بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

7 ستمبر 1974ء۔۔۔جب تاریخ نے ایک فیصلہ لکھا

7 ستمبر 1974ء۔۔۔جب تاریخ نے ایک فیصلہ لکھا

یاسمین اختر طوبیٰ


کچھ دن سورج کے طلوع و غروب کے ساتھ گزر جاتے ہیں، کچھ دن تاریخ کے سینے میں اتر جاتے ہیں۔ کچھ تاریخیں کیلنڈر پر لکھی جاتی ہیں اور کچھ قوموں کی اجتماعی یادداشت پر۔ 7 ستمبر 1974ء بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔

 شام ڈھل رہی تھی۔ ایوانِ اقتدار میں کئی روز سے جاری بحث اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ لفظوں کے تیر چل چکے تھے، سوال اٹھ چکے تھے، جواب دیے جا چکے تھے اور دلائل کی کسوٹی پر مؤقف پرکھے جا چکے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک ایسا فیصلہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا تھا جس کے اثرات آنے والے عشروں تک پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں محسوس کیے جانے تھے۔ پھر گھڑی کی سوئیاں 4 بج کر 35 منٹ پر آ ٹھہریں اور ایک فیصلہ سامنے آیا۔ قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیہ جماعت کے پیروکاروں کو، آئین میں متعین تعریف کے تحت، غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یوں ایک طویل پارلیمانی بحث اپنے اختتام کو پہنچی اور مذہبی شناخت کا ایک حساس سوال پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں باقاعدہ درج ہوگیا۔ لیکن تاریخ کے فیصلے اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے سوالوں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے۔ 1974ء میں بھی یہی ہوا۔ پارلیمان میں مسلسل کئی روز تک بحث جاری رہی۔ عقائد، مذہبی تشریحات، آئینی امور اور ریاستی ذمہ داریوں پر گفتگو ہوئی۔ متعلقہ فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ اراکینِ اسمبلی نے سوالات کیے، جوابات سنے اور پھر اس تمام عمل کے بعد فیصلہ سازی کے مرحلے میں داخل ہوئے۔ یہ پہلو اس واقعے کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پارلیمان صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں؛ پارلیمان سوال کرنے، سننے، بحث کرنے اور پھر فیصلہ کرنے کا نام ہے۔ 1974ء کا یہ باب اسی پارلیمانی عمل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تصور کیجیے، ایک ایسا ایوان جہاں سامنے صرف چند اراکین نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی نظریاتی حساسیت موجود ہو۔ ہر سوال کے پیچھے ایک تاریخی پس منظر، ہر جواب کے پیچھے ایک فکری مؤقف اور ہر دلیل کے پیچھے ایک آئینی سوال کھڑا ہو۔ یہ کسی معمولی قانون سازی کی بحث نہ تھی۔ یہ معاملہ مذہب، شناخت اور دستور کے سنگم پر کھڑا تھا۔ قادیانی قیادت کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان کے عقائد اور نظریات پر سوالات ہوئے اور ان کی جانب سے جوابات دیے گئے۔ دوسری طرف اراکینِ اسمبلی اور حکومتی قانونی ماہرین نے ان جوابات کا آئینی اور مذہبی تناظر میں جائزہ لیا۔ 5 اور 6 ستمبر کو اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے طویل بحث کو سمیٹتے ہوئے اراکین کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔ کئی روز کے مباحثے کا حاصل سامنے رکھا گیا اور معاملے کے قانونی و آئینی پہلوؤں کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب بحث کے دروازے بند اور فیصلے کا دروازہ کھل گیا۔ 7 ستمبر ایک طرف ماضی تھا، دوسری طرف مستقبل، اور درمیان میں پاکستان کا دستور۔ یہاں ایک بات شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ کسی تاریخی فیصلے کو یاد کرنا صرف اس لیے کافی نہیں کہ ہم اسے اپنے جذبات کی عینک سے دیکھیں۔ تاریخ کا اصل سبق اس وقت سامنے آتا ہے جب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ فیصلہ کن مراحل کن طریقہ ہائے کار سے گزر کر تشکیل پاتے ہیں۔ 7 ستمبر 1974ء ہمیں پارلیمانی عمل کی قوت بھی دکھاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ریاست کے بڑے فیصلے ایوانوں میں بحث کے ذریعے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آئین محض دفعات کا مجموعہ نہیں؛ یہ ریاستی نظم، شہری حقوق اور قومی ذمہ داریوں کے درمیان ایک بنیادی معاہدہ ہے۔ اسی لیے اس دن کو یاد کرتے ہوئے آئین کی وہی کتاب بھی سامنے رہنی چاہیے جس میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور شہری تحفظات کے اصول درج ہیں۔ فیصلہ اپنی جگہ، مگر قانون کی بالادستی اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ ریاست جب کسی گروہ کی آئینی حیثیت متعین کرتی ہے تو اس کے بعد اس گروہ کے شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک بھی ریاست ہی کی ذمہ داری بنتا ہے۔ اختلافِ عقیدہ، اختلافِ فکر اور شہری حقوق کے سوالات کو قانون کے دائرے میں رکھنا ہی ایک مہذب ریاست کی پہچان ہے۔  تاریخ کی بعض شامیں عجیب ہوتی ہیں۔ سورج ڈوبتا ہے مگر ایک واقعہ طلوع ہوجاتا ہے۔ 7 ستمبر 1974ء کی شام بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ گھڑی آگے بڑھتی رہی، مگر تاریخ پیچھے مڑ کر اس لمحے کو دیکھتی رہی۔ 4:35 پر صرف وقت نہیں بدلا تھا؛ پاکستان کے آئینی ریکارڈ میں ایک نئی سطر شامل ہوئی تھی۔  پھر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ نئی حکومتیں آئیں، نئی نسلیں پیدا ہوئیں، سیاسی ترجیحات بدلیں، معاشرتی حالات تبدیل ہوئے مگر آئین میں درج وہ فیصلہ اپنی جگہ قائم رہا۔ یہی تاریخ کا کمال ہے۔ انسان گزر جاتا ہے، تقریر ختم ہوجاتی ہے، ایوان خالی ہوجاتا ہے، مائیک خاموش ہوجاتے ہیں، اخبارات کے اگلے دن کے صفحات آ جاتے ہیں مگر دستور کی کتاب میں لکھی ہوئی سطر باقی رہتی ہے۔  آج جب ہم 7 ستمبر کو یاد کرتے ہیں تو شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ 1974ء میں کیا ہوا؟ وہ تاریخ کے صفحات بتا دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس تاریخ سے کیا سیکھا؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ حساس قومی معاملات جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل بھی مانگتے ہیں؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ پارلیمان میں اختلاف کے باوجود فیصلہ آئینی طریقے سے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ مذہبی جذبات کے ساتھ قانون کی پاسداری بھی لازم ہے؟ اور کیا ہم نے یہ سمجھا کہ کسی آئینی فیصلے کے بعد بھی ہر شہری کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری رہتا ہے؟  اگر ان سوالات کے جواب ہمارے پاس ہیں تو پھر 7 ستمبر محض ماضی کی ایک تاریخ نہیں رہتا؛ یہ مستقبل کے لیے ایک سبق بن جاتا ہے۔ قومیں اپنے ماضی کے چراغوں سے مستقبل کی راہیں روشن کرتی ہیں مگر چراغ کی روشنی تب ہی مفید ہوتی ہے جب وہ راستہ دکھائے، آنکھیں نہ جلائے۔ 7 ستمبر 1974ء بھی ہماری تاریخ کا ایک ایسا ہی چراغ ہے۔ اسے یاد کرنا ہمارے لیے اپنے آئینی سفر، پارلیمانی روایت اور مذہبی و قومی جذبات کی تاریخ کو سمجھنے کا موقع ہے۔ اس دن کے حوالے سے جذبات اپنی جگہ محترم ہیں مگر تاریخ کا تقاضا ہے کہ جذبات کے ساتھ علم بھی ہو، عقیدت کے ساتھ دلیل بھی ہو اور اختلاف کے ساتھ قانون کی پاسداری بھی کیونکہ تاریخ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ فیصلہ کب ہوا تھا۔ تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے کہ فیصلے کے بعد ہم نے اپنے معاشرے کو کیا بنایا؟ 7 ستمبر 1974ء کی گھڑی شاید رک گئی تھی مگر تاریخ کی گھڑی آج بھی چل رہی ہے۔ اور اس گھڑی کی ٹک ٹک ہم سے ایک ہی سوال کر رہی ہے: کیا ہم اپنے آئین، اپنے قانون اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟

 شاید کسی تاریخی دن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے معتبر طریقہ یہی ہے کہ ہم اس کے واقعے کو شور نہیں، شعور بنائیں، اسے نفرت نہیں، قانون کی بالادستی کا سبق بنائیں اور اسے ماضی کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری سمجھیں کیونکہ قومیں صرف تاریخ لکھتی نہیں، تاریخ کا بوجھ بھی اٹھاتی ہیں۔

یاسمین اختر طوبیٰ 16
Advertisement
Advertisement

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر، 100 روپے کا ریلیف کچھ سہولت دے گا: مصدق ملک

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کمی

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حتمی فیصلہ آج متوقع

سعودی عرب کے متعدد شہروں میں حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ، ہنگامی الرٹ جاری

نیکی کا پھل

پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت متعدد نامزد

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×