امریکا اور اسرائیل کا ایران پر ممکنہ حملے کا منصوبہ، کارروائی ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان
ایگزیوس کی رپورٹ میں دعویٰ، معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایرانی قیادت، توانائی کے شعبے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور، پاکستان سمیت پانچ ممالک مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم
واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں سے متعلق نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جاسکتے ہیں، جن کا دورانیہ تقریباً ایک ہفتہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع کیے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔ تاہم حملوں کے آغاز اور حتمی فیصلے سے متعلق کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایرانی قیادت اور اہم تنصیبات ممکنہ اہداف
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ کارروائی میں ایرانی قیادت، توانائی کے شعبے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مختلف امکانات زیر غور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر اور امریکی کمانڈر بریڈ کوپر کے درمیان حملوں کی تیاریوں سے متعلق رابطہ بھی ہوا ہے۔
تاہم ممکنہ اہداف اور فوجی کارروائی کی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
پاکستان سمیت پانچ ممالک مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم
رپورٹ کے مطابق قطر، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ان ممالک کی جانب سے سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو بات چیت کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر کام کیا جارہا ہے۔
ثالثی کی کوششوں میں ایران کو جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی دینے پر آمادہ کرنا بھی شامل ہے، تاکہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات پر پیش رفت ہوسکے۔
پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی زیر غور
ایگزیوس کے مطابق مذاکرات کی بحالی اور جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی کے بدلے امریکا کی جانب سے بعض پابندیوں میں نرمی کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
سفارتی کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات کو بہتر بنانا اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے۔
ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹ کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں اہم ہوگئی ہیں، تاہم امریکا، اسرائیل اور ایران کی جانب سے کسی حتمی معاہدے یا فوجی کارروائی کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آنے تک صورتحال غیر یقینی ہے۔









