارم، ایمرجنسی راستوں، برقی تنصیبات اور طبی آلات کی جانچ کو رسمی کارروائی کے بجائے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔پمز کی نرسری میں جاں بحق ہونے والے یہ پندرہ نومولود اب ہماری اجتماعی ذمہ داری کا سوال بن چکے ہیں۔ ان معصوم بچوں نے ابھی زندگی کا سفر شروع بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ایک ایسے حادثے کی نذر ہوگئے جس کے اسباب اور ذمہ داری کا تعین اب ہر صورت ہونا چاہیے۔ ان کی موت کو محض ایک افسوس ناک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا ان کے ساتھ دوسری ناانصافی ہوگی۔وہ بچے ابھی بولنا نہیں جانتے تھے مگر ان کی خاموش موت ہم سے سوال کر رہی ہے: اگر زندگی کی پہلی دہلیز پر بھی انسان محفوظ نہیں تو ہماری ترقی کس کام کی؟ اگر ہسپتال کی نرسری میں بھی موت اچانک شعلوں کی صورت میں آسکتی ہے تو ہماری حفاظتی پالیسیوں کی حقیقت کیا ہے؟ اگر ہر سانحے کے بعد صرف افسوس، تحقیقات اور یقین دہانیاں باقی رہ جاتی ہیں تو عملی تبدیلی کب آئے گی؟ شاید اس وقت ہم ان بچوں کو واپس نہیں لاسکتے، مگر ان کے بعد آنے والے بچوں کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں کسی نرسری میں معمولی برقی خرابی قیامت نہ بن سکے۔ ہم ایسا انتظام کرسکتے ہیں جہاں فائر الارم صرف دیوار پر لگی ایک مشین نہ ہو بلکہ واقعی زندگی بچانے والا نظام ہو۔ ہم ایسا ادارہ جاتی کلچر تشکیل دے سکتے ہیں جہاں غفلت کو معمول اور جواب دہی کو غیر معمولی نہ سمجھا جائےاور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کسی ہسپتال کی نرسری میں پھر کبھی کوئی ماں اپنے بچے کو زندگی کی امید کے ساتھ چھوڑ کر اس کی موت کی خبر سننے پر مجبور نہ ہو۔پمز کی نرسری میں جاں بحق ہونے والے یہ پندرہ نومولود ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے جلتے ہوئے سوال ہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ان سوالوں کا جواب دیں گے، حفاظتی نظام بدلیں گے اور ذمہ داری طے کریں گے یا ہمیشہ کی طرح چند آنسو بہا کر خاموش ہوجائیں گے؟
یاسمین اختر طوبیٰ32
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کیساتھ مفاہمتی یادداشت پردستخط
سیکیورٹی فورسز کی کواڈ کاپٹر سے بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان کا کمانڈر نقیب 2 ساتھیوں سمیت ہلاک
انڈونیشیا کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کی جی ایچ کیو آمد، آرمی چیف عاصم منیر سے اہم ملاقات
میری حفاظت اللہ کرتا ہے، تم لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو کل یا آج ہی مرجاؤں: سہیل آفریدی
پٹرول ریلیف اسکیم کا آج رات اسلام آباد سے آغاز، 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو فائدہ ہوگا
مقدمات کی جلد سماعت کے لیے شام کو بھی عدالتی بینچ بیٹھے گا، چیف جسٹس
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے
خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین
تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔
بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا
جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف